427

جبری مذہب تبدیلی (forced conversion):مفتی گلزار احمد نعیمی

   جبری مذہب تبدیلی  Forced Conversion

[spacer height=”30px”]

مفتی گلزار احمد نعیمی

چئیرمین جماعت اہل حرم پاکستان

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے.افراد کے ذاتی اور نجی قسم کے اعمال کو ریاست پاکستان اور اسلام کے ساتھ جوڑنا انکاروزمرہ کا معمول بن چکا ہے.رواں مہینہ میں سندھ سے دو ہندو لڑکیوں کا گھر سے اپنے آشناوں کے ساتھ نکل آنا اور پھر اسلام قبول کر کے انہی کے ساتھ نکاح کر لینا آجکل قومی اور بین الاقوامی خبروں کی زینت بن گیا ہے.بی بی سی اور دیگر غیر ملکی میڈیا اسے جبری مذہب تبدیلی کا نام دے رہا ہے اور بعض غیر ملکی ادارےاور این جی اوز اسے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں.عجیب قسم کی خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں ,جبرا انکے مذہب تبدیل کروائے جارہے ہیں.یہ بہت بے جا اور غلط پروپگنڈا ہے.
جہاں تک اسلام اور اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے اسلام جبر کے ذریعے نہیں پھیلا بلکہ اسلام اپنی اعلی تعلیمات اور بے مثال اخلاقی اقدار کے ذریعے سے شرق تا غرب اور شمال تا جنوب اپنی عظمتوں کا لوہا منوا چکا ہے.اسی لیے جب مستشرقین نے سرکار دوعالم فخر آدم و بنی آدم جناب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے جا الزام دھرا کہ محمد نے اپنے تیغ زن سپاہیوں کی مدد سے اسلام پھیلایا تھا تو کارلائل نے ان کے اس الزام کی دھجیاں بکھیر دیں.اس نے کہا کہ اگر ہم آپکی بات مان لیں کہ محمد نے اپنے تیغ زن سپاہیوں کی مدد سے اسلام جبرا پھیلا تھا تو یہ بتاو کہ ان تیغ زن سپاہیوں کو کس تیغ نے مسلمان کیا تھا.اسلام کے خلاف یہ بے ہودہ قسم کی مہم بہت عرصے سے مغرب میں جاری ہے مگر اسکی کوئی حقیقت نہیں ہے.جب ہم رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کے اپنے طرز عمل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں وہاں کسی قسم کاکوئی جبر نظر نہیں آتا.امام ابن جریر طبری نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری قبیلہ بنوسالم بن عوف کے ایک شخص حصین نے اسلام قبول کیااور ان کے دو بیٹے نصرانی تھے. یہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ.وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کہ میرے دو بیٹے ہیں جو اسلام قبول کرنے سے انکاری ہیں.کیا میں انہیں جبرا مسلمان کر سکتا ہوں تو اس وقت یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی “لااکراہ فی الدین”یعنی دین میں جبر نہیں ہے(جامع البیان,ج3,ص 10..دارالمعرفة بیروت,1409ھ)
اسی طرح امام محمد بن حسن شیبانی نے موطا امام محمد میں اور دیگر محدثین نےبھی اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ سرکار کے پاس ایک یہودی کا بچہ آتا تھا اور آپکی مجلس شریفہ بہت بیٹھتا تھا آپ نے اسے اسلام قبول کرنے کا کبھی ارشاد نہیں فرمایا تاآنکہ وہ بیمار پڑ گیا سرکار تیمار داری کےلیے اس کے گھر تشریف لے گئے جب آپ نے یہ اندازہ فرما لیا کہ اس کے بچنے کی امید نہیں ہے تو اس وقت آپ نے اسے قبول اسلام کی دعوت پیش کی. اس نے اپنے باپ کی طرف نگاہ اٹھا کے دیکھا,باپ نے کہا جو یہ کہہ رہے ہیں اسے پڑھ لو,اس نے کلمہ پڑھ لیا اور کچھ وقت کے بعد وہ فوت ہوگیا.یہ دعوت آپ نے اس بچے کو اس لیے دی کہ وہ جھنم کی آگ سے بچ جائے اور دی بھی اس کے والد کی موجودگی میں.
اسلام دشمن قوتوں تو اس حقیقت سے اغماض نہیں برتنا چاہیے کہ مسلمان جس خدا کو اپنا معبود مانتے ہیں اس کے لیے یہ کوئی مشکل نہ تھا کہ وہ تمام انسانوں کو اسلام پر جبرا قائم رکھتا اور انکی پیدائش پر ہی وہ مسلمان ہوتے جیسے فرشتوں کے لیے اسکی عبادت کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے.تمام انسانوں کو مسلمان بنا دینا اسکی قدرت میں ہے مگر اس کی حکمت میں نہیں ہے.اس نے ھدایت کا رستہ بتا دیا ہے اس پر چلنے یا نہ چلنے کا انسان کو اختیار دے دیا ہے اور اسی اختیار کا قیامت کے دن حساب ہوگا.
جہاں تک آئین پاکستان کا تعلق ہے اس میں اقلیتوں کے حقوق بالکل واضح ہیں.آئین پاکستان میں جبرا کسی کو مذہب تبدیل کروانے کی بالکل اجازت نہیں ہے.یہاں اقلیتوں کے تحفظ کا پورا قانون موجود ہے. یادرکھیں یہ انڈیا نہیں ہے جہاں اقلیتیں غلامی کی زندگی گزاررہی ہیں.ہندو جسے قتل کر دے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے.پاکستان میں اقلیتیں زیادہ پرامن ہیں.
جہاں تک مذکورہ لڑکیوں کا تعلق ہے انکو جبرا کسی نے اسلام قبول نہیں کروایا.یہ اپنے آشناون کے ساتھ بھاگ کر آئی ہیں یہ ہندو تھیں انکی مسلمان کے ساتھ شادی نہیں ہوسکتی تھی اس لیے انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے یہ انکی ضرورت تھی.انکو اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے.ان کے قبول اسلام سے اسلام اور پاکستان بدنام ہوا ہے اس لیے میں ان لڑکیوں کے اس فعل کی بھرپور مذمت کرتا ہوں جو ان کے ساتھ اس عمل میں شریک ہیں انکی بھی مذمت کرتا ہوں.اگر یہ اسلام کی حقانیت سمجھ کر اسلام قبول کرتیں اور اپنے والدین کو قائل کر کے یہ قدم اتھاتیں تو بہتر ہوتا.اس طرح انہوں نے اسلام اور ریاست پاکستان کو بدنام کیا ہے.
میرا حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر قانون سازی کرے.علماء کی اہمیت کو قبول کیا جائے اور اہل فکرو دانش کو اکٹھا کر کے اس اہم مسئلہ کا حل تلاش کرے .اس ملک میں 95 فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے.آج کے جدید پیدا شدہ مسائل کے اسلامی حل کی تلاش کے لیے مذہبی اداروں اور علمائے حق کی خدمات حاصل کرے.اگر مذہبی اداروں اور علماء کو انڈر پریشر رکھ کر بدی کی قوتوں کو پروان چڑھایا گیا تو پاکستانی معاشرہ ایسے مسائل میں الجھ جائے گا کہ پھر انکا حل ڈھونڈنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا.ہم اقوام متحدہ کو امریکہ کی باندی سمجھتے ہیں مگر وہ بھی یہی کہتا ہے کہ جس ملک میں جس مذہب کی اکثریت ہوگی وہاں اسی مذہب کے اصول و ضوابط لاگو ہونگے.ہماری حکومتیں مسلم اکثریت پر الحاد اور سیکولرزم کے تسلط کے خواب کیوں دیکھتی ائی ہیں یہان ایسا نہیں ہوسکتا.
یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ یہ لڑکیاں اپنی مرضی سے آئی ہیں اور این جی اوز اسلام اور پاکستان کے خلاف زہر اگل رہی ہیں.اس تماشے کو بند کرنے کے لیے ریاست کو اپنا دوٹوک کردار ادا کرنا ہوگا.یہ بہت ضروری ہے ورنہ ہمارا معاشرہ جو پہلے سے منقسم ہے مزید تقسیم ہوجائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں