مظہر برلاس 33

جلسہ ہار گیا…!

56 / 100

جلسہ ہار گیا…!
مظہر برلاس
جلسہ ہار گیا اور جنازہ جیت گیا۔ کئی روز پہلے شاہین صہبائی نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’’خادم حسین رضوی کے جنازے کے بعد اپوزیشن کے لئے مینار پاکستان کے گرائونڈ کو بھرنا ایک چیلنج ہے، اب جنازے کا مقابلہ جلسے سے ہوگا‘‘۔
اپوزیشن نے 13دسمبر کے جلسے کے لئے بڑی تیاریاں کی تھیں، گلی گلی اور گھر گھر جا کر دعوت بھی دی، مبینہ طور پر سوا ارب روپیہ خرچ بھی ہوا، جلسے سے پہلے ریلیاں بھی نکالی گئیں، دعوے بھی کئے گئے اور نو سال قبل کئے گئے پی ٹی آئی کے جلسے کا ریکارڈ توڑنے کی باتیں بھی کی گئیں مگر یہ سب باتیں، سارے دعوے جھوٹ ثابت ہوئے۔
دراصل کئی لوگوں کو اُسی دن پتا چل گیا تھا جب جلسے کی میزبان جماعت نے گرائونڈ کا ایک چوتھائی حصہ جلسے کے لئے منتخب کیا مگر افسوس کہ یہ ایک چوتھائی حصہ بھی گیارہ جماعتیں نہ بھر سکیں۔
فیاض الحسن چوہان کے پاس پتا نہیں کونسے نجومی ہیں کہ اُنہوں نے بڑے دھڑلے سے یہ دعویٰ کر دیا تھا کہ اگر اپوزیشن نے پچاس ہزار افراد جمع کر لئے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔
اب پولیس کی رپورٹ کے مطابق جلسے میں چار سے پانچ ہزار افراد تھے، اسپیشل برانچ کا فگر سات سے آٹھ ہزار تک پہنچا ہے، آزاد ذرائع دس ہزار سے آگے نہیں بڑھ رہے، میاں نواز شریف کے خالی کرسیوں سے خطاب کی وڈیوز سوشل میڈیا کے علاوہ میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
تیرہ دسمبر کو حکومتی پارٹی نے اپوزیشن کو چاروں شانے چت کیا، اُن کی میڈیا کی حکمتِ عملی بھی کامیاب رہی۔ ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹر پر پوری اپوزیشن کی مت مار دی۔
تیرہ دسمبر کو سارا دن الیکٹرونک میڈیا کو شیخ رشید، شبلی فراز، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، فیاض الحسن چوہان، مراد سعید، ڈاکٹر شہباز گل اور فیصل جاوید کے علاوہ راجہ بشارت نے سنبھال رکھا تھا۔
پنجاب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کرتب دکھانا شروع کر دیا ہے جب سے وہ آئی ہیں، پنجاب حکومت نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔
حکومتی ٹیم کے سامنے اپوزیشن کی ٹیم بالکل زیرو ثابت ہوئی، ’’کرسیاں گننے والی سرکار‘‘ کی سرکاری حکمتِ عملی ناکام ہو گئی۔
آپ کو یاد ہوگا کہ چند سال پہلے ایک حکومتی وزیر پی ٹی آئی کے جلسوں کی کرسیاں گنا کرتا تھا، ہو سکتا ہے کہ وہ تیرہ دسمبر کو اپنی خالی کرسیاں بھی گن رہا ہو۔
نے ن کے ساتھ ہاتھ کر دیا ہے۔ جلسے میں زیادہ لوگ دوسروں شہروں سے آئے تھے۔ ملتان، خانیوال، فیصل آباد، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویژن سے لوگوں نے اُس جلسے میں شرکت کی۔
خیبر پختونخوا سے بھی خاصے لوگ آئے، ہزارہ ڈویژن کے لوگ بھی شامل تھے۔ جلسے کو ایک مظاہرے نے مزید بےنقاب کر دیا۔ یہ مظاہرہ نہر پر ہوا، جہاں چار سو افراد نے یہ دعویٰ کیا کہ اُنہیں پیسے نہیں دیے گئے۔
اُن کی دیہاڑی بھی خراب کی۔ ہماری باتوں کا سیاستدان برا منا جاتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب نظریات کی جگہ دولت آ جائے تو جلسوں کا یہی حال ہوتا ہے۔
پاکستان کے حوالے سے قائداعظمؒ نے بڑے بھرپور جلسے کئے تھے، فاطمہ جناحؒ کے جلسے بھی بھرپور تھے، بھٹو صاحب نے شاندار بڑے جلسے کئے۔ بےنظیر بھٹو شہید نے بھی بڑے جلسے کئے۔
اُس کے بعد عمران خان نے بڑے شاندار جلسے کئے۔ عمران خان تو ایک دن سرگودھا میں جلسہ کرتا تھا تو وہیں اعلان کر دیتا تھا کہ کل فیصل آباد میں جلسہ ہوگا، عمران خان صرف کال دیتا تھا اور لوگ پہنچ جاتے تھے۔ اِس حوالے سے شبلی فراز کی بات درست ہے کہ لیڈر صرف کال دیتا ہے۔
نئے وزیر داخلہ شیخ رشید کا بھی یہی کہنا ہے کہ لیڈر کال دیتا ہے، گلی گلی دعوت نامے تقسیم نہیں کرتا۔ تازہ صورتحال میں وفاق کی دو اہم وزارتوں پر شیخ براجمان ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ وزیر خزانہ ہیں جبکہ شیخ رشید احمد نے وزارتِ داخلہ سنبھال رکھی ہے۔ سرد موسم میں سیاسی حالات جس وقت گرم ہیں، اِس وقت ’’عوامی ڈاکٹر‘‘ شیخ رشید کو میدان میں اتارا گیا ہے۔
آر یا پار کہنے والوں کی خدمت میں صرف اتنا عرض ہے کہ جلسہ تو آپ کا پار ہو گیا۔ رہی سہی کسر عمران خان نے اپنے پالتو جانوروں کی تصویریں اپ لوڈ کر کے پوری کر دی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جلسہ عمران خان کے اعصاب پر سوار ہوتا مگر یہاں تو جانوروں کی تصویریں پوری اپوزیشن کے اعصاب پر سوار ہو گئی ہیں۔ حالیہ صورت حال کو دیکھ کر مجھے پرانا قصہ یاد آ گیا ہے۔ 1977کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے خلاف نو جماعتی قومی اتحاد تھا۔ اِن دنوں پیپلز پارٹی بہت مقبول تھی، اُس کے کارکن یہ نعرے لگاتے تھے

نو ستارے چاندی دے
سارے پتر گاندھی دے

مگر اب نو جماعتی اتحاد نہیں بلکہ گیارہ جماعتی اتحاد ہے۔ اِن میں جماعتیں تو دوچار ہی ہوں گی باقی نوابزادہ نصرﷲ والا فارمولا ہے، وہ ایک دو بڑی جماعتوں سے اتحاد کر کے چھ سات جماعتیں جیب سے نکال لیتے تھے اور پھر میڈیا کے روبرو کہتے تھے کہ ہمارا دس جماعتی اتحاد بن گیا ہے۔
دوستو! دولت اور نظریے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی وہ خادم حسین رضوی کا جنازہ دیکھ لیں اور پھر ذرا پی ڈی ایم کے جلسے کا جائزہ لے لیں۔ آپ کو پی ڈی ایم کے جلسے میں بدانتظامی اور بدتمیزی بھی نظر آئے گی۔ مزید آپ ثمینہ خالد گھرکی، شائستہ پرویز ملک، محمد زبیر یا رانا ثناء ﷲ سے پوچھ سکتے ہیں اور دل کی تسلی کے لئے وصی شاہ کا شعر بھی پڑھ سکتے ہیں کہ

مقابلہ ابھی جاری رہے گا دیر تلک
چراغ ختم ہوئے ہیں نہ رات ختم ہوئی

جلسے کی صورتحال کے بعد بھی جن پرعزم لوگوں کی تسلی نہیں ہوئی وہ سید یونس اعجاز کا شعر پڑھیں کہ ایسے لوگوں کے لئے یہ شعر مرہم کا کام دے گا؎

ہر رنگ دوستی کے ہیں اعجازؔ ہم کفیل
پر بےلحاظ زخم گوارا ہے آج کل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں