48

جناب عارف علوی۔ سب کے صدر بنیں

ایک زمانہ تھا جب ایوانِ صدر کراچی میں ہوتا تھا۔ اب گزشتہ 20سال سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کراچی کے پاس چلی آرہی ہے۔ لیکن کراچی کی صحت پر اس سے کچھ اچھا یا برا اثر نہیں پڑتا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف۔ صدر آصف علی زرداری۔ صدر ممنون حسین۔ اور اب صدر عارف علوی۔آج مجھے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان سے مخاطب ہونا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ آج اتوار ہے۔ بچوںسے ملنے ملانے کا دن۔ مگر اب تو کئی ہفتوں سے بچے اور ماں باپ روز ہی مل رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی خامیاں خوبیاں بھی دیکھ رہے ہیں۔

کسی ملک کا سربراہ اس کے شہریوں کے باپ کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے میئر کو Father of City کہتے ہیں۔ اسی طرح صدرِ مملکت کو ابو الملک کہہ سکتے ہیں۔ آج مجھے ملک کے ابّوکو ہی یاد دلانا ہے کہ وہ اپنے بیٹوں بیٹیوں۔ پوتوں پوتیوں۔ نواسوں نواسیوں سے ملنے۔

بات کرنے کے لیے وقت نکالیں۔ قوم پر لاک ڈائون تو ابھی مارچ سے شروع ہوا ہے۔ 18ویں ترمیم نے صدر کا لاک ڈائون یعنی گھر میں قید 2009سے متفقہ آئین نے اگست 1973 سے شروع کیا تھا۔ اسی لیے ایوانِ صدر کے باہر چاکنگ کی جاتی تھی۔ ’صدر فضل الٰہی کو رہا کرو‘۔

نظریاتی سرحدوں کے محافظ جب نظریات کے دفاع کے لیے ملک کے اندر ہی محاذ کھولتے ہیں تو وہ صدر کو پہلے اپنے عہدے پر ہی رہنے دیتے ہیں۔دیکھئے حوالے کے لیے اسکندر مرزا ۔ صدر فضل الٰہی۔ صدر رفیق تارڑ کے ادوار۔ یہ آئینی تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔

پھر یہ محافظ خود صدر مملکت بننے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں۔ خاص طور پر کسی غیر ملک کا دورہ کرنے سے پہلے وہ خود صدر ضرور بن جاتے ہیں۔ حوالے کے لیے جون 2001کے اخبارات پڑھئے۔

جناب ڈاکٹر عارف علوی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ آپ قائد کی ولادت اور تدفین کے شہر سے تعلق رکھتے ہیں جو ہمارے بابائے قوم تھے۔ وہ بھی ملک کے سربراہ تھے۔ آپ بھی اس ملک کے سربراہ ہیں۔رمضان کا مہینہ ہے۔ اب الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ ایسا رمضان مسلمانوں نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ پہلے رمضان میں مسجدیں آباد ہوتی تھیں۔

اب کے در کعبہ بھی وا نہیں ہوسکا۔ آپ تو خود دارالحکومت کی مسجدوںمیں سماجی فاصلے دیکھنے گئے ہیں۔ دیکھئے۔ کیا یہ قیامت نہیں ہے کہ پہلے تو ہر نماز میں مقتدیوں سے کہا جاتا تھا کہ کندھے سے کندھا ملالیں، درمیان میں خلا نہیں ہونا چاہئے۔ اب کہا جارہا ہے کہ اتنے فٹ کا فاصلہ رکھو۔سچ جانیے یہ جو اکثریت ہوتی ہے ۔ عام پاکستانی۔ یہ بہت ہی سادہ لوح ۔بچوں کی طرح معصوم۔ کوئی بھی سربراہ مملکت ہو وہ اسے اپنے بزرگ اپنے باپ کا درجہ دیتے ہیں۔ وہ کسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو۔

کوئی زبان بولتا ہو۔ وہ اس سے انصاف کی، یکساں سلوک کی توقع رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جب آپ نے سندھ کے وزیر اعلیٰ سے میٹنگ کے لیے وقت رکھا تو سندھ کے سب لوگ شہری اور دیہی، سب کی مسرت دیدنی تھی لیکن جب ایوان صدر سے اس میٹنگ کی منسوخی کی خبر آئی۔

تو آپ کو پتا نہیں کسی نے بتایا کہ نہیں۔ سندھ میں اوباڑو سے منوڑہ تک سخت مایوسی ہوئی تھی۔ سندھ کے لوگ عام طور پر برہم نہیں ہوتے کیونکہ وہ سندھو ندی کا پانی پیتے ہیں مگر جب تاریخ کے بعض نازک موڑوںپر برہم ہوئے ہیں تو سندھو ندی میں بھی طغیانی آجاتی ہے۔ آپ تو ڈاکٹر ہیں۔ آپ تو مریضوں کا درد دور کرتے رہے ہیں۔آپ کو پورے ملک کی اسمبلیوں نے صدر منتخب کیا ہے۔ کسی ایک اسمبلی یا ایک پارٹی نے نہیں۔

آپ پورے 22کروڑ کے سربراہ ہیں۔ آپ ملک کی آئینی علامت ہیں۔ صدرِ مملکت ملک میں یکجہتی۔ اتحاد۔ مفاہمت کی علامت ہوتا ہے۔ اگر وہ اس مقصد کے لیے کوشش کرے گا تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ جس طرح ہم مظلوم کشمیریوں کی جدو جہد میں صرف اخلاقی مدد کرکے تاریخ میں سرخرو رہتے ہیں۔ اسی طرح آپ سب فریقوں کی اخلاقی مدد سے تو نیک نامی حاصل کرسکتے ہیں۔ آنے والے صدور کے لیے ایک مثال قائم کرسکتے ہیں۔

وفاقی نظام میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی آئینی تقاضا ہوتی ہے۔ سیاسی ضرورت بھی۔ اور اقتصادی نمو کے لیے ناگزیر بھی۔ وزیر اعظم حکومتی سربراہ ہوتا ہے۔ اصولاً تو اسے بھی سب کا وزیر اعظم ہونا چاہئے۔ پھر بھی اس کی اپنی سیاسی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ صدر آئینی سربراہ ہے۔ اس لیے آئین کی عملداری۔ یکجہتی کے جذبے کے لیے آپ کو سب سے ملنا چاہئے۔ سب کے گلے شکوے دور کرنے چاہئیں۔

کورونا کووڈ 19۔ ایک خطرناک ترین عالمگیر وبا ہے۔ جس نے غریب و امیر سب مملکتوں کو اس سال کے آغاز سے ہی اپنی زد میں لے رکھا ہے۔ معیشتیں لرز رہی ہیں۔ انتظامیہ کے بازو شل ہوچکے ہیں۔بے یقینی چھائی ہوئی ہے۔ ایسے غیر معمولی حالات میں مملکت کے ہر عہدیدار سے غیر معمولی توقعات کی جاتی ہیں۔ اس وبا کے اثرات آئندہ بھی تین چار سال تک جاری رہیں گے۔

آپ ملک کے سب سے بڑے ہیں۔ 22کروڑ کے خاندان کے سربراہ ہیں۔ انتظامی سربراہ ہر چند کہ منتخب وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ آئینی طور پر آپ ان کے مشورے پر ہی سب کچھ کرسکتے ہیں۔ مگر اخلاقی مدد تو آپ براہ راست بھی کرسکتے ہیں۔ آپ جب صوبوںاور وفاق کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کوششیں کریں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیاں کم کرنے کے لیے اخلاقی تگ و دو کریں گے تو آپ در حقیقت وزیر اعظم کے ہاتھ ہی مضبوط کررہے ہوں گے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ساری دنیا پہلی بار ایک آفت ناگہانی سے دوچار ہے۔ جو شخص جس عہدے پر بھی ہے۔ اسے بنی نوع انسان کی بقا کے لیے جو کرسکتا ہے کرنا چاہئے۔ ملک سے مایوسی۔ بے یقینی۔ کدورتیں۔محاذ آرائی ختم کرنے میں ایک سربراہ مملکت اگر کچھ بامعنی اقدامات کرے گا تو تاریخ میں امر ہوجائے گا۔

صدرِ مملکت کو سیاست میں غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ لیکن مملکت کے تحفظ اور قوم کے اتحاد کے لیے اس کا جانبدار ہوناہی تاریخ بنا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں