تفسیر قرآن کے آداب 20

تفسیر قرآن کے آداب

62 / 100

تفسیر قرآن کے آداب (حصہ اول)
تفسیر وتاویل کا مفہوم تفسیر کے معنی ہیں: ’’کسی چیز کا کھولنا، ظاہر کرنا، بیان کرنا۔‘‘ اور اہل علم کی اصطلاح میں تفسیر قرآن کے معنی ہیں:’’قرآن کریم کے معانی کو بیان کرنا اور مرادِ خداوندی کی تعیین کرنا۔‘‘ تاویل کے معنی ہیں: ’’پھیرنا ، لوٹانا‘‘ اور اہل علم کی اصطلاح میں تاویل سے مراد ہے: ’’قرآن کریم کے الفاظ اور جملوں کو ان کی اصل مراد کی طرف لوٹانا۔‘‘ تفسیر وتاویل کے الفاظ عموماً ہم معنی استعمال کیے جاتے ہیں اور بعض اہل علم ان دونوں کے درمیان یہ فرق کرتے ہیں کہ تفسیر کا لفظ زیادہ تر مفرد الفاظ کی تشریح کے لیے استعمال ہوتا ہے اور تاویل کا لفظ جملوں کا مفہوم بیان کرنے کے لیے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ: جس فقرے کا مفہوم قطعی طور پر متعین ہو اور اس میں کسی دوسرے مفہوم کی گنجائش نہ ہو ایسے مفہوم کو بیان کرنا تفسیر کہلاتا ہے اور جہاں متعدد معانی کا احتمال ہو وَہاں غوروفکر کے بعد ایک پہلو کو متعین کرنے کا نام ’’تاویل‘‘ ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ: جو مفہوم منقول ہو اس کا نام تفسیر ہے اور جو اجتہاد واستنباط سے تعلق رکھتا ہو اسے تاویل کہا جائے گا۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: الاتقان، نوع:۷۷) خلاصہ یہ کہ : ’’علم تفسیر اس علم کو کہتے ہیں جس میں قرآن کریم کے معنی بیان کیے جائیں اور اس کے احکام اور حکمتوں کو کھول کر واضح کیا جائے۔‘‘ (معارف القرآن، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، جلد اول، ص:۴۹) ایک نازک ترین ذمہ داری قرآن کریم کی تفسیر و تشریح ایک کٹھن کام اور نہایت نازک ترین ذمہ داری ہے، اس لیے کہ قرآن کریم حق تعالیٰ شانہٗ کا مقدس کلام ہے اور قرآن کریم کی تفسیر در حقیقت حق تعالیٰ شانہٗ کی ترجمانی کا نام ہے، جب ہم قرآن کریم کے کسی لفظ ، کسی جملے یا کسی آیت کی تفسیر بیان کرتے ہیں تو گویا ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہی مراد ہے، اس طرح اپنے بیان کیے ہوئے مفہوم کو حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف منسوب کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ اس سلسلہ میں ذرا سی لغزش اور سہل انگاری افتراء علی اللہ کا موجب ہوسکتی ہے، افتراء علی اللہ نہایت سنگین جرم ہے، حق تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے: ’’وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلٰی اللّٰہِ کَذِبًا أَوْ کَذَّبَ بِأٰیَاتِہٖ، إِنَّہٗ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُوْنَ۔‘‘ ترجمہ:’’اور اس سے زیادہ کون بے انصاف ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھوٹا بتلادے، ایسے بے انصافوں کی رستگاری نہ ہوگی۔‘‘ (ترجمہ حکیم الامت تھانویؒ) سربراہانِ مملکت اور شاہانِ عالم کی ترجمانی کے فرائض ادا کرنا سب جانتے ہیں کہ کس قدر نازک ذمہ داری ہے اور جو شخص اس ذمہ داری پر فائز ہو اس کے لیے کیسی لیاقت ومہارت شرط ہے؟ شاہانہ رسوم وآداب اور زبان ومحاورات سے اس کا کس درجہ باخبر ہونا ضروری ہے، پھر ترجمانی کے فرائض ادا کرتے ہوئے اسے کس قدر حزم واحتیاط اور بیدارمغزی سے کام لینا چاہیے اور پھر دانستہ ونادانستہ غلط ترجمانی پر کس قدر عتاب شاہی کا اندیشہ ہے، جب سلاطین دنیا کی ترجمانی اس قدر نازک کام ہے تو اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شہنشاہِ مطلق، احکم الحاکمین کی ترجمانی کا کام کس قدر مشکل اور کتنا نازک ہوگا۔ قرآن کریم کی تفسیر اپنے اندر نزاکت کا ایک اور پہلو بھی رکھتی ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم ہی سے شاہراہِ انسانیت کی نشاندہی ہوتی ہے، اسی سے عقائد وعبادات کی مشکلیں متعین ہوتی ہیں، اسی سے معاملات ومعاشرت کی تشکیل ہوتی ہے، اسی سے حق تعالیٰ شانہٗ کی پسند وناپسند، جائز وناجائز اور حلال وحرام کی حد بندی ہوتی ہے، اسی سے اخلاقی قدریں وجود پذیر ہوتی ہیں، اسی سے انسانیت وعبدیت کے پیمانے ڈھلتے ہیں، اسی سے اسلام کا عالم گیر قانون وجود میں آتا ہے، الغرض دین ومذہب، عقائد واعمال، اخلاق ومعاشرت، سیاست وتمدن اور عدل وانصاف کے قانونی، اخلاقی اور انسانی پہلوؤں کا مدار قرآن کریم ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر وتشریح میں ذرا سی بے احتیاطی بھی کتنے ہولناک مفاسد کا سبب بن سکتی ہے؟ اور ایسے بے احتیاط مفسر اور اس پر اعتماد کرنے والے کے حق میں شدید خطرہ ہے کہ یہ کتابِ ہدایت ’’یَہْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا‘‘ کے بجائے ’’یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا‘‘ کا منظر پیش کرے۔ تفسیر قرآن میں سلف صالحین کی احتیاط وَرزی تفسیر قرآن کی اسی عظمت ونزاکت کے پیش نظر بہت سے سلف صالحین صحابہؓ وتابعینؒ تفسیر کے باب میں لب کشائی سے گریز کرتے تھے، چنانچہ جماعتِ صحابہؓ کے گل سرسبد اور انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد انسانیت کے سب سے افضل ترین شخص حضرت ابوبکر صدیق q ہیں، ان کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے قرآن کریم کے کسی لفظ کے معنی دریافت کیے گئے تو فرمایا: ’’أی أرض تقلّنی وأی سماء تظلنی إذا قلتُ فی کتاب اللّٰہ ما لا أعلم‘‘(تفسیر ابن کثیر،ج:۱، ص:۵) اور سید التابعین حضرت سعید بن مسیّبv کے بارے میںمنقول ہے کہ جب ان سے قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا جاتا تو فرماتے :’’إنا لانقول فی القرآن شیئًا۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر،ج:۱،ص:۶)یعنی ’’ہم قرآن کریم کی تفسیر میں کچھ نہیں کہا کرتے تھے۔‘‘ یحییٰ بن سعیدv کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیّبv قرآن کریم کی صرف انہی آیات میں لب کشائی کرتے تھے جن کا مفہوم قطعی طور پر معلوم ہوتا تھا۔ یزید بن ابی یزیدv کہتے ہیںکہ جب سعید بن مسیّبv سے حلال وحرام اور جائز وناجائز کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو معلوم ہوتا کہ یہ دنیا کے سب سے بڑے عالم ہیں، لیکن جب ہم ان سے قرآن کریم کی کسی آیت کے بارے میں سوال کرتے تو ایسے خاموش ہوجاتے گویا انہوں نے سنا ہی نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق q ’’اعلم الصحابہؓ ‘‘ہیں اور حضرت سعید بن مسیبv ’’اعلم التابعین‘‘ ہیں، لیکن علم وفضل، دانش وبصیرت، تقویٰ وطہارت اور نورِ قلب میں بلند مرتبہ پر فائز ہونے کے باوجود وہ قرآن کریم میں لب کشائی سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ وہ اس کی نزاکت سے باخبر ہیں اور جانتے ہیں کہ تفسیر میں معمولی بے احتیاطی کا وبال کتنا سنگین ہے۔ شرائطِ مفسر قرآن کریم کی تفسیر کے لیے کسی لیاقت درکار ہے اور ایک مفسر قرآن میںکن اوصاف وشرائط کا پایا جانا ضروری ہے؟ علمائے امت نے اس پر تفصیل سے گفتگو فرمائی ہے، حافظ جلال الدین سیوطیv (متوفی:۹۱۱ھ) نے ’’الاتقان‘‘ کی ۷۸ویں نوع میں اس کا خلاصہ درج کردیا ہے۔ امام سیوطیv فرماتے ہیں کہ: بعض اہل علم تو اس کے قائل ہیں کہ کسی شخص کے لیے خواہ وہ کیسا عالم وفاضل ہو قرآن کریم کی تفسیر جائز ہی نہیں، بلکہ جو کچھ آنحضرت a سے منقول ہے اسی پر بس کرنا ضروری ہے۔(مگر یہ قول عامہ علماء کے نزدیک صحیح نہیں، ناقل) اور علماء کی ایک جماعت اس کی قائل ہے کہ جو شخص ان علوم میں مہارت رکھتا ہو، جو تفسیر کے لیے ضروری ہیں اس کے لیے قرآن کریم کی تفسیر جائز ہے اور یہ مندرجہ ذیل پندرہ علوم ہیں: ۱:۔۔۔۔۔علم لغت، ۲:۔۔۔۔۔علم صرف، ۳:۔۔۔۔۔علم نحو، ۴:۔۔۔۔۔علم اشتقاق، ۵:۔۔۔۔۔علم معانی، ۶:۔۔۔۔۔علم بیان، ۷:۔۔۔۔۔علم بدیع، ۸:۔۔۔۔۔علم قراء ات، ۹:۔۔۔۔۔علم اصول الدین، ۱۰:۔۔۔۔۔علم اصول فقہ، ۱۱:۔۔۔۔۔علم اسباب النزول، ۱۲:۔۔۔۔۔علم ناسخ ومنسوخ، ۱۳:۔۔۔۔۔علم فقہ، ۱۴:۔۔۔۔۔علم حدیث، ۱۵:۔۔۔۔۔نورِ بصیرت اور وہبی علم۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں