تفسیر القرآن الکریم (ابن کثیر) 22

تفسیر القرآن – سورۃ البقرہ ، آیۃ :‌61

12 / 100

تفسیر القرآن – سورۃ البقرہ ، آیۃ :‌61
احسان فراموش یہود
یہاں بنی اسرائیل کی بےصبری اور نعمت اللہ کی ناقدری بیان کی جا رہی ہے کہ من وسلوی جیسے پاکیزہ کھانے پر ان سے صبر نہ ہوسکا اور ردی چیزیں مانگنے لگے ایک طعام سے مراد ایک قسم کا کھانا یعنی من وسلویٰ ہے۔ قوم کے معنی میں اختلاف ہے ابن مسعود کی قرأت میں ثوم ہے، مجاہد نے فوم کی تفسیر ثوم کے ساتھ کی ہے۔ یعنی لہسن، حضرت ابن عباس سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اگلی لغت کی کتابوں میں فوموالنا کے معنی اختبروا یعنی ہماری روٹی پکاؤ کے ہیں امام ابن جریر فرماتے ہیں اگر یہ صحیح ہو تو یہ حروف مبدلہ میں سے ہیں جیسے عاثور شرعا فور شراثافی اثاثی مفافیر مغاثیر وغیرہ جن میںسے ت اور ث بدلا گیا کیونکہ یہ دونوں مخرج کے اعتبار سے بہت قریب ہیں واللہ اعلم۔ اور لوگ کہتے ہیں فوم کے معنی گیہوں کے ہیں حضرت ابن عباس سے بھی یہی تفسیر منقول ہے اور احیجہ کے شعر میں بھی فوم گیہوں کے معنی میں آیا ہے بنی ہاشم کی زبان میں فوم گیہوں کے معنی میں مستعمل تھا۔ فوم کے معنی روٹی کے بھی ہیں بعض نے سنبلہ کے معنی کئے ہیں حضرت قتادہ اور حضرت عطا فرماتے ہیں جس اناج کی روٹی پکتی ہے اسے فوم کہتے ہیں بعض کہتے ہیں فوم ہر قسم کے اناج کو کہتے ہیں حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو ڈانٹا کہ تم ردی چیز کو بہتر کے بدلے کیوں طلب کرتے ہو ؟ پھر فرمایا شہر میں جاؤ وہاں یہ سب چیزیں پاؤ گے جمہور کی قرأت ” مصرا ” ہی ہے اور تمام قرأتوں میں یہی لکھا ہوا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ شہروں میں سے کسی شہر میں چلے جاؤ۔ ابی بن کعب اور ابن مسعود سے مصر کی قراءت بھی ہے اور اس کی تفسیر مصر شہر سے کی گئی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مصراً سے بھی مراد مخصوص شہر مصر لیا گیا ہو اور یہ الف مصرا کا ایسا ہو جیسا قواریرا قواریرا میں ہے مصر سے مراد عام شہر لینا ہی بہتر معلوم ہوتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ جو چیز تم طلب کرتے ہو یہ تو آسان چیز ہے جس شہر میں جاؤ گے یہ تمام چیزیں وہاں پالو گے میری دعا کی بھی کیا ضرورت ہے ؟ کیونکہ ان کا یہ قول محض تکبر سرکشی اور بڑائی کے طور پر تھا اس لئے انہیں کوئی جواب نہیں دیا گیا واللہ اعلم۔
پاداش عمل
مطلب یہ ہے کہ ذلت اور مسکینی ان پر کا مقدر بنادی گئی۔ اہانت و پستی ان پر مسلط کردی گئی جزیہ ان سے وصول کیا گیا مسلمانوں کے قدموں تلے انہیں ڈال دیا گیا فاقہ کشی اور بھیک کی نوبت پہنچی اللہ کا غضب و غصہ ان پر اترا ” آباؤ ” کے معنی لوٹنے اور ” رجوع کیا ” کے ہیں باء کبھی بھلائی کے صلہ کے ساتھ اور کبھی برائی کے صلہ کے ساتھ آتا ہے یہاں برائی کے صلہ کے ساتھ ہے یہ تمام عذاب ان کے تکبر عناد حق کی قبولیت سے انکار، اللہ کی آیتوں سے کفر انبیا اور ان کے تابعداروں کی اہانت اور ان کے قتل کی بنا پر تھا اس سے زیادہ بڑا کفر کون سا ہوگا ؟ کہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور اس کے نبیوں کو بلاوجہ قتل کرتے رسول اللہ ﷺ میں عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ میں خوبصورت آدمی ہوں میرا دل نہیں چاہتا کہ کسی کی جوتی کا تسمہ بھی مجھ سے اچھا ہو تو کیا یہ تکبر اور سرکشی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تکبر اور سرکشی حق کو رد کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے چونکہ بنی اسرائیل کا تکبر کفرو قتل انبیاء تک پہنچ گیا تھا اس لئے اللہ کا غضب ان پر لازم ہوگیا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک ایک نبی اسرائیل ان میں موجود تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے پھر بازاروں میں جا کر اپنے لین دین میں مشغول ہوجاتا (ابو داؤد طیالسی) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت کے دن اس شخص کو ہوگا جسے کسی نبی نے قتل کیا ہو یا اس نے کسی نبی کو مار ڈالا ہو اور گمراہی کا وہ امام جو تصویریں بنانے والا یعنی مصور ہوگا۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور ظلم و زیادتی کا بدلہ تھا یہ دوسرا سبب ہے کہ وہ منع کئے ہوئے کام ہی کرتے تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے واللہ اعلم۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں