جوہری تنصیبات کی نگرانی کے خلاف ایرانی پارلیمنٹ میں بل منظور 0

جوہری تنصیبات کی نگرانی کے خلاف ایرانی پارلیمنٹ میں بل منظور

43 / 100

ایران کی پارلیمنٹ میں ایک مجوزہ قانون منظور کیا گیا ہے جس کے مطابق اگر یورپی ممالک تیل اور بینکنگ کے حوالے سے پابندیوں میں رعایت نہیں دیتے تو ایران یورینیم کی افزودگی بھی شروع کر دے گا۔
پارلیمنٹ میں منظور کیے جانے والے مجوزہ قانون کے مطابق ایران اقوام متحدہ کو ایٹمی تنصیبات کی نگرانی بھی نہیں کرنے دے گا۔
امریکی خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق یہ پیش رفت ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی ہے اور یہ بل پارلیمنٹ سے منظور کے بعد کئی مراحل سے گزرنے پر قانون کی حیثیت اختیار کرے گا
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے کہا ہے کہ 290 میں سے 251 اراکین نے بل کے حق میں ووٹ دیا اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔
یہ بل یورپی ممالک کو ایران پر تیل اور بینکنگ کے حوالے سے لگی پابندیوں میں نرمی کرنے کے لیے تین مہینے کی مہلت دے گا۔
اس قانون کے تحت ایران یورینیم کی افزودگی کو 20 فیصد تک کر دے گا جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے تو کافی نہیں ہے لیکن سویلین استعمال کے لیے زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ ایران اس بل کے ذریعے ناطنز اور فوردو زیر زمین نیوکلیئر تنصیبات میں نئے سینٹری فیوجز کا اضافہ کر سکے گا۔
پارلیمنٹ سے پاس ہونے کے بعد اس بل کو ایک اور پارلیمنٹری ووٹ اور شوریٰ نگہبان سے منظوری لینی ہوگی۔
یہ بل اس سے قبل اگست میں پارلیمان میں پیش کیا گیا تھا لیکن محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے بعد اس کو منظور کروانے میں تیزی آئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں