حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ 0

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ – طلبِ علم میں خاص رغبت واہتمام

50 / 100

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ – طلبِ علم میں خاص رغبت واہتمام
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ھ؁میں جب اپنے علاقے ’’تہامہ‘‘سے طویل مسافت طے کرنے کے بعدمدینہ پہنچے تھے …اس کے بعدسے مسلسل رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کااس قدرگہرااورقلبی تعلق تھاکہ گویاآپؐ کی محبت وعقیدت ان کے رگ وپے میں سماگئی تھی…لہٰذااٹھتے بیٹھتے ٗ گھومتے پھرتے ٗ ہمہ وقت بس سائے کی طرح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی رہتے تھے۔
نیزجس طرح رسول اللہ ﷺ کی محبت وعقیدت ان کے سراپامیں سرایت کرچکی تھی…اسی طرح آپؐ سے استفادہ ٗ کسبِ فیض ٗاوردینی علم حاصل کرنے کاجذبہ بھی اس قدرشدیدتھا کہ بس اسی چیزکوانہوں نے اپنااوڑھنابچھونا ٗ اپناشیوہ وشعارٗ اپنانصب العین ٗ اوراپنا مقصدِ زندگی بنالیاتھا۔
انصارِمدینہ میں سے مشہورصحابی حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ (۱) فرماتے ہیں کہ: (بَینَا أنَا وَ أبُوھُرَیرَۃ وَصَاحِبٌ لِي فِي المَسجِدِ ، نَدعُو اللّہَ تَعالیٰ وَنَذْکُرُہ ، اِذ طَلَعَ عَلَینَا رَسُولُ اللّہِ ﷺ ، وَ أقبَلَ نَحْوَنَا ، حَتّیٰ جَلَسَ بَینَنَا ، فَسَکَتْنَا ، فَقَالَ : عُودُوا اِلَیٰ مَا کُنْتُم فِیہ ، فَدَعَوْتُ اللّہَ تَعَالَیٰ أنَا وَصَاحِبِي قَبلَ أبِي ھُرَیرَۃ ، وَجَعَلَ الرّسُولُ ﷺ یُؤمِّنُ عَلَیٰ دُعَائِنَا ، ثُمّ دَعَا أبوھُرَیرَۃ فَقَالَ : اللّھُمّ اِنِّي أسأَلُکَ مَا سَألَکَ صَاحِبَايَ ، وَأسألُکَ عِلماً لَا یُنسَیٰ ، فَقَالَ : آمِین ، فَقُلنَا : وَنَحنُ نَسألُ اللّہَ عِلماً لَا یُنسَیٰ ، فَقَالَ : سَبَقَکُم بِھَا الغُلَامُ الدَّوسِي) (۲)
یعنی’’ایک بارجب میں ٗ اورابوہریرہ ٗ نیزمیراایک اورساتھی ٗ ہم مسجدمیں بیٹھے ہوئے اللہ سے دعاء اوراس کے ذکرمیں مشغول تھے ٗ کہ اس دوران رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لائے اورہماری ہی طرف چلے آئے،حتیٰ کہ ہمارے ساتھ بیٹھ گئے،تب ہم خاموش ہوگئے،آپؐ نے فرمایا’’تم لوگ جس کام میں مشغول تھے اپناوہی کام جاری رکھو‘‘تب میں نے اورپھرمیرے ساتھی نے ابوہریرہ سے پہلے اللہ سے دعاء مانگی ،رسول اللہ ﷺ ہماری دعاء پرآمین کہتے رہے، اس کے بعدابوہریرہ یوں دعاء مانگنے لگے’’اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں وہ چیزجومجھ سے قبل میرے یہ دونوں ساتھی تجھ سے مانگ چکے ہیں ، اور(مزیدیہ کہ) میں تجھ سے مانگتاہوں ایساعلم جسے میں کبھی نہ بھولوں ،اس پررسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آمین‘‘تب ہم دونوں نے بھی یہی الفاظ کہے کہ ’’ہم بھی اللہ سے مانگتے ہیں ایساہی علم جسے ہم کبھی نہ بھولیں ‘‘ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اس بارے میں بس یہ دَوسی نوجوان تم پرسبقت لے جاچکا‘‘۔
مقصدیہ کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ سے وہ چیزیں بھی مانگ لیں جوان سے قبل ان کے دونوں ساتھیوں نے مانگی تھیں …اورپھرمزیدیہ کہ بطورِخاص اللہ سے ایساعلم مانگاجوکبھی ذہن سے اوریادداشت سے محو نہو سکے ، یعنی جسے وہ کبھی نہ بھولیں ،ہمیشہ ہی یادرہے اورمحفوظ رہے…مقصدیہ کہ انہوں نے بطورِخاص ’’علم‘‘میں ترقی واضافہ کی دعاء مانگی ، جس سے ان کی تحصیلِ علم میں خاص دلچسپی اوربہت زیادہ رغبت ظاہرہوتی ہے…
مزیدیہ کہ ان کی اس دعاء پررسول اللہ ﷺ نے ’’آمین‘‘کہا۔اوروہی قبولیت کی کوئی خاص گھڑی تھی ،لہٰذاجب دوسرے دونوں حضرات نے یہی دعاء مانگی ٗتورسول اللہ ﷺ نے ’’آمین‘‘کہنے کی بجائے یہ ارشادفرمایا’’یہ دَوسی نوجوان تم پرسبقت لے گیا‘‘(دَوسی نوجوان ٗ یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ ، کیونکہ ان کاتعلق قبیلۂ ’’دَوس‘‘سے تھا ٗجوکہ ’’تہامہ‘‘میں آبادتھا)۔
تحصیلِ علم کے بارے میں ٗنیزاللہ کادین سیکھنے اورسکھانے ٗ اورپھراس کے مطابق اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے احکام کی تعمیل اوراطاعت وفرمانبرداری کے معاملے میں ٗ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کایہ بے مثال جذبہ ٗ یہ شوق ٗیہ رغبت ٗاوراس قدراہتمام والتزام، یہ سب کچھ محض ان کی اپنی ذات تک ہی محدودنہیں تھا…بلکہ ان کے دل میں یہی جذبہ دوسروں کے بارے میں بھی ہمیشہ موجزن رہتاتھا،دوسروں کے بارے میں بھی انہیں یہی فکردامن گیررہتی تھی …کہ کاش سبھی لوگ اسی طرح اس معاملے میں رغبت ٗ ذوق وشوق اور بلندہمتی کامظاہرہ کیاکریں …
چنانچہ ایک بارحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کامبارک دورگذرنے جانے کے بعد) جب مدینہ کے کسی بازارسے گذررہے تھے،اُس وقت وہاں خوب رونق تھی ، خریدوفروخت کاسلسلہ بڑے عروج پرتھا…یہ منظردیکھ کرحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی جگہ رُک گئے،کچھ پریشانی کاشکارہوگئے،اورسوچنے لگے کہ ’’یہ سب لوگ کس طرح زور وشور کے ساتھ بس دنیاکمانے میں مشغول ومنہمک ہیں …‘‘
کچھ دیراسی طرح خاموش کھڑے ہوئے ان کی جانب دیکھتے رہے…اورپھرقدرے توقف کے بعدانہیں مخاطب کرتے ہوئے بآوازِبلندیوں کہنے لگے’’اے مدینہ والو!کس قدرپست ہمت ہوتم لوگ‘‘
وہاں موجودسبھی لوگ تعجب سے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے،اورپھران کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولے’’اے ابوہریرہ!آپ کوہماری طرف سے کیاپست ہمتی نظرآئی ہے؟‘‘
حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا’’رسول اللہ ﷺ کی میراث تقسیم ہورہی ہے،اورتم لوگوں کوکوئی احساس ہی نہیں کہ جاکراپناحصہ وصول کرلو؟‘‘
وہ کہنے لگے’’اے ابوہریرہ !ہمیں بتائیے ،رسول اللہ ﷺ کی میراث کہاں تقسیم ہورہی ہے؟‘‘
حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا’’مسجدمیں تقسیم ہورہی ہے‘‘
تب بہت سے تاجراپنی تجارت چھوڑکرمسجدِنبوی کی طرف چل دئیے،جبکہ حضرت ابوہریرہ ؓ وہیں کھڑے ہوئے ان کی واپسی کاانتظارکرنے لگے۔اورپھرکچھ ہی دیربعدجب وہ لوگ مسجدسے واپس آئے اورابوہریرہؓکودیکھاٗ توکہنے لگے’’اے ابوہریرہ!ہمیں تومسجدمیں کہیں کوئیمیراث تقسیم ہوتی ہوئی نظرنہیں آئی‘‘
حضرت ابوہریرہ نے فرمایا’’توپھربتاؤوہاں تمہیں کیانظرآیا؟‘‘
وہ کہنے لگے’’ہم نے تووہاں بس یہ منظردیکھاکہ کوئی نمازپڑھ رہاہے ، کوئی تلاوتِ قرآن میں مشغول ہے، اورکچھ لوگ حلال وحرام کے بارے میں دینی مسائل اورشرعی احکام سیکھنے سکھانے میں مشغول ہیں ‘‘
اس پرحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا’’یہی تورسول اللہ ﷺ کی میراث ہے‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں