حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ 107

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

62 / 100

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام کاایساروشن ستارہ ہیں کہ اس دنیامیں شایدہی کوئی مسلمان ہوگاجوان کے نام سے واقف نہو، خصوصاً جب بھی رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث کاتذکرہ ہوگاتوخودبخودذہن میں ان کانام ابھرنے لگے گاکہ شایدیہ حدیث انہی سے مروی ہوگی…
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد جب ابھی مکی دورہی چل رہاتھا،ہجرتِ مدینہ کی نوبت نہیں آئی تھی ، نبوت کاگیارہواں سال چل رہاتھا، تب وہاں مکہ میں طفیل بن عمروالدوسی (رضی اللہ عنہ)کی آمدہوئی تھی،جوکہ اُس وقت اپنے پرانے دین (یعنی)شرک پرہی قائم تھے، نیزجوکہ ایک مشہوراوربہت ہی طاقتورقبیلے ’’دَوس‘‘کے سردارتھے،یہ قبیلہ مکہ سے جنوب کی جانب ’’تہامہ‘‘نامی علاقے میں آبادتھا،جس کاکچھ حصہ آجکل حجاز(سعودی عرب) میں ٗ جبکہ دیگرکچھ حصہ ملکِ یمن میں ہے۔
طفیل بن عمروالدوسی(رضی اللہ عنہ )اُس وقت رسول اللہ ﷺ سے بہت متأثرہوئے تھے ، اورپھرمشرف باسلام ہوگئے تھے،اورتب مکہ مکرمہ سے اپنے علاقے ’’تہامہ‘‘کی جانب واپسی کے بعدانہوں نے وہاں اپنے قبیلے والوں کودینِ برحق کی طرف دعوت کاسلسلہ شروع کیاتھا۔
دعوتِ دین کے سلسلہ میں ان کی اس محنت وکوشش کے نتیجے میں ایک شخص ’’ابوہریرہ‘‘توفوراً ہی اس دعوتِ حق پرلبیک کہتے ہوئے مسلمان ہوگئے تھے،البتہ باقی افرادمیں سے اکثریت کی طرف سے ابتداء میں انہیں (یعنی طفیل کو) کافی مخالفت اورمزاحمت کاسامناکرناپڑاتھا، البتہ بعدمیں رفتہ رفتہ وہ لوگ بڑی تعدادمیں دینِ اسلام قبول کرتے چلے گئے تھے۔
اس کام میں کافی عرصہ لگ گیاتھا،حتیٰ کہ ہجرتِ مدینہ کے بھی مزیدچھ سال بعدسن سات ہجری میں (یعنی طفیل بن عمروالدوسی رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کے تقریباً سات یاآٹھ سال بعد) جن دنوں غزوۂ خیبرپیش آیاتھاٗ انہی دنوں طفیل بن عمروالدوسی (رضی اللہ عنہ) اپنے قبیلے میں سے دینِ اسلام قبول کرلینے والے افرادکی قیادت کرتے ہوئے (جوکہ ۸۰ گھرانوں پرمشتمل تھے) طویل مسافت طے کرتے ہوئے ’’تہامہ‘‘سے مدینہ آپہنچے تھے، تب ان کی آمدپررسول اللہ ﷺ نے نہایت مسرت کااظہارفرمایاتھا…اورانہی افرادمیں اسی قبیلے سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔
الغرض رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے گیارہویں سال ’’تہامہ‘‘میں آبادمشہور قبیلۂ دوس کے سردارحضرت طفیل بن عمروالدوسی رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام ٗاورپھران کی طرف سے اپنے قبیلے والوں کودعوتِ اسلام کے سلسلہ میں محنت وکوشش کے نتیجے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تھے،اورپھراپنے اسی سردار(حضرت طفیل ؓ)کی زیرِ قیادت ہی تہامہ سے سفرکرتے ہوئے ۷ھ؁ میں مدینہ پہنچے تھے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کااصل نام ’’عبدشمس‘‘تھا،یعنی سورج کابندہ۔دراصل اُس معاشرے میں قبل ازاسلام جوجہالت کی تاریکیاں ٗ نیزعقیدہ وایمان کے معاملے میں جوخرابیاں اورگمراہیاں چہارسوپھیلی ہوئی تھیں ٗانہی میں سے ایک گمراہی یہ بھی تھی کہ وہ لوگ سورج کی تعظیم کیاکرتے تھے،اوراسی وجہ سے ان میں ’’عبدشمس‘‘نام عام تھا۔
لیکن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جب حاضری ہوئی توآپؐ نے ان کانام ’’عبدشمس‘‘ سے بدل کر’’عبدالرحمن‘‘رکھدیاتھا۔
البتہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے نام ’’عبدالرحمن ‘‘کی بجائے اپنی کنیت ’’ابوہریرہ‘‘ سے ہمیشہ کیلئے مشہورہوگئے،’’ہریرہ‘‘کے معنیٰ ہیں ’’بلی‘‘دراصل ان کی ایک بلی تھی ، جوانہیں بہت ہی پیاری تھی،اکثراسے اپنے ساتھ ہی رکھتے تھے،لہٰذااسی نسبت سے ’’ابوہریرہ‘‘یعنی ’’بلی والے‘‘ مشہورہوگئے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ھ؁میں جب پہلی باراپنے علاقے تہامہ سے مدینہ آئے ٗ تب یہ اٹھائیس سال کے جوان تھے۔اس کے بعدسے انہوں نے خودکورسول اللہ ﷺ کی صحبت ومعیت ٗ علمی استفادہ ٗ کسبِ فیض ٗ اوراللہ کادین سیکھنے کیلئے مکمل طورپروقف کردیا۔
چونکہ اُس وقت تک ان کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی ٗ لہٰذاکوئی گھریلوذمہ داری بھی نہیں تھی،اس لئے ’’مسجدِنبوی‘‘ کواپنامستقل ٹھکانہ بنایا،مسجدسے بالکل متصل ہی ایک ’’صفہ‘‘ یعنی چبوتراتھا،جہاں غریب اورمسکین قسم کے مسلمان مقیم رہتے تھے،جنہوں نے اپنی زندگیاں کسبِ فیض اورتحصیلِ علمِ دین کی خاطروقف کررکھی تھیں ،ان کی رہائش گاہ بھی وہی تھی ٗعبادت گاہ بھی وہی تھی ٗاوردرس گاہ بھی وہی تھی،اوران کے استاداورمعلم ومربی خود رسول اللہ ﷺ تھے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی مسجدِنبوی سے متصل اس ’’صفہ‘‘کواپنامسکن بنایا، اور شب وروزاللہ کی عبادت میں ٗ نیزتحصیلِ علمِ دین میں مشغول ومنہمک رہنے لگے،چونکہ اہل وعیال توتھے نہیں ٗ لہٰذافرصت بھی خوب میسرتھی۔
البتہ ان کی صرف ایک عمررسیدہ ماں تھیں ٗ جن کانام ’’اُمیمہ‘‘تھا،اوروہ دینِ نصرانیت کی پیروکارتھیں ،،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت کوشش کیاکرتے تھے کہ ان کی والدہ بھی دینِ اسلام قبول کرلیں ،لیکن ان کی والدہ اپنادین ترک کرنے پرکسی صورت آمادہ نہیں تھیں ، جس پرابوہریرہؓ بہت ہی دکھی اورپریشان رہاکرتے تھے،اورہمیشہ بڑی ہی محبت اور احترام کے ساتھ انہیں دینِ اسلام قبول کرلینے کی دعوت دیاکرتے تھے۔
انہی دنوں ایک روزجب حضرت ابوہریرہ ؓنے حسبِ معمول اپنی والدہ کودینِ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ٗ تویہ دعوتِ حق قبول کرنے کی بجائے وہ کافی ناراض ہوگئیں ،مزیدیہ کہ اس موقع پرانہوں نے کوئی نامناسب بات بھی کہی…جس پرابوہریرہؓ کوبہت ہی صدمہ ہوا، فوراًوہاں سے روانہ ہوئے ،اورزاروقطارروتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے،رسول اللہ ﷺ نے جب ان کی یہ کیفیت دیکھی تودریافت فرمایاکہ ’’اے ابوہریرہ ! آپ کیوں رورہے ہیں ؟‘‘تب جواب میں انہوں نے آپؐ کے سامنے تمام ماجرا سنا ڈالا…اورپھرگلوگیرآوازکے ساتھ عرض کیاکہ ’’اے اللہ کے رسول!آپ میری والدہ کیلئے دعاء کیجئے کہ اللہ ان کے دل کودینِ اسلام کی طرف راغب کردے‘‘۔تب آپؐ نے ان کی والدہ کیلئے ہدایت کی دعاء فرمائی۔
اس کے بعدحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ واپس گھرکی طرف چل دئیے،وہاں پہنچ کر دیکھاکہ گھرکادروازہ بندہے،اورکچھ پانی بہنے کی آوازبھی سنائی دے رہی تھی،جیسے نہاتے دھوتے وقت پانی کی آوازآیاکرتی ہے…اورجب یہ اندرداخل ہونے لگے تواندرسے والدہ کی آوازآئی جو کہہ رہی تھیں ’’ابوہریرہ!اسی جگہ رکے رہو،ابھی اندرمت آنا‘‘ تب یہ وہیں رک گئے،پھرکچھ دیربعدآوازآئی ’’ابوہریرہ!اب اندرچلے آؤ‘‘تب یہ اندرچلے گئے۔
جونہی اندرداخل ہوئے تودیکھاکہ ان کی والدہ نے نہادھوکرصاف ستھرے کپڑے پہن رکھے ہیں ،اورانہیں دیکھتے ہی انہوں نے بآوازِبلندیہ الفاظ کہے: أشہدأن لاالٰہ الااللہ، وأشہدأن محمداًرسول اللہ‘‘۔
والدہ کی زبان سے یہ الفاظ سنتے ہی ابوہریرہؓ کی خوشی کاکوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا… بے اختیارآنکھوں سے آنسوبہنے لگے…اب دوبارہ فوراًاسی وقت پلٹے اوررسول اللہ ﷺ کو اس چیزکی اطلاع دینے کی غرض سے روانہ ہوگئے…
ابوہریرہ ؓ ابھی کچھ ہی دیرقبل بھی اسی راستے پرچلتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تھے،تب بھی ان کی آنکھوں سے آنسوبہہ رہے تھے…اوراب دوبارہ اسی راستے پررواں دواں تھے،اوراب بھی آنکھوں سے آنسورواں تھے،البتہ پہلی باروہ غم کے آنسوتھے…اوراس بار یہ خوشی کے آنسوتھے…اورپھراسی کیفیت میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں پہنچے …بہتے ہوئے آنسؤوں اوربھیگی پلکوں کے ساتھ یہ خوشخبری سنائی ، اوربڑے ہی جذباتی اندازمیں یوں کہنے لگے’’اے اللہ کے رسول!اللہ نے آپ کی دعاء قبول فرمالی…میری والدہ مسلمان ہوچکی ہیں ‘‘جس پرآپؐ نے نہایت ہی مسرت کااظہارفرمایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں