سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 0

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – سادگی وانکسار

51 / 100

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – سادگی وانکسار
خلافت کے عظیم ترین منصب پرفائزہونے کے باوجودصدیق اکبررضی اللہ عنہ کی سادگی اورانکسارکایہ عالم تھا کہ ہمیشہ خدمتِ خلق میں مشغول ومنہمک رہاکرتے،خوداپنے ہاتھوں سے بلاجھجک دوسروں کے روزمرہ کے کام کاج کردیاکرتے،بیکسوں کی دستگیری اور ضرورتمندوں کی خبرگیری کوانہوں نے تاحیات اپنا شیوہ وشعاربنائے رکھا۔
حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
کُنتُ اَفتَقِد أبَا بَکر أیَّامَ خِلافَتِہٖ بَینَ فَترَۃٍ وأُخرَیٰ ، فَلَحِقتُہُ یَوماً ، فَاِذَا ھُوَ بِظَاھِرِالمَدِینَۃِ ۔ أي خَارِجَھَا۔ قَد خَرَجَ مُتَسَلِّلاً ، فَأدرَکتُہُ ، وَقَد دَخَلَ بَیتاً حَقِیراً فِي ضَوَاحِي المَدِینَۃِ ، فَمَکَثَ ھُنَاکَ مُدَّۃً ، ثُمَّ خَرَجَ وَعَادَ اِلَیٰ المَدِینَۃِ ، فَقُلتُ لَأدخُلَنَّ ھٰذَا البَیتَ فَدَخَلتُ ، فَاِذَا امرَأَۃٌ عَجُوزٌ عَمیَائُ ، وَحَولَھَا صِبیَۃٌ صِغَارٌ ، فَقُلتُ یَرحَمُکِ اللّہُ یا أمَۃَ اللّہ ، مَن ھٰذَا الرَّجُلُ الَّذِي خَرَجَ مِنکُم الآن؟ قَالَت: اِنَّہٗ لَیَتَرَدَّدُ عَلَینَا ، وَوَاللّہِ اِنِّي لَا أعرِفُہٗ ، فَقُلتُ: فَمَا یَفعَل؟ فَقَالَت: اِنَّہٗ یَأتِياِلَینَا ، فَیَکنِسُ دَارَنَا ، وَیَطبَخُ عَشَائَنَا ، وَ یُنَظِّفُ قُدُورَناَ ، وَ یَجلِبُ لَنَا المَائَ ، ثُمَّ یَذھَبُ ۔
یعنی:’’ ابوبکررضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کے دوران میں ان کے معمولات کا جائزہ لیا کرتاتھا۔ چنانچہ ایک روزمیں نے انہیں خاموشی کے ساتھ مدینہ شہرسے باہرکی جانب روانہ ہوتے دیکھا،میں بھی ان کے پیچھے ہولیا،ایک مضافاتی بستی میں پہنچنے کے بعدوہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں داخل ہوگئے، اورپھرکچھ وقت گذرنے کے بعدوہاں سے نکلے اور واپس مدینہ شہرکی طرف چل دئیے…تب میں نے سوچاکہ میں بھی ذرہ اس جھونپڑی میں جاکردیکھوں ،اورپھرمیں اس جھونپڑی میں جاپہنچا،وہاں میں نے دیکھاکہ ایک نابینا بڑھیا ہے،اوراس کے ہمراہ چندچھوٹے بچے بھی ہیں ۔میں نے اس بڑھیاسے دریافت کیا’’اے اللہ کی بندی! اللہ تم پر رحم فرمائے، یہ شخص کون تھا جوابھی کچھ دیرقبل تمہاری جھونپڑی سے نکل کرگیاہے؟ ‘‘ بڑھیانے جواب دیا’’یہ شخص یہاں اکثرآیاکرتاہے،لیکن ہمیں نہیں معلوم یہ کون ہے‘‘۔ تب میں نے کہا’’اچھا!یہ بتاؤ،یہ شخص یہاں آکرکیاکرتاہے؟‘‘ اس پر بڑھیا نے کہا’’یہ ہماری اس جھونپڑی میں جھاڑولگاتاہے،صفائی کرتاہے،ہمارے لئے پانی بھرتاہے،ہمارے لئے کھانابھی تیارکرتاہے،اورپھرہمارے برتن مانجھتاہے، اوربس… واپس چلاجاتاہے‘‘۔
حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب خلیفۂ وقت ٗنیزرسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین ٗصدیقِ اکبررضی اللہ عنہ کی یہ ’’عظمت‘‘دیکھی ، اوراس ضعیف ونابینابڑھیا کی زبانی یہ تمام گفتگوسنی…تو ان کی آنکھوں سے بے اختیارآنسوبہنے لگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں