0

جذباتی و جسمانی صحت “روحانیتِ اسلام کی روشنی میں”

4 / 100

جذباتی و جسمانی صحت “روحانیتِ اسلام کی روشنی میں”
تحریر: منظور احمد خان

انسان کے دو جسم ہیں ,ایک تو مٹی کا جسم ہے جس کی پانچ حسیں ہیں جبکہ دوسرا اس کا روحانی جسم ہے .ہرجسم کے لیے مخصوص خوراک اور طریق کار ہیں.مٹی کے جسم کو ہاتھ سے چھوا جا سکتا ہے یا پھر اسے ظاہری آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

جبکہ روحانی جسم,جسے قلب یا ضمیر کہا جاتا ہے ,کو نہ تو ظاہری آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے چھوا جا سکتا ہے صرف اندر کی آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے.

عارفوں کے نزدیک روحانی جسم ہی اصل ہے ان کے مطابق قلب سے مراد وہ دل نہیں ہے جو کہ انسان کے سینے میں بائیں جانب موجود ایک گوشت کا لوتھڑا ہے کیونکہ ایسا دل تو جانور بھی رکھتے ہیں اور پھر اسے ظاہری آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہےجو چیزیں ظاہری آنکھ سے دیکھی جا سکتی ہیں وہ اس فانی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک نہ ایک دن ختم ہو جائیں گیقلب کا اس فانی دنیا سے قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہےدر حقیقت اس کا تعلق عالم غیب سے ہےاوراگرچہ مٹی کے جسم کو موت ہے,قلب زندہ جاوید رہتا ہےمعرفت اور رب کا دیدار اس کی خاص صفات ہیںاحکام نماز,سزاوجزا,اور دنیا میں اچھی اور بری قسمت اسی حقیقی وجود کے لیے ہیںہماری اپنے روحانی وجود سے آگاہی معرفت حق کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے یہی ہمارے دین کی حقیقت ہے_

جہاں تک انسانی سوچ کا تعلق ہے عمومی تاثر یہی ہے کہ ہم دماغ سے سوچتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوچیں دل سے آتی ہیں اور اس بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کہ بیشک اللہ دلوں کی پوشیدہ باتوں کو خوب جاننے والا ہے_

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اندر دو خیالات بیک وقت کیوں پیدا ہوتے ہیں ایک شیطانی اور دوسرا رحمانی؟

اصل میں جہاں تک دل میں خیالات کا تعلق ہے تو دو چیزیں بطور منبع کردار ادا کرتی ہیںایک قلب اور دوسرا نفس اور یہ دونوں خیالات کو دماغ تک پہنچاتے ہیں تاکہ انہیں عملی جامہ پہنایا جا سکےاب دو طرح کی صورت حال پیدا ہوتی, پہلی تو یہ کہ جب ذکر الہی کے باعث بندے کے وجود میں قلب برتری رکھتا ہے تو اس قلبی ذکر کی برکت سے انسان کو شیطانی وسوسے نہیں گھیر سکتے(قلبی ذکر بغیر آواز کے دل کی دھڑکن کے ساتھ کیا جاتا ہےایسے بابرکت بندے کے خیالات بڑے واضح اور مرتب ہوتے ہیں_

دوسری صورتحال یہ ہے کہ جب نفس اور شیطان نے بندے کے قلب کو دبا رکھا ہوتا ہے , ایسے میں قلب سیاہ ہو جاتا ہےاس پر پردہ پڑ جاتا ہےاور اس سے آنے والی آواز دب جاتی ہے اور طاقت کا توازن نفس کے ہاتھ میں چلا جاتا ہےچونکہ ایسے بندے کے دماغ میں نفس اور قلب دونوں سے خیالات آتے ہیں اس لیے وہ کوئی صاف فیصلہ نہیں کر سکتااور شش و پنج کی صورتحال میں رہتا ہے,جب رنگا رنگ اقسام کے خیالات دماغ میں پہنچتے ہیں تو کشمکش اور بے یقینی کی حالت میں دماغ سے اینٹینے نکل آتے ہیں جو بے یقینی,اضطراب,اعتراض,شکوک و شبہات,خوف,بہکاوے,غیر ضروری خواہشات اور رنگا رنگ منفی خیالات کی شکل میں کئی طرح کی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں

اس صورتحال میں نفس کی آواز کہیں زیادہ طاقت ور ہوتی ہےاور وہ بندے کو کوئی تعمیری کام نہیں کرنے دیتیاوپر دی گئی دونوں مثالیں جسم میں موجود قوت مدافعت کے نظام immunity sytem کی مثال سے سمجھی جا سکتی ہیں

نفس کی طاقت سے پیدا ہونے والے شیطانی خیالات کو انفیکشن , قلب کو نظام مدافعت جبکہ ذکر الہی کو خون کے سفید خلیوں کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہےجب تک جسم صحت مند ہوتا ہے یعنی بندہ ذکر الہی کرتا رہتا ہے,اسکانظام مدافعت یعنی قلب ,خون کے سفید خلیوں یعنی ذکر الہی کی مدد سے , انفیکشن یعنی نفسانی و شیطانی خیالات کے خلاف لڑتا رہتا ہے اور بندہ بیماریوں سے پاک رہتا ہےجیسے ہی خون میں سفید خلیے کم ہوتے ہیں یعنی ذکر الہی رک جاتا ہے تو قوت مدافعت یعنی قلب کام نہیں کرتی اور انفیکشن یعنی نفسانی و شیطانی خیالات کے خلاف نہیں لڑ سکتی, اس حالت میں بندہ بیمار ہو جاتا ہے یعنی وہ نفسانی خیالات کا شکار ہو کر کشمکش اور کنفیوژن میں مبتلا ہو جاتا ہے جو کہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا باعث بن جاتے ہیں_

ایمان کی کمی,اضطراب,اعتراضات,شکوک و شبہات,خوف,بہکاوے,غصہ,بےجا خواہشیں,حسداور منفی رویے قلب پر تہہ در تہہ پردے ڈالتے چلے جاتے ہیں اور انھیں کے باعث قلب سیاہ ہو جاتا ہےسیاہ قلب میں نہ تو کوئی روشنی داخل ہوتی ہے اور نہ نکلتی ہے اور نہ اس کی کوئی آواز دماغ تک پہنچ پاتی ہے اور اسی وجہ سے دماغ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پاتا اور اس ساری صورتحال میں دل پر دباؤ پڑتا ہےاکثر ایسے حالات ہی دل اور اس سے متعلقہ بیماریوں کا باعث بنتے ہیںجب دماغ واضح فیصلہ نہیں کر پاتا تو بندہ دباؤ کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ سب کچھ دل پر منفی اثر ڈالتا ہےدماغ دل کو مزید خون کی سپلائی لانے کے سگنل دیتا ہے اور دماغ کی طرف بڑھتے ہوئے خون کا دباؤ اس کے چکرانے کا باعث بنتا ہےشدید صورتحال میں یہ ذہنی دباؤ,ڈپریشن,روزمرہ زندگی میں عدم دلچسپی,اداسی,دردوں,ذہنی و جسمانی تھکاؤ,شوگر,بلڈ پریشر اور دل کی دوسری بیماریوں کا باعث بن سکتا ہےذہنی دباؤ سارے انسانی وجود کے لیے نقصان دہ ہے چاہے جسمانی طور پر ہو یا نفسیاتی طور پر_جب بندہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو معدے میں گیسیں )choices,NHS2012)
ذہنی دباؤ اور ڈپریشن معدے کی کئی طرح کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں مثلاً فنکشنل باؤل ڈس آرڈر,انفلیمنٹری باؤل کی بیماری,پیپٹک السر کی بیماری اور گیسٹرو ایسوفے جئل ریفلیکس کی بیماریاں_
)2005 trendon& bhatia)
یہ ایک فطری بات ہے کہ جب نظام انہظام متاثر ہوتا ہے ہے تو سارا جسم ہی متاثر ہو جاتا ہے کیونکہ یا تو ٹھیک سے کھایا پیا نہیں جاتا یا پھر کھانا پینا بلکل ہی چھوٹ جاتا ہےیہ صورتحال کمزوری اور لاغر پن کا باعث بنتی ہے اور اگر یہ سلسلہ لمبے عرصے تک قائم رہے تو جسم کے دوسرے کئی اعضاء کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے

مندرجہ بالا پیرے کو پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہماری بات کا محور ذہنی دباؤ اورڈپریشن ہیں لیکن اگر ہم غور کریں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ساری خرابی کی اصل جڑ نفس ہےکئی دوسرے مذاہب اپنے پیروکاروں کو رہنمائی مہیا کرتے ہیں کہ اپنے نفس اور انا کو کیسے قابو میں لایا جائےجب لوگ نفس کو دبانے کے خاص طریقے اختیار کرتے ہیں تو نفس انہیں شعبدوں میں ڈال دیتا ہے کئی شعبدہ باز ان کراتب کو کرامات قرار دیتے ہیں , اسلام میں ان کراتب کو استدراج کہا گیا ہے(یہ وہ شعبدے بازیاں ہیں جو سفلیات سے متعلقہ لوگ دکھاتے ہیں یا پھر ایسے مسلمان جو شرع اسلامی سے عاری ہوتے ہیں)
دراصل یہ شعبدے بازیاں نفس اور شیطان کے جھانسے ہوتے ہیں کہ اس راہ پر چلنے والا نفس کو قابو کرنے کے صحیح طریقہ کار سے دور رہے,اپنا روحانی سفر ترک کر دے,ان کراتب کے ساتھ کرامات دکھاتا رہے اور غیر اللہ کے معاملات میں پھنسا رہےاس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بندہ اصل مقصد حیات یعنی اللہ رب العزت کی تلاش کو بھول جاتا ہےوہ عجز و رقتِ قلب کی بجائے مبتلائے تکبر ہو کر ورد وظائف یا پھر ظاہری عبادات میں پھنس جاتا ہے جس میں اس کا مقصد شریعتِ مطہرہ کی پابندی کم اور نفس کو مطمئن کرنے کے لیے خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنا زیادہ ہوتا ہےبندہ عبادت کا اصل مقصد ہی بھول جاتا ہے جو کہ اللہ رب العزت کی معرفت ہے

“حصہ دوم”
کچھ سالک نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کالے جادو وغیرہ کرنے کے چکر میں پھنس جاتے ہیں جو کہ اسلام میں سختی سے ممنوع ہیںایسے لوگ خود ہی اپنی مخالفت کرنے لگتے ہیں کہ انہوں نے روحانیت کا سفر شروع تو اللہ رب العزت کے حصول کے لیے کیا تھا مگر آہستہ آہستہ وہ رجوعات خلق میں پھنس گئے اور اور انجانے میں نفس کی پیروی کرنے لگے , نفس اپنی گھٹیا ترین شکل میں نفس امارہ کہلاتا ہے جس کا تعلق اس فانی دنیا سے ہے اور یہ عالم روحانیت میں نہیں پہنچ سکتابندے کو اس مقام سے آگے یعنی روحانیت میں نہیں پہنچ سکتابندے کو اس مقام سے آگے یعنی روحانیت کی دنیا میں پہنچنے کے لیے اپنے آپکو نفس امارہ کی خواہشات سے پاک کرنا پڑتا ہے اور یوں نفس امارہ نفس لوامہ,نفس لوامہ نفسِ ملھمہ,نفس ملھمہ نفسِ مطمئنہ میں بدل جاتا ہےنفس مطمئنہ کی اعلی ترین منزل تک پہنچنے کے لیے حق الیقین کا مقام حاصل کرنا پڑتا ہےاور یہ صرف تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب ایک آدمی کو اس راہ کے واقف حال کی رہنمائی میسر ہو جو خود بھی اس راستے سے با سلامت ایمان گزرا ہو نیز اس راہ کے نشیب و فراز سے بھی واقف ہوکامل مرشد “صحیح استاد” منہ زور نفس کی باگیں اپنے مرید “شاگرد” کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے مگر اس مقام کے لیے یقین کامل شرط ہےاللہ تعالی کی کرم نوازی سے اس راہ کے کسی آشنا رہبر کے بغیر اس مشکل ترین کام کو کرنا ممکن نہیں کیونکہ انسان کے جسم میں نفس بادشاہ ہے شیطان اس کا وزیر ہے ,یہ قلب کو پہنچ سے دور رکھتے ہیں اور روح بے جان ہو جاتی ہےنفس امارہ بندے کو ماضی اور مستقبل میں پھنسائے رکھتا ہے تاکہ اس کا حال کسی نتیجہ خیز کام اور مثبت عمل سے خالی رہے_بندہ پریشان حال رہتا ہے,غیر ضروری منصوبے بناتا رہتا ہے اور مستقبل کی فکر میں کڑھتا رہتا ہے جبکہ اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں واضح ارشاد فرمایا ہے کہ :-

“اور زمین میں کوئی جاندار چلنے پھرنے والا نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے”
سورہ ھود آیت 6

مزید فرمایا کہ
” اور وہ ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا,اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ اسے کافی ہے”
سورۃ الطلاق آیت 3

ایسے وقت میں شیطان نفس کے ساتھ مل کر بندے کو اللہ پر بھروسا کرنے سے روکتا ہےایسی حالت میں بندہ وسیلے اور منزل کے فرق کو بھول جاتا ہے اور اللہ رب العزت کی ذات کو اپنی منزل بنانے کے بجائے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وسیلہ بنا لیتا ہےاسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مخلوق میں سے ہر شے اللہ رب العزت تک پہنچنے کے لیے وسیلہ ہےاور ذات باری تعالی ہماری زندگیوں کا واحد مقصود ہے_جب بندے کی تمام سوچیں اپنی ذات کے گرد گھومتی ہیں اور اس کا اللہ تعالی کی ذات مبارکہ پر عقیدہ کمزور پڑنے لگتا ہے تو بندہ خود کو بےیار و مددگار سمجھنے لگتا ہےاور اس مقام پر اس کا نفس شیطان کی مدد سے اس پر حاوی ہو جاتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:-
“مجھے قسم ہے کہ میں بھی (افراد بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے)تیری سیدھی راہ پر ضرور بیٹھوں گا (تاکہ بنی آدم کو راہ حق سے ہٹا دوں)”
سورۃ اعراف آیت 16

قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ:-
“اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور اس( کے حضور) تک (تقرب اور رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ”
سورۃالمائدہ آیت 35

وسیلہ یا واسطہ بہت اہم ہے کیونکہ روحانیت کی راہ پر مشکلات پڑنے پر ایک راہنما یا استاد کی ضرورت پڑتی ہےجیسے ایک ماہر استاد کے بغیر صرف کتابیں پڑھنے سے بندہ پائلٹ نہیں بن سکتا,ماہر امراض دل نہیں بن سکتا,یا تیراک نہیں بن سکتا اسی طرح محض کتابیں پڑھ لینے سے بندہ اپنے روحانی مقصد کو حاصل نہیں کر سکتاجیسے دل کے مرض پر دانتوں کے ماہر کے پاس نہیں جایا جا سکتا اسی طرح روحانی مسائل کا حل ایک مرشد کامل کے بغیر نہیں کیا جا سکتا جو کہ سالک کو اسم اللہ ذات کے ذکر کے ساتھ تعلیم دیتا ہے_اسم اللہ ذات اللہ رب العزت کا ذاتی نام ہے اور اس کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے :-

“جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں,جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے”
سورۃالرعد آیت 28

ذکر کی اہمیت کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ “ہر چیز کے صیقل (صفائی کرنے والی چیز) ہے اور دل کی صیقل اسمِ اللہ کا ذکر ہے”

ذکر اللہ کیا ہے ؟ اس کا ذکر بھی قرآن حکیم میں موجود ہے :-
” (لوگو) تم اہل ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تم خود نہیں جانتے ”
سورۃ الانبیاء,آیت 7

یہاں اہل ذکر سے مراد اولیاء اللہ ہیں اور یاد الہی کے بارے میں حضرت سلطان باھو رح فرماتے ہیں :-

الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ھو
نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے ہر جائی ھو
اندر بوٹی مشک مچایا جان پھلاں تے آئی ھو
جیوے مرشد کامل باھو جیں اے بوٹی لائی ھو

اور ایک کامل مرشد ہی کے نگاہ فیض کی جانب اشارہ کرتے ہوئے علامہ اقبال رح نے فرمایا تھا

یہ فیضان نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

یہاں اقبال کا اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ جہاں تک روحانیت کا تعلق ہے جو کچھ راہبر کامل کی نگاہ یا توجہ سکھا سکتی ہے وہ کتابیں ,ڈگریاں اور ادارے ساری عمر نہیں سکھا سکتے_

اپنی کتاب “کلید التوحید” میں حضرت سخی سلطان باھو رح فرماتے ہیں
“جان لے کہ مسائل فقہ پڑھنے اور طاعت خداوندی میں ریاضت ظاہری کرنے سے نفس بے حد موٹا ہوتا ہے,خلق خدا میں نیک نامی و شہرت سے بہت خوش ہوتا ہے اور ہوائے خود پسندی میں مبتلا ہو کر خود کو لوگوں کی نظر وں میں آراستہ و پیراستہ کیے رکھتا ہے لیکن علمِ تصوف یعنی علم واحدانیتِ توحید اور علم معرفت الہی سے شرمندہ ہوتا ہے,ذکر خفیہ کر کے اپنی جان کا گوشت کھاتا ہے اور خوف خدا میں رو رو کر اتنی آہ و زاری کرتا ہے کہ ہڈیوں سے مغز بھی نکل آتا ہے”

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ذکر جہر کی اپنی اہمیت ہے مگر چونکہ ذکر خفی ذاکر اور اللہ کے درمیان ہوتا ہے اس لیے ذاکر اس پر غرور میں مبتلا نہیں ہوتا_یہ خفی ذکر اسمِ اللہ ذات ہے جو نفس امارہ کو مار دیتا ہے اور ذاکر دولت دنیا کی غیر ضروری محبت اور دنیا کی اس وقتی زندگی کی بے جا پریشانیوں سے الگ ہو جاتا ہے قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے کہ :-
“بھلا اللہ (اسم اللہ ذات) نے جس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا ہو تو وہ اپنے رب کی طرف سے (نور) پر فائز ہو جاتا ہے ,ان لوگوں کے لیے ہلاکت ہے جن کے دل (اسم اللہ ذات) کے ذکر کے فیض سے محروم ہو کر سخت ہو گئے,یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں”
سورۃ الزمر,آیت 22

جب اسم اللہ ذات سانسوں کےساتھ دوران خون میں داخل ہوتا ہے تو یہ خون کو پاک کر دیتا ہے اور وہ خون سارے جسم میں پہنچتا ہے اور جسم کے تمام اعضاء,عضلات,اور خلیوں کو دھو دیتا ہےاسم اللہ ذات کی آگ جسم کے ہر حصے سے شیطانی رغبتوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور نفس بھاگ نکلتا ہے اور سانسوں کے ساتھ ہونے والے ذکر کے اثر کے باعث قابو میں رہتا ہے ایک جاپانی سائنسدان ماسارو ایموٹو نے ثابت کیا ہے کہ اگر “بسم اللہ” کو عام پانی پر دم کیا جائے تو اس میں ایسی عجیب و غریب تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں کہ یہ اپنی بہترین مالیکیولر شکل میں آ جاتا ہے اور اگر عام پانی پر قرآن حکیم کا دم کیا جائے تو اس میں کئی بیماریوں کی شفا کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے _
(2013 needs,your all for library the QUL)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے اسم اللہ ذات کے مبارک ذکر سے بھرا ہوا خون ذاکر کے دل اور سوچ کو پاک کر کے بدل دیتا ہے_
نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمانِ مبارک ہے :-
“ہر شے کو پاک کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ ہوتا ہے اور اللہ کی یاد تمہارے دل کو پاک کرتی ہے”_
اہل ذکر کے بارے میں قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ

” خبردار!بیشک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے ”
سورۃ یونس ,آیت 62

جو بھی اللہ کا ذکر چھوڑ دیتا ہے اپنے مقصد حیات یعنی اندر کی آنکھ کھولنے میں ناکام رہتا ہے ,قرآن حکیم میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ
“اور جو شخص دنیا میں حق سے اندھا رہا سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا”
سورۃ بنی اسرائیل,آیت 72

اندر کی آنکھ خود کو پہچاننے کا نام ہے کیونکہ اسم اللہ ذات کی مدد سے جب مرشد کامل کی نگاہ کی برکت ہوتی ہے اور نفس امارہ قابو میں آ جاتا ہے تو روح پاک ہو جاتی ہے جب روح کی پہچان ہوتی ہے تو انسان خود کو پہچان جاتا ہے اور اس مقام پر اسے رب ذولجلال کی پہچان نصیب ہوتی ہے_روح کی پاکیزگی,لاثانیت,بے نظیر اور اعلی مقام کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ
“میں اس کے ظاہر کو درست کر لوں اور اس (کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں”
سورۃ ص,آیت 27
روح ایک منفرد مقام رکھتی ہے اور اس کے بارے میں ایک اور جگہ اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ
“اور یہ (کفار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں,فرما دیجیے روح میرے رب کے امر سے ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا سا علم دیا گیا ہے”
سورۃ بنی اسرائیل,آیت58
عالم امر لافانی اور غیر مرئی ہے_

تمام تر ریسرچ اور ٹیکنالوجی کے باوجود جدید سائنس زندگی کے کچھ عجوبےسمجھنے میں آج بھی ناکام ہےانسانی دل بھی فطرت کا ایک ایسا ہی عجوبہ ہےڈاکٹر آرمور کا کہنا ہے کہ انسانی دل کا اپنا الگ نظام اعصاب ہے جو دماغ یا انسان کے مرکزی نظامِ اعصاب کی مدد لیے بغیر خود ہی چلتا ہے اور اطلاعات کو سمجھتا وغیرہ ہے_
(2008 Madurasinghe)

انسان کے دل میں خلیات کا ایک چھوٹا سا گروہ ایس اے نوڈ ہے جو بجلی کی کرنٹ پیدا کرتا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کرنٹ شروع کیسے ہوتی ہے؟ اس کا منبع کیا ہے؟ اگر پاور کہیں اور سے بھیجی جاتی ہے تو اسکا منبع کیا ہے؟

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے انسان میں دل دو شکلوں میں موجود ہے ایک تو گوشت پوست کا لوتھڑا ہے جو خون پمپ کرتا ہے اور دوسرا قلب ہے (روحانی دل جسے قرآن میں فواد کہا گیا)قلب عربی زبان کا لفظ ہے اور عربی زبان میں یہ گوشت والے دل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور روحانی دل کے لیے بھیوجود انسانی میں یہ یعنی روحانی دل سوچ پر حاوی ہوتا ہے اور اپنی طاقت روح سے حاصل کرتا ہےاگر قلب ہی پردوں میں ہو تو اس کی طاقت کا اطلاق ممکن نہیں رہتا کیونکہ اس کی آواز دبی ہوئی ہوتی ہےقلب جب اللہ تعالی کی رحمت اور مرشدِ کامل کی رہنمائی کے باعث طاقتور ہوتا ہے تو نفس پر غلبہ پا جاتا ہے اور روح اس کی مشیر بن جاتی ہے_اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ :-
“اس کے نور کی مثال اس طاق جیسی ہے جس میں چراغ ہے, وہ چراغ فانوس میں رکھا ہے,فانوس گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے جو زیتون کے مبارک درخت سے روشن ہوا ہے”
سورۃالنور,آیت35
قرآنِ حکیم فرقانِ حمید واضح اشارہ کر رہا ہے کہ انسان ہی کے اندر پاور کا منبع ہے جو روح سے حاصل ہوتی ہے,قلب سے منعکس ہوتی ہے اور یہ رب ذولجلال کے نور سے آ رہی ہےاس مقام پر پہنچ کر انسان خود کو پہچان کر اللہ رب العزت کو پہچان لیتا ہے

نتیجہ: جذباتی صحت کا انسان کی جسمانی صحت پر بہت اثر ہوتا ہےاور انسان ان دونوں کے مجموعے کا نام ہےاس لیے کسی ایک کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتاانسان ایک انتہائی پیچیدہ مخلوق ہے اس کی جسمانی ساخت اور بیماریوں کو جاننا بذات خود ایک نہایت ہی دشوار کام ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا روحانیت کے ساتھ ناطہ سمجھنا تو جُوئے شِیر لانے کے برابر ہےجدید انسان کو ذہنی دباؤ اور ہیجان کے بعد پیدا شدہ مسائل کے ساتھ ساتھ ان بیماریوں کو ابتدا ہی سے ختم کرنے کے لیے روحانیت کو سمجھنا ہو گا_ اپنی 2005 کی ریسرچ میں (trendon&bhatia) نے سقراط کا ایک قول نقل کیا ہے کہ
” آنکھوں کا علاج سر اور سر کا علاج جسم کے بغیر نہیں کیا جا سکتاایسے ہی جسم کا علاج روح کو مدِ نظر رکھے بغیر نہیں کیا جا سکتایہی وجہ ہے کہ یونانی معالج کئی نیماریوں کا حل نہ ڈھونڈ سکےکہ وہ سالم (کے تصور) سے بیگانہ رہے_”

راہبرِ کامل کی رہنمائی میں کیا ہوا سانسوں کے ساتھ ذکر اور اللہ رب العزت پر پختہ ایمان جسم میں سے تمام شیطانی اثرات نکال دیتا ہےچناچہ جسم سے نفس ختم ہو جاتا ہے اور قلب و روح غلبہ پکڑتے ہیں اور بندہ اپنی خواہشوں کو اللہ رب العزت کے حوالے کر کے ابدی سکون پا جاتا ہے اور اس کے بعد ہی صحیح جسمانی اور ذہنی صحت نصیب ہوتی ہےاسم اللہ ذات خون میں سانسوں کی آکسیجن کے ساتھ داخل ہوتا ہے اور پھر یہ ذکر کی برکتوں سے لبریز خون جسم کے خلیات,عضلات,اور اعضاء میں داخل ہوتا ہےجو کہ جسم کے ہر حصے سے شیطانی اثرات نکال باہر کرتا ہےبالآخر جسم ایک پاکیزہ روح اور قلب کے قابل ہو جاتا ہے
ملائشیا کی ایک یونیورسٹی (Malaysiais Sains University) میں ایک ریسرچ کے دوران یہ ثابت کیا گیا ہے کہ آر سی پی یعنی (Cultural—Religious Psychotherapy) سے ذہنی دباؤ کے شکار ایسے مسلمان جلدبہتر ہو جاتے ہیں جو پختہ ایمان رکھتے ہوں_
(2002 khan &Aminah,Razli)
ان کی اس ریسرچ نے ثابت کر دیا ہے کہ جو اپنا ناطہ اللہ رب العزت کے ساتھ جوڑ لیتا ہے اسے دل کا سکون حاصل ہو جاتا ہے جیسے کہ قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے:-

” جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے”
سورۃ الرعد آیت 29

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں