67

جگتار سنگھ جوہل: برطانوی پارلیمان کے 140 اراکین کا انڈیا میں قید برطانوی شہری کو رہا کرانے کا مطالبہ

64 / 100

جگتار سنگھ جوہل: برطانوی پارلیمان کے 140 اراکین کا انڈیا میں قید برطانوی شہری کو رہا کرانے کا مطالبہ
خالد کرامت

جگتار سنگھ جوہل کو انڈیا کے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت نظربند کیا گیا ہے۔ اُن پر الزام ہے کہ انھوں نے دائیں بازو کے متعدد ہندو رہنماؤں کو قتل کرنے کی سازش کی تھی

برطانوی ایوان بالا اور ایوان زیریں کے ایک سو چالیس کے قریب اراکین نے وزیر خارجہ ڈومنیک راب کو لکھے گئے ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں انڈین نژاد برطانوی شہری جگتار سنگھ جوہل کو انڈین جیل سے رہا کروانے اور اُنہیں برطانیہ واپس لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سکاٹ لینڈ کے علاقے ڈمبارٹن شائر کے ممبر پارلیمان مارٹن جے ڈوہرٹی نے ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے اپنے پیغام میں کہا کہ 140 کے قریب اراکین کے ڈومنیک راب کو خط لکھنے سے ایک موقع ملا ہے کہ ہم آپس میں مل کر یہ یقینی بنائیں کے جگتار کو رہائی ملے اور اُسے گھر واپس لایا جائے۔

سکاٹ لینڈ کے شہر ڈمبارٹن سے تعلق رکھنے والے جگتار سنگھ جوہل کو تین سال سے زیادہ عرصے پہلے انڈیا کے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت نظربند کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام ہے کہ انھوں نے دائیں بازو کے متعدد ہندو رہنماؤں کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔

جگتار سنگھ جوہل کے بھائی گرپریت سنگھ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس خط کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس خط سے برطانوی حکومت پر دباؤ پڑے گا کہ وہ جگتار کی بلا جواز اور یک طرفہ طور پر حراست کا معاملہ انڈین حکومت کے سامنے اُٹھائیں۔

گُرپریت سنگھ کا کہنا ہے کہ اُن کا خاندان اب تک اس معاملے میں برطانوی حکام کی جانب سے مناسب کارروائی نہ کرنے پر سخت مایوس ہوا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جگتار سنگھ ایک برطانوی شہری ہیں اور اُن کی جان کو خطرہ ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ برطانوی حکومت کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ جگتار کو رہا کروایا جائے اور واپس برطانیہ لایا جائے۔

گُرپریت سنگھ نے بتایا کہ جب سے جگتار کو پنجاب سے دلی کی تہاڑ جیل میں منتقل کیا گیا ہے اُن کی اپنے رشتہ داروں سے ملاقات مشکل ہو گئی ہے اور آخری بار مارچ 2020 میں کوئی قریبی رشتہ دار اُن سے مل سکا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں