Haroon-ur-Rasheed 11

تم غور کیوں نہیں کرتے”

58 / 100

تم غور کیوں نہیں کرتے”
ہارون الرشید
غورو فکر اور سوچ بچار کے سوا ادبار سے بچ نکلنے کا اور کوئی نسخہ نہیں۔ کبھی تھا، نہ کبھی ہو گا۔ اللہ کی آخری کتاب یہ پوچھتی ہے”تم غور کیوں نہیں کرتے”

دروازہ کھولا، لپک میرے دوست آگے بڑھے۔ اکتفا مصافحے پر نہ کیا، گلے ملے۔ حیرت سے میں انہیں دیکھتا رہ گیا۔ پڑھے لکھے جہاں دیدہ آدمی۔ ابھی ابھی ڈاکٹر فیصل سلطان کو کہتے سنا: کورونا کی نئی لہر شروع ہو چکی۔ فرمایا: زیادہ تیزی سے جہاں کہیں مرض پھیل رہا ہے، مقامی انتظامیہ سے درخواست کریں گے کہ سختی سے لوگوں کو احتیاط پہ کاربند کریں۔

ایک لمحے کو میں نے سوچا: درخواست کیا معنی؟ انتظامیہ کو حکم دیا جاتا ہے۔ خیر، یہ ایک چھوٹی سی بات ہے۔ لازم نہیں کہ نفسیاتی کمزوری ہی اس کے پیچھے کارفرما ہو۔ گاہے یہ غیر معمولی شائستگی ہوا کرتی ہے۔

برسبیلِ تذکرہ، شوکت خانم ہسپتال سے ایک مریض کو فارغ کیا جانا تھا کہ لا علاج تھا۔ کسی سبب سے، کسی مجبوری سے، خاندان یہ چاہتا تھا کہ مزید تین دن مریض ہسپتال میں رہے۔ ایک دوست کے توسط سے ورثا نے مجھ سے رابطہ کیا۔ ہسپتال کی انتظامیہ سے خاکسار نے التجا کی۔ درخواست قبول کر لی گئی لیکن پھر ایک عجیب واقعہ ہوا۔ آدھی رات کو ڈاکٹر فیصل سلطان کا فون آیا: ہارون صاحب ایک بچے کی جان خطرے میں ہے۔ اس لیے کہ لاعلاج مریض گھر نہیں جائے گا تو بچے کا علاج شروع نہ ہو سکے گا۔ اپنی غلطی کا ادراک کیا۔ معذرت کی اور عرض کیا کہ آئندہ ایسی کوتاہی سرزد نہ ہو گی۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں اب تک ڈاکٹر صاحب کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔ مافیا وہیں کی وہیں ہے۔ وہی کارنامے اور وہی کرتوت ہیں۔ کورونا کے باب میں البتہ وہ متحرک نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی عطا کرے۔ قوم کو اس وبا سے محفوظ رکھے۔ تاریخ میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔

آخر وہ کیا چیز ہے جو ہمیں اس قدر غیر محتاط بناتی ہے۔ ابھی ابھی ارشاد عارف سے عرض کیا: قائد اعظمؒ کی ہزاروں تصاویر ہیں۔ ان میں کوئی ایک بھی ایسی نہیں، جس میں وہ عدم توجہ کا شکار ہیں۔ ہر وقت، ہر کہیں اپنے مخاطب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، نہایت توجہ سے اس کی بات سنتے ہوئے۔

خاکسار جب یہ عرض کرتا ہے کہ قائد اعظمؒ پچھلی تین صدیوں کے سب سے بڑے لیڈر ہیں، تو جذباتی وابستگی کا اظہار نہیں ہوتا۔ سٹینلے والپرٹ کا جملہ یاد کیجیے: تاریخ میں ایسے بہت کم لیڈر ہوں گے، ایک نئی قوم جنہوں نے تشکیل دی ہو۔ بہت تھوڑے ہوں گے جو اپنی قوم کو آزادی دلا سکے۔ اس سے بھی کم ہوں گے اپنی قوم کے لیے جنہوں نے علیحدہ وطن حاصل کیا ہو۔ قائد اعظمؒ نے یہ تینوں کارنامے انجام دیئے۔

ایک لمحے کو رکیے، دو ہزار برس پیچھے پلٹ کر دیکھیے۔ سامنے سیزر کی لاش پڑی ہے۔ بروٹس کے خنجر کا وہ شکار ہو چکا۔ سرہانے انتھونی کھڑا ہے۔ بے اختیار وہ کہتا ہے: Are All thy Conqueasts`glories and trumphs` spoils، shrunk to this little measure?، تو یہ ہے تمام خیرہ کن کامیابیوں، عظمتوں اور فتوحات کا حسرت ناک انجام۔

کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوتا کہ اپنی زندگی میں کوئی شخص کتنا مقبول ہوا، کتنی داد پائی، کتنی فتوحات حاصل کیں۔ کامرانی وراثت سے پہچانی جاتی ہے اپنے پیچھے کوئی کیا چھوڑ گیا۔ پیغمبران عظام حسنِ کردار، علم، اخلاق، درد اور ایثار کی کہانیاں چھوڑ گئے۔ نامراد وہ تھے جو ان پر ایمان نہ لائے، کوئی پیغمبر ناکام نہ تھا۔

رحمت اللعالمینﷺ کبھی کوئی پیدا ہوا نہ ہو گا جو ستائش کا حق ادا کر سکے۔ اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر نے کہا تھا:

غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشت

مکاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدؐ است

اللہ کی بارگاہ میں سرکارؐ کی میں نے مدح کی۔ ان کے مرتبے سے وہی واقف ہے۔ قرآن کہتا ہے”لعمرک” اے پیمبر قسم ہے تیری عمرِ عزیز کی۔ یعنی ایک ایک لمحے کی۔ پروردگار انہیں چمکتا ہوا سورج قرار دیتا ہے”سراجاً منیرا” فرمایا: اللہ اور اس کے فرشتے محمدؐ پہ درود بھیجتے ہیں۔ ارشاد کیا: مومنوں کے باب میں وہ حریص واقع ہوئے ہیں، یعنی ان کی بھلائی کے لیے۔ ایک بار خود بھی ارشاد کیا تھا: تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر میں تمہیں آگ سے بچاتا ہوں۔

مسلمان اللہ کی کتاب اور اس کے سچے رسولؐ کی ہر بات بھول گئے۔ سرکارؐ کا یہ ارشاد بھی یکسر فراموش کر دیا: زندگی ایسی ایک سواری ہے کہ اگر تم اس پر سوار نہ ہو گے تو تم پر وہ سوار ہو جائے گی۔ مفہوم واضح ہے؟ یہ کہ زندگی پہل قدمی میں ہوتی ہے۔

یہ امت روایات میں کھو گئی

حقیقت خرافات میں کھو گئی

خرافات ہی خرافات، پیروی ہی پیروی، خوئے غلامی۔ پہل قدمی کیا یہاں تو توجہ ہی نہیں۔ مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ اللہ کے بندو ماسک پہن لیا کرو، تھوڑا سا فاصلہ برقرار رکھا کرو۔ اپنی اور دوسروں کی زندگیاں خطرے میں نہ ڈالو۔ قوم ہے کہ سن کر نہیں دیتی۔ غور ہی نہیں کرتی سوچتی ہی نہیں۔

یہ غلاموں کا شیوہ ہے خود کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دینا۔ Waiting for ALLAH کی مصنف برطانوی صحافی نے پاکستانی قوم کے مزاج کو بالکل ٹھیک سمجھا تھا۔

عامیوں کا ذکر کیا، لیڈروں اور دانشوروں کو ملاحظہ کیجیے۔ کچھ مغرب کے اندھے پیروکار، اتنی سادہ سی بات نہیں سمجھتے کہ ہر قوم کا الگ مزاج ہوتا ہے۔ اس کے سیاسی، سماجی اور انتظامی ادارے اس مزاج کو ملحوظ رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ جس طرح شجر کی جڑیں زمین میں ہوتی ہیں، اسی طرح قومی اداروں کی تاریخ، تمدن، روایات اور تہذیب و معاشرت میں۔ دوسری طرف ملّا کے اندھے پیروکار ہیں۔ وہ آدمی جو ماضی میں زندہ رہتا ہے۔ اختلاف رائے کو کفر کا درجہ دیتا ہے۔ قرآن کریم اور سیرت رسولؐ سے اکتساب نور کرنے کی بجائے، اپنے استاد کی بات مانتا ہے، Brain washed۔

کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی

وہی زاویے جو عام تھے، مجھے کھا گئے

زندگی غور و فکر کا مطالبہ کرتی ہے۔ مسلسل اور پیہم غور و فکر کا۔ فرمایا: عالم کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے افضل ہے۔ فرمایا: درجات علم کے ساتھ ہیں۔ فرمایا: اٹھتے بیٹھتے، پہلوئوں کے بل لیٹے پروردگار کو وہ یاد کرتے ہیں اور کائنات کی تخلیق پہ غور کیا کرتے ہیں۔

ملّا ماضی میں زندہ ہے۔ سامنے کا یہ نکتہ اسے سجھائی نہیں دیتا کہ زندگی اپنے زمانے میں بسر کی جاتی ہے۔ اس کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ پیروی نہیں، ارتقا اور بالیدگی کا انحصار فکر و تدبر میں ہوتا ہے۔ علمائِ کرام کے مقابلے میں صوفی کیوں کامیاب رہا۔ صرف اس لیے نہیں کہ وہ بے لچک ہوتا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ غورو فکر کرتا ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ اس میں نرمی ہوتی ہے بلکہ کشادگی بھی۔ ہمیشہ ہر ایک کے لیے اس کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ دوسروں کو تو ہر طرح کی رعایت وہ دے سکتا ہے مگر خود کو کبھی نہیں۔

ادھر ہم ایسے دانائوں کو دیکھتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ تصوف ایک متوازی دین ہے، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اللہ تم پہ رحم کرے۔ جنیدِ بغدادؒ، امام شاذلیؒ، سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ اور شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا اسلام سے اگر کوئی تعلق نہیں تو کس کا ہے۔ سارا برصغیر کنفیوژن کا شکار تھا، جھنگ سے ایک آدمی اٹھا اور اس نے اورنگزیب عالمگیر کی حمایت میں علم بلند کیا۔ اس آدمی کا نام سلطان باہو تھا۔

غورو فکر اور سوچ بچار کے سوا ادبار سے بچ نکلنے کا اور کوئی نسخہ نہیں۔ کبھی تھا، نہ کبھی ہو گا۔ اللہ کی آخری کتاب یہ پوچھتی ہے”تم غور کیوں نہیں کرتے”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں