سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 99

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – رسول اللہﷺ کی رحلت کے موقع پر

49 / 100

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – رسول اللہﷺ کی رحلت کے موقع پر

رسول اللہ ﷺ کی رحلت اوراس جہانِ فانی سے رخصتی کا سانحہ یقیناتمام مسلمانوں کیلئے بہت ہی بڑاصدمہ تھا، جیساکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مَا رَأیتُ یَوماً قَطُّ کَانَ أحسَنَ وَلَا أضوَأَ مِن یَومٍ دَخَلَ عَلَینَا فِیہِ رَسُولُ اللّہِ ﷺ وَمَا رَأیتُ یَوماً أقبَحَ وَلَا أظلَمَ مِن یَومٍ مَاتَ فِیہِ رَسُولُ اللّہِ ﷺ (۱) یعنی’’میں نے مدینہ شہرمیں کبھی کوئی ایسا خوشگواراورروشن دن نہیں دیکھاکہ جیسارسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے موقع پرتھا،اسی طرح میں نے مدینہ شہرمیں کبھی اس قدر سوگوار اوربجھاہوا دن نہیں دیکھاکہ جیسارسول اللہ ﷺ کی وفات کے موقع پرتھا‘‘۔
چنانچہ اُس روزتمام مدینہ شہرمیں ہرجانب رنج والم کی فضاء چھائی ہوئی تھی …ہرکوئی غم کے سمندرمیں ڈوباجارہاتھا،ہرایک پربے خودی کی کیفیت طاری تھی ،اورہرطرف آہ وبکاء کا ماحول تھا،کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاتھا،نہ ہی کسی کاذہن اس جان لیواخبرکوقبول کرنے کیلئے آمادہ تھاکہ رسول اللہ ﷺ اب ہمیشہ کیلئے ہم سے جداہوچکے ہیں ۔
ایسی نازک ترین صورتِ حال میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاناقابلِ فراموش کردارتمام امت کیلئے سہارے اورتسلی کاباعث بنا۔
چنانچہ اس موقع پروہاں موجودسبھی افرادکے سامنے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے مختصرخطبہ دیا ٗجس میں رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کایوں اعلان فرمایا ’’مَن کَانَ مِنکُم یَعبُدُ مُحَمَّداً فَاِنَّ مُحَمَّداً قَد مَاتَ ، وَمَن کَانَ یعبُدُ اللّہَ فَاِنَّ اللّہَ حَيٌّ لَا یَمُوتُ‘‘ یعنی’’تم میں سے جوکوئی محمدؐکی عبادت کرتاتھا ٗوہ جان لے کہ محمدؐکااب انتقال ہوچکاہے،اورجوکوئی اللہ کی عبادت کرتاتھا ٗ تواللہ ہمیشہ زندہ رہنے والاہے ٗ اسے کبھی موت آنے والی نہیں ہے‘‘اورپھرقرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی: {وَمَا مُحَمَّدٌ اِلّا رَسُولٌ قَد خَلَتْ مِن قَبلِہِ الرُّسُلُ أفَاِن مَّاتَ أو قُتِلَ انقَلَبتُم عَلَیٰ أعْقَابِکُم ومَن یَّنقَلِبْ عَلَیٰ عَقِبَیہِ فَلَن یَّضُرَّ اللّہَ شَیئاً وَّ سَیَجزِي اللّہُ الشَّاکِرِینَ} (۱) (۲)
ترجمہ:’’محمد[ ﷺ ]توصرف رسول ہی ہیں ،ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذرچکے ہیں ،کیااگران کاانتقال ہوجائے ٗ یاوہ شہیدہوجائیں ٗتوتم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھرجاؤگے؟ اورجوکوئی پھرجائے اپنی ایڑیوں پرتوہرگزوہ اللہ کاکچھ نہیں بگاڑے گا،عنقریب اللہ شکرگذاروں کونیک بدلہ دے گا‘‘۔
حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس آیت سے ٗ نیزاس کے مضمون سے خوب واقف تھے ، اورعرصۂ درازسے اسے پڑھتے اورسنتے چلے آرہے تھے،لیکن اس روزحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی زبانی جب یہ آیت سنی توانہیں یوں محسوس ہواکہ گویایہ آیت ابھی نازل ہوئی ہو،ان کے ذہنوں میں اس آیت کامضمون تازہ ہوگیا، وہ سب اس آیت کو بارباردہرانے لگے،جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اُس وقت وہاں جس شخص کی طرف بھی میری نگاہ اٹھی ٗمجھے اس کے لب ہلتے ہوئے نظرآئے، اوروہ یہی آیت زیرِلب دہراتاہوانظرآیا۔
اس کانتیجہ یہ ہواکہ لوگوں کے غم واضطراب میں بتدریج کمی آنے لگی اوررفتہ رفتہ انہیں اس تلخ ترین حقیقت پریقین آنے لگاکہ رسول اللہ ﷺ واقعی اب ہم میں نہیں رہے، اوریوں اُس نازک ترین موقع پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کایہ تاریخی کردارتمام مسلمانوں کیلئے تسلی و تشفی کا ٗنیزصورتِ حال کوبگڑنے سے بچانے کاسبب اورذریعہ بنا…!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں