عبدالرشید شکور 21

جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کی پالیسی: جب نیلسن منڈیلا نے خاردار تار والے پنجرے سے ٹیسٹ میچ دیکھا

57 / 100

جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کی پالیسی: جب نیلسن منڈیلا نے خاردار تار والے پنجرے سے ٹیسٹ میچ دیکھا
عبدالرشید شکور
یہ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کی پالیسی کے دور کی بات ہے۔ جنوری 1950 میں آسٹریلیا کی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن میں تیسرا ٹیسٹ کھیل رہی تھی۔ مہمان ٹیم کو جیتنے کے لیے 336 رنز کا ہدف ملا تھا۔ پہلی اننگز میں 75 پر آؤٹ ہونے والی آسٹریلوی ٹیم نے یہ ہدف نیل ہاروے کے ناقابل شکست 151 رنز کی بدولت پانچ وکٹوں پر حاصل کر لیا۔

یہ نتیجہ ظاہر ہے جنوبی افریقی شائقین کے لیے مایوس کن تھا لیکن ڈربن کے کنگز میڈ سٹیڈیم کے ایک حصے میں میزبان ٹیم کی شکست پر خوشی کا سماں تھا۔ خوشی منانے والے یہ تمام لوگ سیاہ فام تھے۔

ان میں اکتیس برس کا ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جس نے اپنے ملک میں نسلی تعصب کی پالیسی کے خلاف آواز بلند کی، جیل کاٹی لیکن سفید اور سیاہ کے درمیان لکیر کو مٹا کر ہی سرخرو ہوئے۔ دنیا انھیں نیلسن منڈیلا کے نام سے جانتی ہے۔
نیلسن منڈیلا کا کہنا تھا ʹہم سیاہ فام ہمیشہ مہمان ٹیموں کو سپورٹ کیا کرتے تھے، جنوبی افریقہ کو نہیں۔ میں نے ڈربن ٹیسٹ دیکھا تھا۔ ہم سیاہ فاموں کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر میچ دیکھ سکیں۔ ہم سیاہ فاموں کے لیے سٹیڈیم میں خاردار تار والے پنجرے نصب کیے گئے تھے جن میں بیٹھ کر ہم نے وہ ٹیسٹ دیکھا تھا۔‘

’ہم لوگ ناخوش تھے کیونکہ جنوبی افریقہ کی ٹیم جیتنے کی پوزیشن میں تھی لیکن پھر نیل ہاروے کی سنچری نے آسٹریلیا کو جتوا دیا تو ہماری خوشی کی انتہا نہ تھی اور ہم لوگ خوشی میں ناچتے گاتے گھر واپس گئے تھے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں