سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 8

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – ہجرتِ مدینہ

52 / 100

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – ہجرتِ مدینہ
نبوت کے تیرہویں سال کے آخری ایام میں جب ہجرت کاحکم نازل ہواتومسلمان بڑی تعدادمیں مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرگئے،مختلف گروہوں اورٹولیوں کی شکل میں بھی …نیزاِکادُکا بھی …جس کانتیجہ یہ ہواکہ رفتہ رفتہ مکہ مسلمانوں سے خالی ہوگیا،اب محض مجبوراورمحبوس قسم کے لوگ ہی مکہ میں رہ گئے تھے ، یعنی وہ لوگ جوکسی کی قیدمیں تھے ، یاجوغلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ البتہ تین افرادایسے تھے کہ جونہ تومحبوس تھے اورنہ ہی مجبور…لیکن اس کے باوجودوہ تاہنوزمکہ میں ہی مقیم تھے،یعنی خودرسول اللہ ﷺ ، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ،نیزحضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، اوراس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ تواب تک اپنے اللہ کی طرف سے ’’اجازت‘‘کے منتظرتھے،جبکہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کواب تک آپ ﷺ نے خودروک رکھا تھا۔
البتہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اس دوران متعددبارآپؐ سے ’’ہجرت‘‘کی اجازت طلب کرچکے تھے، لیکن ہربارآپؐ انہیں یہی جواب دیتے کہ : لَا تَعْجَل یَا أبَا بَکر! لَعَلَّ اللّہَ یَجْعَلُ لَکَ صَاحِباً یعنی ’’اے ابوبکر! جلدی نہ کرو، شایداللہ تمہارے لئے کسی ہمسفرکاانتظام فرمادے…‘‘ اورتب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ حسرت پیدا ہوتی کہ شایدوہ ’’ہمسفر‘‘خودرسول اللہ ﷺ ہی ہوں …
اورپھرایک روزجب آپؐ اچانک اور خلافِ معمول تپتی ہوئی دوپہرمیں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھرتشریف لائے اورانہیں مطلع فرمایا کہ آج سفرِہجرت پرروانگی ہوگی… تب حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: الصُحْبَۃ یا رسُولَ اللّہ؟ یعنی ’’اے اللہ کے رسول! اس سفرمیں کیامیں آپ کے ہمراہ چلوں ؟‘‘ آپ ﷺ نے جواب میں ارشادفرمایا: نَعَم ، الصُحْبَۃ یا أبَا بَکر۔ یعنی ؛’’ہاں اے ابوبکر!اس سفرمیں تم میرے ’’ہمسفر‘‘ ہوگے‘‘۔ اورتب فرطِ مسرت کی وجہ سے ابوبکرؓ اپنے جذبات پرقابونہ رکھ سکے… ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے ،اورابوبکرؓکی آنکھوں سے آنسوبہنے لگے…!!
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااُس وقت یہ تمام منظردیکھ رہی تھیں … وہ فرماتی ہیں کہ اُس روزجب میں نے اپنے والد (ابوبکرؓ) کوفرطِ مسرت سے روتے ہوئے دیکھا… تواُس وقت زندگی میں پہلی بارمجھ پریہ حقیقت منکشف ہوئی کہ انسان جس طرح بہت زیادہ غم اورصدمے کے وقت روتاہے ، اسی طرح بہت زیادہ خوشی کے وقت بھی روتاہے… انسان کی آنکھوں سے بہنے والے یہ آنسوکبھی ’’غم کے آنسو‘‘ ہواکرتے ہیں ، اورکبھی ’’خوشی کے آنسو‘‘،اس سے قبل مجھے اس بات کاعلم نہیں تھا‘‘۔
اورپھرآپ ﷺ اپنے ’’رفیقِ سفر‘‘کوچندضروری ہدایات دینے کے بعد اپنے گھرواپس تشریف لے آئے۔
اورجب رات ہوئی ، ہرطرف اندھیراچھاگیا،تب رؤسائے قریش کی طرف سے مقررکردہ مسلح نوجوانوں کاایک چاق وچوبنددستہ وہاں آپہنچا،اورآتے ہی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے گھرکامحاصرہ کرلیا،تاکہ آپؐ حسبِ معمول جب رات کے آخری پہرعبادت کی غرض سے بیت اللہ کی جانب روانگی کیلئے گھرسے نکلیں گے تب یہ سب یکبارگی آپؐ پرٹوٹ پڑیں گے…!
اُس رات رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوحکم دیاکہ’’ اے علی! آج رات تم میرے بسترپرسوجاؤ اورمیری چادراوڑھ لو‘‘۔
اورپھررات کے آخری پہررسول اللہ ﷺ قرآن کریم کی آیت : {وَجَعَلْنَا مِن بَینِ أیْدِیْھِم سَدّاً وَّ مِن خَلْفِھِم سَدّاً فَأغشَینَاھُم فَھُم لَا یُبْصِرُونَ} (۱) پڑھتے ہوئے اپنے گھرسے باہرتشریف لائے ، اپنی مٹھی میں کچھ خاک لی ، اورپھونک مارکراسے ان مسلح نوجوانوں کی جانب اُڑادیا،اورنہایت اطمینان کے ساتھ ان کی نگاہوں کے سامنے سے گذرگئے… لیکن نہ توانہیں کچھ نظرآیا،اورنہ ہی انہیں کچھ علم ہوسکا، اوروہ رات بھراس اطمینان کے ساتھ وہاں پہرہ دیتے رہے کہ آپ ﷺ اندراپنے گھرمیں موجود ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ اُس رات اپنے گھرسے روانگی کے بعدسیدھے اس شخص کے گھرپہنچے کہ جس پراُس وقت آپ ﷺ کوسب سے زیادہ بھروسہ تھا،یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، اورپھرفوراًہی وہ دونوں رات کی تاریکی میں گھرکے عقبی دروازے سے نکل کرایک نئی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔
مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے شمال کی جانب واقع ہے،لیکن یہ دونوں حضرات بالکل مخالف سمت میں یعنی جنوب(ملکِ یمن) کی طرف چل دئیے،رات کے اندھیرے میں دشوارگذار پہاڑی راستوں پرکہ جہاں ہرطرف نوکیلے سنگ ریزوں کی بھرمارتھی… دونوں مسلسل پاپیادہ چلتے رہے، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کبھی رسول ﷺ کے آگے چلتے، کبھی پیچھے، کبھی دائیں ، اورکبھی بائیں ، یوں وہ بارباراپنی جگہ تبدیل کرتے، گویابڑی بے چینی میں مبتلاہوں … آپؐ نے ان کی یہ کیفیت دیکھی تودریافت فرمایاکہ اے ابوبکر!کیابات ہے؟ اس پرابوبکرؓنے جواب دیا: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے کبھی یہ اندیشہ ہونے لگتاہے کہ ایسانہوکہ کوئی دشمن سامنے کہیں چھپا بیٹھا ہو اوروہ اچانک سامنے سے ظاہرہوکرآپ کوکوئی نقصان پہنچائے،اس لئے میں آپ کے آگے آگے چلنالگتاہوں ،اورپھریہ اندیشہ ہونے لگتاہے کہ ایسانہو کوئی تعاقب کرنے والا کہیں پیچھے سے اچانک آجائے ،یہ سوچ کرمیں آپ کے پیچھے آجاتاہوں ،پھریہ فکرستانے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہوکہ دائیں یابائیں کوئی دشمن گھات لگائے بیٹھاہو…اس لئے میں کبھی آپ کے دائیں چلنے لگتاہوں اورکبھی آپ کے بائیں …!!
اسی کیفیت میں یہ دونوں حضرات مسلسل چلتے رہے… یہاں تک کہ تقریباً پانچ میل(یعنی تقریباًآٹھ کلومیٹر) کی مسافت پیدل طے کرنے کے بعدایک انتہائی بلندوبالاپہاڑکے دامن میں پہنچے ،اورانتہائی کٹھن اورمشکل ترین راستہ طے کرتے ہوئے اس کی چوٹی پرواقع ایک غارکے سامنے جاپہنچے جوکہ ’’غارِثور‘‘کے نام سے معروف ہے۔
اس غارکے دہانے پرپہنچنے کے بعدحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ ! آپ یہیں توقف فرمائیے، پہلے میں اکیلااندرجاکرغارکاجائزہ لے لوں … کہیں ایسانہوکہ پہلے سے ہی وہاں کوئی دشمن چھپابیٹھاہو…چنانچہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ تنہااندرگئے،اچھی طرح جائزہ لیا، اورکچھ صفائی وغیرہ بھی کی ، اِدھراُدھرچندچھوٹے بڑے سوراخ نظرآئے ، حضرت ابوبکرؓکویہ اندیشہ لاحق ہواکہ کہیں ان سوراخوں میں کوئی موذی جانورنہو،کہ جورسول اللہ ﷺ کیلئے تکلیف واذیت کاباعث بن جائے … یہ سوچ کر انہوں نے اپنے لباس سے کچھ کپڑاپھاڑکراس کے ذریعے ان سوراخوں کوبندکردیا، اور پھرباہرآکررسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گذارش کی کہ’’ یارسول اللہ!اب آپ اندر تشریف لے آئیے‘‘۔ جس پرآپ ﷺ غارکے اندرتشریف لے آئے،اوراس کے بعدیہ دونوں حضرات اس غارمیں تین دن مقیم رہے۔
اُدھرمکہ شہرسے ان دونوں حضرات کی خفیہ روانگی کے بعداب نہایت زوروشورکے ساتھ تعاقب اورتلاش کاسلسلہ شروع ہوگیا …ہرکوئی نہایت سرگرمی کے ساتھ اسی کام میں سرگرداں ہوگیا۔آخرایک بارایساموقع بھی آیاکہ یہ لوگ تعاقب کرتے کرتے اُس غارکے دہانے پرجاپہنچے کہ جس میں وہ دونوں حضرات پناہ لئے ہوئے تھے، حتیٰ کہ ان کی آوازیں اوران کی باہمی گفتگوغارکے اندرسنائی دینے لگی۔اس قدرنازک ترین صورتِ حال کی وجہ سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پریشان ہوگئے،اورعرض کیاکہ ’’اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی کوئی فکرنہیں ہے، البتہ مجھے یہ غم کھائے جارہاہے کہ کہیں آپ کوکوئی تکلیف نہ پہنچے، کیونکہ اگرآپ کوکچھ ہوگیاتوپھرپوری امت کاکیا بنے گا…؟‘‘یعنی یہ توپوری امت کا خسارہ ہوگا، تب آپ ﷺ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے ارشادفرمایا: مَا ظَنُّکَ یَا أبَا بَکْر بِاثْنَیْن ، اَللّہُ ثَالِثُھُمَا؟ یعنی’’اے ابوبکر!ایسے دوانسان کہ جن کے ساتھ تیسراخوداللہ ہو ٗ ان کے بارے میں تمہاراکیاگمان ہے؟‘‘ مقصدیہ کہ ہم محض دونہیں ہیں ، بلکہ ہمارے ساتھ اللہ کی معیت ونصرت بھی شاملِ حال ہے، لہٰذافکرکی کوئی بات نہیں ۔
اسی واقعے کی طرف قرآن کریم میں اس طرح اشارہ کیاگیاہے: {اِلّا تَنصُرُوہُ فَقَد نَصَرَہُ اللّہُ اِذ أخْرَجَہُ الَّذِینَ کَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَینِ اِذ ھُمَا فِي الغَارِ اِذ یَقُولُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَن اِنَّ اللّہَ مَعَنَا} (۱) ترجمہ:(اگرتم ان(نبی ﷺ ) کی مددنہیں کروگے ٗ تواللہ نے ہی ان کی مددکی اُس وقت جبکہ انہیں کافروں نے نکال دیاتھا ٗ دومیں سے دوسرا ٗ جبکہ وہ دونوں غارمیں تھے ، جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے)
رسول اللہ ﷺ ٗ نیزآپؐ کے ہمسفریعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ٗ دونوں تین دن تین رات مسلسل اس غارمیں مقیم رہے، اس کے بعدوہاں سے آگے منزلِ مقصودیعنی مدینہ کی جانب روانگی ہوئی ،طویل سفر کے بعدآخریہ دونوں حضرات نبوت کے چودہویں سال، بتاریخ ۸/ربیع الاول ،بروزپیر،مدینہ کے مضافات میں پہنچ گئے۔
اس یادگاراوراہم ترین سفرکے موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے جس طرح رسول اللہ ﷺ کی خدمت وپاسبانی کافریضہ سرانجام دیا…یقیناوہ تاریخِ اسلام کا ناقابلِ فراموش باب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں