سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 22

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب

52 / 100

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب
رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: (مَا لِأحَدٍ عِندَنَا یَدٌ اِلَّا وَقَد کَافَینَاہُ ، مَا خَلَا أبَابَکرٍ ، فَاِنَّ لَہٗ عَندَنَا یَداً یُکَافِئِہُ اللَّہُ بَہٖ یَومَ القِیَامَۃِ، وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أبِي بَکر، وَ لَوکُنتُ مُتَّخِذاً خَلِیلاً لَاتَّخَذتُ أبَا بَکرٍ خَلِیلاً ، ألَا وَاِنَّ صَاحِبَکُم خَلِیلُ اللّہ) (۱)
ترجمہ:(ہم نے ہرایک کے احسان کابدلہ چکادیاہے،البتہ ابوبکرکے احسانات ایسے ہیں کہ جن کابدلہ انہیں خوداللہ ہی روزِقیامت عطاء فرمائے گا، کسی بھی شخص کامال میرے اس قدرکام نہیں آیا،کہ جس قدرابوبکرکے مال سے مجھے فائدہ پہنچاہے،اگرمیں کسی کواپنا’’خاص دوست‘‘بناتا ٗتویقیناابوبکرہی کوبناتا،لیکن بات یہ ہے کہ تمہارایہ ساتھی [یعنی خودرسول اللہ ﷺ ]توبس صرف اللہ ہی کا’’خاص دوست‘‘ہے)
٭…(مَاعَرَضْتُ الاِسلَامَ عَلَیٰ أحَدٍ اِلَّا کَانَت لَہٗ کَبْوَۃٌ ، اِلّا أبُو بَکرٍ ، فَاِنَّہٗ لَم یَتَلَعْثَم فِي قَولِہٖ) (۲)
ترجمہ:(میں نے جس کسی کوبھی دینِ اسلام کی طرف دعوت دی ٗ اس نے ابتداء میں کچھ ترددکااظہارکیا،سوائے ابوبکرکے جنہوں نے اس موقع پرقطعاً کسی ترددکااظہارنہیں کیا)۔
٭… عن أبي ھریرۃ رضي اللّہُ عنہ قال: قَالَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ : مَن أصْبَحَ مِنکُمُ الیَومَ صَائِماً؟ قَالَ أبوبکر: أنَا ، قَالَ: فَمَن تَبِعَ مِنکُمُ الیَومَ جَنَازۃً؟ قَالَ أبوبکر: أنَا ، قَالَ: فَمَن أطْعَمَ مِنکُمُ الیَومَ مِسْکِیناً؟ قَالَ أبوبکر: أنَا ، قَالَ: فَمَن عَادَ مِنکُمُ الیَومَ مَرِیضاً؟ قَالَ أبوبکر: أنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ : مَا اجْتَمَعنَ فِي امْرِیٍٔ اِلَّا دَخَلَ الجَنَّۃَ ۔ (۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک باراپنے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دریافت فرمایا: ’’آج تم میں سے روزہ کس نے رکھاہے؟‘‘ ابوبکررضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول!میں نے‘‘ ۔ تب آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’تم میں سے کس نے آج جنازے میں شرکت کی ہے؟‘‘ ابوبکرؓنے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول!میں نے‘‘ ۔ تب آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’تم میں سے کس نے آج مسکین کوکھاناکھلایاہے؟‘‘ابوبکرؓنے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول! میں نے‘‘ ۔ تب آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’تم میں سے کس نے آج بیمارکی عیادت کی ہے؟‘‘ابوبکرؓنے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول!میں نے‘‘۔ اس پرآپؐ نے فرمایا:’’ جس شخص میں یہ تمام خوبیاں جمع ہوگئیں وہ ضرورجنت میں داخل ہوجائے گا‘‘۔
٭…حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا:
(اِنَّ مِن أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِہٖ وَ مَالِہٖ أبُوبَکر) (۲) یعنی’’تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جس شخص کی صحبت کو ٗنیزاس کے مال کومیں اپنے لئے باعثِ اطمینان تصورکرتاہوں ٗ وہ ابوبکرہیں ‘‘۔
٭…حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک باررسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا:(اِنَّ اللّہَ بَعَثَنِي اِلَیکُم فَقُلتُم : کَذَبْتَ ، وَقَالَ أبُوبَکر: صَدَقْتَ)(۱) یعنی’’اللہ نے مجھے تم لوگوں کی جانب مبعوث فرمایا،تب تم لوگوں نے مجھے جھٹلایا،جبکہ ابوبکرنے میری تصدیق کی‘‘۔(۲)
٭…حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں 🙁 أَمَرَنَا رَسُولُ اللّہِ ﷺ أن نَتَصَدَّقَ ، وَوَافَقَ ذَلِکَ عِندِي مَالاً ، فَقُلتُ: الیَومَ أسبِقُ أبَابَکرٍ ان سَبَقتُہٗ یَوماً ، فَجِِئتُ بِنِصفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ : مَا أبقَیتَ لِأھلِکَ؟ قُلتُ : مِثلَہٗ ، وَ أتَیٰ أبُوبَکرٍ بِکُلِّ مَا عِندَہٗ ، فَقَالَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ : یَا أبَا بَکر مَا أبقَیتَ لِأھلِکَ؟ قَالَ : أبقَیتُ لَھُمُ اللّہَ وَ رَسُولَہ ، قُلتُ : لَا أسبِقُہٗ اِلَیٰ شَیٍٔ أبَداً) (۳)یعنی’’ ایک باررسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ دینے کاحکم دیا، اتفاق سے اُس وقت مجھے کچھ مال میسرتھا،لہٰذامیں سوچنے لگاکہ آج تومیں ابوبکر پر سبقت لے جاؤنگا، یہی سوچ کرمیں اپناآدھامال لئے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا،آپؐ نے مجھ سے دریافت فرمایا’’اپنے گھروالوں کیلئے کیاچھوڑکرآئے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’اتناہی مال ان کیلئے چھوڑآیاہوں ‘‘۔ اورتب ابوبکراپناسارامال لئے ہوئے حاضر ہوگئے،رسول اللہ ﷺ نے ان سے بھی یہی دریافت فرمایاکہ ’’اپنے گھر والوں کیلئے کیاچھوڑکرآئے ہو؟‘‘ ابوبکرنے جواب دیا ’’اے اللہ کے رسول! گھروالوں کیلئے میں اللہ اوراس کے رسول کانام چھوڑآیاہوں ‘‘۔ تب میں نے اپنے دل میں سوچاکہ ’’آج کے بعدمیں کبھی ابوبکرسے سبقت لے جانے کی کوشش نہیں کروں گا…‘‘(۱)
٭…سن ۹ہجری میں باقاعدہ اسلامی عبادت کے طورپر جب فرضیتِ حج کاحکم نازل ہوا تورسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواپنے نائب کی حیثیت سے ’’امیرالحجاج‘‘ مقررفرمایا،اورتمام مسلمانوں نے دینِ اسلام کے اہم ترین رکن کی حیثیت سے تاریخ میں پہلی بارفریضۂ حج حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امارت میں اداکیا۔
٭…رسول اللہ ﷺ اس جہانِ فانی سے رحلت سے قبل آخری ایام میں جب ۷/ربیع الاول بروزبدھ مسجدمیں آخری باراپنے منبرپرجلوہ افروزہوئے تھے اورمتعددنصیحتیں اور وصیتیں فرمائی تھیں ، تب اسی موقع پرآپؐ نے وہاں موجودافرادکومخاطب کرتے ہوئے یہ ارشاد بھی فرمایاتھا 🙁اِنَّ عَبْداً خَیَّرَہُ اللّہُ أن یُؤتِیَہٗ مِن زَھرَۃِ الدُّنیَا مَا شَائَ ، وَبَیْنَ مَا عِندَہٗ ، فَاختَارَ مَا عِندَہٗ) یعنی’’اللہ کاایک بندہ ہے،جسے اللہ نے اس بات کااختیاردیا ہے کہ اگروہ چاہے تو اللہ اسے دنیاوی زندگی کی خوب رونقیں عطاء فرمائے، اور اگر وہ چاہے تواب اللہ کے پاس موجودنعمتوں میں چلاآئے…لہٰذا اس بندے نے اللہ کے پاس موجودنعمتوں کوپسندکرلیاہے‘‘۔(۲)
اس حدیث کے راوی حضرت ابوسعیدخدریؓ فرماتے ہیں کہ ’’یہ بات سن کرحضرت ابوبکرؓ رونے لگے،اوربیساختہ یوں کہنے لگے: فَدَینَاکَ بِآبَائِنَا وَأمّھَاتِنَا یَا رََسُولَ اللّہ)یعنی’’اے اللہ کے رسول! آپ پرہمارے ماں باپ قربان…‘‘ ابوبکرؓکی ا س کیفیت پرہمیں تعجب ہونے لگا،یہ منظردیکھ کرکچھ لوگ یوں کہنے لگے کہ ابوبکر کو دیکھو…رسول اللہ ﷺ ہمیں یہ بات بتارہے ہیں کہ ’’اللہ کاایک بندہ ہے ٗ جسے اللہ نے اس بات کااختیاردیا ہے کہ اگروہ چاہے تو اللہ اسے دنیاوی زندگی کی خوب رونقیں عطاء فرمائے، اوراگروہ چاہے تواب اللہ کے پاس موجودنعمتوں میں چلاآئے،اوراس بندے نے اللہ کے پاس موجودنعمتوں کوپسندکرلیاہے‘‘۔ اورذرہ ابوبکرکودیکھو،رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کریہ رورہے ہیں ،اورکہتے ہیں کہ ’’اے اللہ کے رسول! آپ پرہمارے ماں باپ قربان‘‘ بھلایہ کیابات ہوئی…؟؟
اس کے بعدحضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (فَکَانَ رَسُولُ اللّہِ ﷺ ھُوَ المُخَیَّرُ ، وَکَانَ أبُوبَکر أعْلَمَنَا)(۱)یعنی ’’اللہ کی طرف سے اپنے جس بندے کو یہ اختیاردیاگیاتھا…وہ خودرسول اللہ ﷺ تھے…اورابوبکرہم سبھی سے زیادہ علم والے تھے…‘‘
مطلب یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے اختیاردیئے جانے پرجواب میں رسول اللہ ﷺ اس فانی دنیامیں اب مزیدزندگی بسرکرنے کی بجائے اپنے رب کے جوارِرحمت میں منتقل ہوجانے کوپسندفرماچکے تھے…ہم اس بات کونہیں سمجھ سکے…البتہ ابوبکر(رضی اللہ عنہ) ہم میں سب سے زیادہ علم ودانش سے مالامال تھے…رسول اللہ ﷺ کی گفتگوکو ٗ نیزاس میں پوشیدہ اسرارورموزکوہم سب سے زیادہ وہی سمجھنے والے تھے… لہٰذااس رازکی بات کو ہم نہیں سمجھ سکے ،اوراس وجہ سے ہم تعجب کرنے لگے،جبکہ حضرت ابوبکرؓاس راز کوسمجھ گئے اور…بے اختیاررونے لگے…!
یقینااس سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کامقام ومرتبہ ٗ فہم وفراست ٗ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کاخاص تعلقِ خاطر اورمزاج شناسی ٗ نیزتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برگزیدہ ترین جماعت میں ان کی خاص حیثیت اوردینی بصیرت واضح وثابت ہوتی ہے۔
٭…اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے آخری ایام میں (بتاریخ ۹/ربیع الاول بروزجمعرات)جب شدتِ مرض کی وجہ سے نقاہت بہت بڑھ چکی تھی اورآپؐ کواطلاع دی گئی تھی کہ عشاء کی نمازکیلئے سبھی لوگ مسجدمیں منتظرہیں …تب آپؐ نے ارشادفرمایاتھاکہ:
’’مُرُوا أبَابَکر، فَلیُصَلِّ بِالنَّاس‘‘ (۱) یعنی’’ابوبکرسے کہوکہ وہ لوگوں کو نمازپڑھائیں ‘‘
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاچونکہ اپنے والد(حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ) کے مزاج سے بخوبی واقف تھیں ٗلہٰذااس موقع پرانہوں نے اپنے والدکے بارے میں عرض کیا’’اے اللہ کے رسول! وہ توبہت ہی کمزوراورنرم دل انسان ہیں ٗ ان کی آوازبھی کافی پست ہے،مزیدیہ کہ وہ جب بھی قرآن پڑھتے ہیں توبہت زیادہ رونے لگتے ہیں ‘‘
تب آپ ﷺ نے اپناوہی حکم دہرایا، اورحضرت عائشہ ؓ نے بھی اپنی وہی گذارش دہرائی ٗ آخر تیسری بارآپؐ نے قدرے سختی کے ساتھ یہی حکم دہرایا…اورتب حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے آ پ ؐکی حیاتِ طیبہ کے دوران ہی،اور خودآپؐ کے حکم پر… آپؐ کی جگہ مسجدنبوی میں امامت کاآغازکیا…!
غورطلب بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برگزیدہ وپاکیزہ ترین جماعت میں سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواپنی مسجدمیں ، اپنی جگہ نمازپڑھانے کیلئے ، اورتمام مسلمانوں کی امامت کیلئے خودمنتخب فرمایا،مزیدیہ کہ اصراراورتاکیدکے ساتھ متعددباراس چیزکاحکم دیا۔
چنانچہ خودرسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دوران حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ آپؐ کے مصلیٰ پرکھڑے ہوکر امامت کے فرائض انجام دیتے رہے…جبکہ آسمانوں سے نزولِ وحی کا ٗنیزجبریل امین علیہ السلام کی آمدورفت کاسلسلہ ابھی بدستور جاری تھا۔
یقینااس سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی عظمتِ شان ظاہرہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں