سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 22

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – جمعِ قرآن

48 / 100

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ – جمعِ قرآن
رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کاجاں گدازواقعہ پیش آنے کے فوری بعدملکِ عرب کے اطراف واکناف میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کافتنہ جوبڑی ہی شدومد کے ساتھ ظاہر ہواتھا، انہی فتنوں میں بالخصوص ’’مسیلمہ کذاب‘‘ کافتنہ کافی پریشان کن صورتِ حال اختیارکرتاجارہاتھا۔ ’’یمامہ‘‘سے تعلق رکھنے والایہ شخص بہت زیادہ طاقت ٗ قوت ٗشان وشوکت ٗاورجوش وخروش کے ساتھ اپنی ’’نبوت‘‘کے دعوے ٗاوراپنی جھوٹی تعلیمات کی نشرواشاعت میں مشغول ومنہمک تھا۔
نبوت کے اس جھوٹے مدعی کی طرف سے برپاکردہ اس فتنے کی شدت کااندازہ اس بات سے کیاجاسکتاہے کہ اس کی سرکوبی کی غرض سے ’’یمامہ‘‘کے مقام پرجوجنگ لڑی گئی اُس میں شہیدہونے والے مسلمانوں کی تعدادایک ہزارسے زائدتھی …ظاہرہے کہ ان میں بہت بڑی اکثریت حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تھی ،کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے محض چندماہ بعدہی یہ جنگ پیش آئی تھی۔
اس اتنے بڑے نقصان کے علاوہ بالخصوص جوبات تمام مسلمانوں کیلئے بہت زیادہ اضطراب اورتشویش کاباعث بنی ٗوہ یہ کہ اس موقع پراتنی بڑی تعدادمیں شہیدہونے والے ان مسلمانوں میں سترحفاظِ قرآن بھی تھے۔
ایک ہی جنگ میں سترحفاظِ قرآن کی ایک ساتھ شہادت…اگریہ سلسلہ جاری رہا، توقرآن کریم کا کیاہوگا؟
یہ سوال ظاہرہے کہ ہرمسلمان کیلئے بڑی پریشانی وفکرمندی کاباعث تھا،البتہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں بطورِخاص بہت زیادہ فکرمنداورمضطرب تھے۔
یہیوجہ تھی کہ انہوں نے اولین فرصت میں خلیفۂ وقت یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی اس پریشانی کااظہارکرتے ہوئے پرزوراصرارکیاکہ جلدازجلد’’کتاب اللہ‘‘ کی حفاظت کی طرف توجہ دی جائے، قرآن کریم کی تمام آیات کو یکجاکرکے ہمیشہ کیلئے کتابی شکل میں محفوظ کرلیاجائے۔
اس پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ’’جوکام خودرسول اللہ ﷺ نے انجام نہیں دیا ٗ میں وہ کام کس طرح کرسکتاہوں …؟‘‘
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس معذرت اورانکارکے باوجودحضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسلسل اصرارکرتے ہی رہے، جس پرآخرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کوان کے اس مطالبے اوراصرارپراطمینان اورشرحِ صدرہوگیا، اورتب انہوں نے اس مقصد(یعنی جمعِ قرآن) کیلئے حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برگزیدہ ترین جماعت میں سے چندایسے حضرات کاانتخاب فرمایاجنہیں بطورِخاص قرآنی علوم میں بڑی دسترس اورانتہائی مہارت حاصل تھی۔ اورپھران منتخب حضرات پرمشتمل اس لَجنہ (کمیٹی) کی سربراہی ونگرانی کی عظیم ترین ذمہ داری رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی حضرت زیدبن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کوسونپی ، جوعرصۂ درازتک آپؐ کی خدمت میں بطورِ ’’کاتبِ وحی‘‘خدمات انجام دیتے رہے تھے۔
چنانچہ ان حضرات نے انتہائی عرق ریزی اورمحنتِ شاقہ کے بعد’’جمعِ قرآن‘‘کایہ اہم ترین کام انجام دیا…جبکہ اس دوران خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ براہِ راست مسلسل ا س انتہائی حساس اوراہم ترین کام کی نگرانی کافریضہ انجام دیتے رہے…
یوں پہلی بارقرآن کریم کویکجا ٗکتابی شکل میں ٗہمیشہ کیلئے محفوظ ومُدوّن کرلیاگیا۔
یقینا خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے کلام اللہ کی یہ بہت بڑی خدمت ٗناقابلِ فراموش کارنامہ ٗانتہائی قابلِ تحسین اقدام ٗنیزہمیشہ کیلئے تمام امتِ مسلمہ پربہت عظیم احسان تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں