جاپان کے اغوا ہونے والے شہری 7

جاپان کے اغوا ہونے والے شہری: جاپان کے ساحلوں سے نوجوانوں کو اغوا کر کے شمالی کوریا کیوں لے جایا گیا؟

61 / 100

جاپان کے اغوا ہونے والے شہری: جاپان کے ساحلوں سے نوجوانوں کو اغوا کر کے شمالی کوریا کیوں لے جایا گیا؟

نومبر کی ایک سرد شام میں سورج غروب ہو رہا تھا جب میگومی یوکوتا نے اپنی بیڈمنٹن پریکٹس ختم کی۔ اس شام نیگاتا کی بندرگاہ پر سخت سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔

یہاں سے میگومی کا گھر صرف سات منٹ کے فاصلے پر تھا۔

13 سالہ میگومی نے اپنا بستہ اور بیڈمنٹن کا ریکٹ اٹھایا اور اپنے گھر سے محض آٹھ سو فٹ کی دوری پر اپنی دو سہیلیوں کو الوداع کہا۔ لیکن پھر وہ کبھی گھر واپس نہیں پہنچ سکیں۔

جب شام کے سات بجے تو ان کی والدہ ساکئی یوکوتا اپنی بیٹی کے گھر نہ آنے پر پریشان ہونے لگیں۔ وہ ان کے سکول میں واقع جِم کی طرف دوڑیں، یہ سوچتے ہوئے کہ راستے میں انھیں اُن کی بیٹی مل جائے گی۔

لیکن سکول کے چوکیدار نے انھیں بتایا کہ وہ تو بہت دیر پہلے سکول سے روانہ ہو چکی ہے۔

واقعے کی رپورٹ پولیس کو کی گئی۔ پولیس کھوجی کتوں اور تیز روشنیوں کی مدد سے انھیں قرب و جوار کے علاقوں میں اندھیرے میں تلاش کرتی رہی۔ وہ قریبی جنگل میں بھی تلاش کرتے ہوئے میگومی کا نام اونچی آواز سے پکارتے رہے۔ میگومی کی والدہ انھیں ساحل پر جانے والی سڑک پر تلاش کرنے لگیں اور جھنجھلاہٹ کے زیر اثر وہ وہاں پارک کی گئی ہر گاڑی کو متلاشی نظروں سے دیکھتی رہیں۔

ساحل کی پٹی پر تلاش کرنا قابلِ فہم بات تھی لیکن اس رات ایک ماں کو کسی طاقتور اور ناقابل بیان چیز نے پانی کے دہانے کی جانب کھینچا۔

بحر جاپان میں ساکئی کی نظروں سے کوسوں دور شمالی کوریا کے ایجنٹوں کی ایک کشتی کوریا کے خطے کی جانب تیزی سے رواں دواں تھی جس میں ایک خوفزدہ سکول کی طالبہ کو قید کیا گیا تھا۔

انھوں نے کوئی ثبوت نہیں چھوڑا تھا اور نہ ہی کوئی گواہ۔

یہ جرم اتنا بے باک اور عجیب تھا کہ اس کی گتھی سلجھانا تو دور کئی لوگ اس کا تصور بھی نہ کر پاتے۔ لیکن برسوں بعد پتا چلا کہ میگومی اس جرم کا شکار ہونے والی تنہا لڑکی نہیں تھیں۔

جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ سنہ 1977 سے 1983 تک شمالی کوریا کے ایجنٹوں نے کم از کم 17 جاپانی شہریوں کو اسی انداز میں اغوا کیا تھا۔ چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد شاید 100 سے زیادہ ہے۔
شمالی کوریا کے ایک جاسوس آن میونگ جو منحرف ہو کر سنہ 1993 میں جنوبی افریقہ آئے تھے، انھوں نے جاپان کی ایک مغوی خاتون کے بارے میں بتایا جو میگومی سے ملتی جلتی تھی۔

آن میونگ جو نے کہا ’مجھے وہ واضح طور پر یاد ہے، وہ نوجوان اور خوبصورت تھی۔‘

انھیں ایک اغوا کار نے، جو ایک سینیئر جاسوس تھا، سنہ 1988 میں اس سے متعلق ایک کہانی سنائی تھی۔

ان کا کہنا تھا ’یہ اغوا ایک ایسی غلطی تھی جو بلا ارادہ ہوئی۔ کوئی بھی ایک بچی کو اٹھانا نہیں چاہتا تھا۔ اس وقت دو ایجنٹس نیگیتا میں ایک خفیہ مشن کے خاتمے کے بعد ساحل پر کشتی کا انتظار کر رہے تھے۔ جب انھیں احساس ہوا کے انھیں کسی نے سڑک سے دیکھا ہے تو انھوں نے خوف کے عالم میں دیکھنے والے کو شک کی بنیاد پر پکڑ لیا۔ میگومی اپنی عمر کے لحاظ سے دراز قد تھیں۔ اندھیرے میں انھیں پتا نہیں چلا کہ وہ ایک بچی ہے۔‘

انھیں 40 گھنٹے تک تاریک کمرے میں رکھنے کے بعد شمالی کوریا پہنچایا گیا۔ آن کہتے ہیں کہ باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں اس کے ہاتھوں کے ناخن اکھڑے ہوئے اور خون آلود تھے۔ اسے اغوا کرنے والے ایجنٹوں کی سرزنش بھی کی گئی کیونکہ وہ بہت کم عمر تھی اور ’اس چھوٹی لڑکی کا شمالی کوریا نے کیا کرنا تھا؟‘

قید کے دوران میگومی اپنی والدہ کو یاد کر کے روتی رہیں اور کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ انھیں پُرسکون رکھنے کے لیے اغوا کاروں نے وعدہ کیا کہ اگر وہ کوریئن زبان بولنا سیکھیں گی تو انھیں گھر جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔
وہ صرف ایک پریشان بچے کو بیوقوف بنانے کے لیے بولا گیا جھوٹ تھا۔ اس کے اغوا کاروں کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس کے بجائے وہ میگومی سے جاسوسوں کو تربیت دلوانے کا کام لینا چاہتے تھے تاکہ وہ جاسوسی کے ایک سکول میں جاپانی زبان اور رویوں کے بارے میں جاسوسوں کو سکھائیں۔

ملک کے مستقبل کے رہنما کم جونگ اِل اس وقت انٹیلیجنس سروس کے سربراہ تھے، وہ اپنے جاسوسی کے پروگرام کو وسعت دینا چاہتے تھے۔ اغوا کیے جانے والے صرف غیر ملکی استاد ہی نہیں تھے۔ وہ خود بھی جاسوس بن سکتے تھے یا پیانگ یانگ ان کی شناخت کو جعلی پاسپورٹ کے لیے استمعال کر سکتا تھا۔ وہ دوسرے غیر ملکیوں سے شادی کر سکتے تھے (جو شمالی کوریئن نہیں کر سکتے) اور ان کے بچے بھی حکومت کے کام آ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں