سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ 73

حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ – حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ

51 / 100

حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ – حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ
الارکی بیوی ہونے کی وجہ سے لشکرمیں اس کی خاص حیثیت اوربڑی شان تھی،مزیدیہ کہ غزوۂ بدرکے موقع پراس کاباپ عتبہ بن ربیعہ ٗ چچا شیبہ بن ربیعہ ٗ اوربھائی ولیدبن عتبہ …جن کاشمارمکہ کے بڑے معززترین افرادمیں ہوتاتھا…تینوں ہی مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے(۱)اوراسی وجہ سے ہندکے دل ودماغ پرمسلمانوں سے انتقام کاجنون سوارتھا،لہٰذا اس جنگ کے موقع پرمسلمانوں کے خلاف وہ خوب سرگرمی کامظاہرہ کررہی تھی،مشرکینِ مکہ کے بڑے سرداروں کی بیگمات کی قیادت کرتے ہوئے وہ لشکرمیں گھوم پھرکرنہایت جوش وخروش کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی میں مصروف تھی۔اورپھرجنگ کے خاتمے کے بعدمسلمان شہداء کے درمیان گھوم پھرکروہ دیوانہ وارخوشی منارہی تھی…اسی دوران جب اس کی نظرحضرت حمزہؓ کے جسدمبارک پرپڑی تواس کی خوشی کی انتہاء نہ رہی،اورتب اس پرجنونی کیفیت طاری ہونے لگی،کیونکہ غزوۂ بدرکے موقع پراس کامغرورومتکبرباپ ’’عتبہ‘‘ حضرت حمزہ ؓکے ہاتھوں ہی ماراگیاتھا…لہٰذااب اس نے انتقام کی آگ بجھانے کی خاطروہاں اُحدکے میدان میں خوب زوروشورکے ساتھ اپنامکروہ وقبیح ترین کام شروع کردیا،اورانتہائی درندگی وسفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت حمزہؓ کے جسم سے مختلف اعضاء نوچ نوچ کرکاٹنے لگی،ناک کان کاٹے ، آنکھیں نکالیں ٗ پھربھی تسلی نہیں ہوئی …تب سینہ چاک کیا،کلیجہ نکالا،اوراسے چبانے لگی…نگلنے کی کوشش کرتی رہی،لیکن نگل نہیں سکی ،تب غصے میں اگل کروہاں سے چلتی بنی…اورجب اسے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت حمزہؓ کووحشی نے قتل کیاہے ٗ تووہ وحشی کوتلاش کرتی ہوئی اس کے پاس پہنچی اوراپنے گلے سے ہاراتارا،پھرکانوں سے بالیاں بھی اتاریں ، اوراپنے یہ قیمتی زیورات بطورِانعام وحشی کے حوالے کرتے ہوئے اسے یہ تاکیدکی ’’ان زیورات کوخوب سنبھال کررکھنا ٗکیونکہ یہ بہت ہی قیمتی ہیں ‘‘۔
رسول اللہ ﷺ جب حضرت حمزہؓ کوتلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچے ،اوران کایہ حال دیکھا،توآپ ﷺ انتہائی رنجیدہ ہوگئے،آپؐ کی آنکھوں سے آنسوبہنے لگے،مزیدیہ کہ اس موقع پرآپؐ کی ہچکیاں بھی سنی گئیں …جبکہ اس کے سواکسی اورموقع پرکبھی آپؐ کی ہچکیاں نہیں سنی گئیں ۔
وہاں آپؐ کے ہمراہ موجودصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے جب آپؐ کواس قدررنجیدہ وافسردہ دیکھاتووہ قسم کھاکرکہنے لگے ’’آئندہ اگرکبھی ہمیں ان مشرکینِ مکہ کے مقابلے میں فتح نصیب ہوئی توہم ان کاایسامُثلہ کریں گے کہ تاریخ میں مثال نہیں مل سکے گی‘‘(۱)
اورتب خودرسول اللہ ﷺ نے بھی یہ قسم کھائی: لَو ظَھَرْنَا عَلَیھِم لَنَُمَثِّلَنَّ بَثَلَاثِینَ رَجُلاً مِنھُم … یعنی’’اگرہمیں ان کے مقابلے میں فتح نصیب ہوئی توہم ان کے تیس آدمیوں کاایساہی مُثلہ کریں گے‘‘۔(۲)
اورتب آسمانوں سے …اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی:
{وَاِن عَاقَبتُم فَعَاقِبُوا بِمِثلِ مَا عُوقِبتُم بِہٖ وَلَئِن صَبَرتُم لَھُوَ خَیرٌ لِلصَّابِرِینَ وَاصْبِر وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللّہِ وَلَا تَحْزَن عَلَیھِم وَلَا تَکُ فِي ضَیْقٍ مِّمَّا یَمکُرُونَ اِنَّ اللَّہَ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوا وَالَّذِینَ ھُم مُحْسِنُونَ}(۳) ترجمہ:(اوراگرتم بدلہ لو ٗ توبالکل اتناہی جتناصدمہ تمہیں پہنچایاگیاہو،اوراگرصبرکرلو ٗ توبے شک صابرین کیلئے یہی بہترہے،آپ صبرکیجئے، اوربغیرتوفیق الٰہی کے آپ صبرکرہی نہیں سکتے،اوران کے حال پررنجیدہ نہوں ،اورجومکروفریب یہ کرتے ہیں ان سے تنگ دل نہوں ، یقین مانوکہ اللہ پرہیزگاروں اوراچھے کام کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔
ان آیات میں اولاً تویہ تنبیہ کی گئی کہ اگرانتقام لیناہوتومحض اتناہی لوکہ جتناتم پرظلم کیاگیا ہے، اس سے زیادہ ہرگزنہیں ۔اس کے ساتھ ہی یہ تعلیم بھی دے دی گئی کہ اگربالکل ہی انتقام نہ لو ٗ صبرسے کام لو ٗ تویہ بہت بہترہے۔اس کے بعد یہ تلقین کی گئی کہ صبرکادامن تھامے رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اللہ سے صبرکی توفیق طلب کی جائے،اس کی طرف سے توفیق شاملِ حال ہوگی توصبرنصیب ہوگا،ورنہ نہیں …اورپھرخالقِ ارض وسماء کی طرف سے ہمیشہ کیلئے یہ نسخہ بتادیاگیاکہ اللہ کی معیت ونصرت کی طلب وآرزوہے تو’’اللہ کاخوف‘‘ نیز’’اللہ کے بندوں کے ساتھ حسنِ سلوک‘‘کاراستہ اختیارکرو…تب جاکرتمہیں اللہ کی معیت ونصرت نصیب ہوسکے گی،اورجب اللہ کی معیت ونصرت جیسی عظیم ترین نعمت نصیب ہوجائے گی …توپھرغم کیسا…؟پھرانتقام کی آگ میں سلگناکیسا…؟ پھرتوکسی ’’انتقام‘‘یاکسی ’’مُثلہ‘‘کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی…
چنانچہ ان آیات میں خالقِ کائنات کی طرف سے ان توجیہات اورپاکیزہ تعلیمات کے نزول کے بعدرسول اللہ ﷺ نے اپنی اس قسم(یعنی مشرکینِ مکہ کامُثلہ کرنے کی قسم) کاکفارہ اداکیا…
اورپھرفتحِ مکہ کے تاریخی موقع پروہی تمام بڑے بڑے مجرم…جنہوں نے غزوۂ اُحدکے موقع پریہ اتنابڑاظلم کیاتھا…ناک ٗ کان کاٹے ٗ آنکھیں نکالیں ٗ سینہ چاک کیا ٗ کلیجہ نکالا ٗ اورچبانے کی کوشش کی …اورمحض یہی نہیں …بلکہ اس سے قبل تیرہ سالہ مکی دورمیں یہی لوگ مسلمانوں پرظلم وستم کے پہاڑتوڑتے رہے…آپ ﷺ نہایت محبت ٗ نرمی ٗ اور شفقت کے ساتھ انہیں دینِ برحق کی طرف دعوت دیتے رہے…آپ ﷺ تیرہ سال مسلسل ان پروعظ ونصیحت کے پھول برساتے رہے…جبکہ جواب میں یہ لوگ ہمیشہ پتھر ہی برساتے رہے تھے…آج یہی تمام لوگ مغلوب ومفتوح،ہاتھ باندھے اور سر جھکائیکھڑے تھے…بے بس اورلاچار… تب اس موقع پرآپ ﷺ نے انہی مذکورہ آیات میں اپنے رب کی طرف سے نازل فرمودہ تعلیمات وتوجیہات کے مصداق کے طورپر’’صبر‘‘اور’’عفوودرگذر‘‘کاایسامظاہرہ فرمایاتھاکہ ’’عفوودرگذر‘‘کے باب میں یقینا تمام تاریخِ عالَم اس جیسی کوئی اورمثال پیش کرنے سے ہمیشہ عاجزوقاصرہی رہے گی…
۳ھ؁ میں مدینہ منورہ کے مضافات میں واقع اُحدپہاڑکے دامن میں پیش آنے والے اس تاریخی غزوہ کے اختتام پررسول اللہ ﷺ کے انتہائی جلیل القدرصحابی ٗ آپؐ کے محترم ومکرم چچا ٗآپؐ کے رضاعی بھائی …اسداللہ واسدرسولہٖ…سیدالشہداء … حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کواُحدپہاڑکے دامن میں ہی ٗدیگرشہدائے اُحدکے ہمراہ سپردِ خاک کردیاگیا،بوقتِ شہادت ان کی عمر۵۸برس تھی۔
اللہ تعالیٰ سیدالشہداء حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ٗ ودیگرتمام شہدائے اُحدکے درجات جنت الفردوس میں بلندفرمائیں ، نیزہمیں وہاں اپنے حبیب ﷺ اورتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت ومعیت سے نوازیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں