صحيح البخاري 11

حدیث نمبر: 1483

12 / 100

حدیث نمبر: 1483
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا عبد الله بن وهب، قال: اخبرني يونس بن يزيد، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله، عن ابيهرضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:” فيما سقت السماء والعيون او كان عثريا العشر وما سقي بالنضح نصف العشر”، قال ابو عبد الله: هذا تفسير الاول لانه لم يوقت في الاول , يعني حديث ابن عمر، وفيما سقت السماء العشر وبين في هذا ووقت والزيادة مقبولة، والمفسر يقضي على المبهم إذا رواه اهل الثبت كما روى الفضل بن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يصل في الكعبة، وقال بلال: قد صلى، فاخذ بقول بلال وترك قول الفضل.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے خبر دی ‘ انہیں شہاب نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے ‘ انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ زمین جسے آسمان (بارش کا پانی) یا چشمہ سیراب کرتا ہو۔ یا وہ خودبخود نمی سے سیراب ہو جاتی ہو تو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ لیا جائے اور وہ زمین جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہو تو اس کی پیداوار سے بیسواں حصہ لیا جائے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ یہ حدیث یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ جس کھیتی میں آسمان کا پانی دیا جائے ‘ دسواں حصہ ہے پہلی حدیث یعنی ابوسعید کی حدیث کی تفسیر ہے۔ اس میں زکوٰۃ کی کوئی مقدار مذکور نہیں ہے اور اس میں مذکور ہے۔ اور زیادتی قبول کی جاتی ہے۔ اور گول مول حدیث کا حکم صاف صاف حدیث کے موافق لیا جاتا ہے۔ جب اس کا راوی ثقہ ہو۔ جیسے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی۔ لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز (کعبہ میں) پڑھی تھی۔ اس موقع پر بھی بلال رضی اللہ عنہ کی بات قبول کی گئی اور فضل رضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں