Dr-Jamshaid-Nazar 81

تعلیمی ادارے بند۔ اساتذہ کے امتحان شروع

53 / 100

تعلیمی ادارے بند۔ اساتذہ کے امتحان شروع

ملک بھر میں کورونا کی دوسری لہر کی بڑھتی ہوئی شدت نے ایک مرتبہ پھر سے ماحول کو خوفزدہ اور بے چین کر دیا ہے۔ اس وبا سے تباہ حال زندگی کے شعبے ابھی مکمل طور پر معمول پربھی نہیں آئے تھے کہ کورونا نے لاک ڈاؤن کی بیڑیاں پہنا کر آزاد زندگی کو پھر سے قید کرنے کا پروگرام بنالیا ہے۔ ہر کوئی تشویش میں مبتلا ہے کہ اگر کورونا کی وجہ سے مزید پابندیاں لگیں تو کیا ہوگا؟ کورونا ایک طرف لوگوں کی زندگیاں چھین کر انھیں موت کی نیند سلا رہا ہے تو دوسری جانب زندہ بچ جانے والوں کے روزگار، کاروبار، تعلیم کو اس طرح داو، پر لگادیا ہے کہ وہ سانس تو لے رہے ہیں مگر اندر سے مر چکے ہیں۔
زندگی کی اس تباہ حالی کا براہ راست ذمہ دار ہم کورونا کو ٹھہراتے ہیں لیکن اس بات پر غور کرنا بھی پسند نہیں کرتے کہ اس بے جان لیکن جان لیوا وائرس کو ہم اپنی کوتاہیوں اور لاپرواہیوں کی وجہ سے خود اتنا زیادہ پھیلاتے رہے ہیں کہ اب صورتحال پھر سے بے قابو ہو گئی ہے اسی لئے کورونا کے مزید پھیلاو کو روکنے کے لئے کاروبار سرگرمیاں شام چھ بند کرنے اور تعلیمی ادارے دس جنوری تک بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
حکومت نے ملک بھر میں 26 نومبر سے سکول، کالج اور یونیورسٹی سمیت تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں اور تمام تعلیمی اداروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ طلباء کو آن لائن تعلیم دیں اور جہاں آن لائن تعلیم دینا ممکن نہ ہو وہاں طلباء کو ہوم ورک دیا جائے تاکہ تعلیم کا سلسلہ کسی طرح برقرار رکھا جاسکے۔ اس اقدام کے مطابق ملک کے تمام تعلیمی ادارے تو بند ہو گئے ہیں لیکن اب اساتذہ کے کڑے امتحان شروع ہو گئے ہیں کیونکہ اساتذہ آن لائن تعلیم دینے کے لئے تربیت یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے اور نہ ہی آن لائن تعلیم کے لئے تعلیمی اداروں کے پاس مناسب انتظامات اور وسائل ہیں۔ کورونا کی وجہ سے نجی تعلیمی اداروں کے بے شمار اساتذہ پہلے ہی اپنے روزگار سے ہاتھ دھو چکے ہیں اس لئے ان اداروں کے موجودہ اساتذہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس ٹاسک کو ہر حال میں پورا کرنا ہی ان کے روزگار کو جاری رکھنے کی ایک ضمانت ہے۔ اساتذہ کو اس کڑے امتحان کو لازمی پاس کرنا ہوگا۔
پی ٹی آئی کی حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر کورونا کے دوران تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لئے ٹیلی سکول کے نام سے پی ٹی وی پر خصوصی تعلیمی پروگرام شروع کر رکھا ہے جس سے 80 لاکھ بچے روز استفادہ حاصل کر رہے ہیں جبکہ جن علاقوں میں طلباء کی ٹی وی تک رسائی ممکن نہیں ان کے لئے ریڈیو پاکستان پر خصوصی پروگرام نشر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس سلسلے میں حال ہی میں ریڈیو پاکستان اور وزارت اطلاعات و نشریات کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت ریڈیو سکولز چینل پر تعلیمی پروگرام اور لیکچرز نشر کیے جائیں گے۔
ریڈیو اسکولز کا قیام وزیر اعظم پاکستان کے وژن کی روشنی میں گھروں تک تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانے، کووڈ 19 کے اثرات سے بچوں کو تعلیمی حرج سے بچانے کے لئے نہایت اہم پیشرفت ثابت ہوگا۔ ریڈیو پاکستان کی رسائی پورے پاکستان میں ہونے کی وجہ سے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے بچے وفاقی وزارت تعلیم کے اس اقدام سے استفادہ کرسکیں گے۔ ریڈیو اسکولز سے صبح کو 10 سے 12 بجے تک تعلیمی پروگرام نشر کرے گا جبکہ شام کو دوبارہ نشر کیا جائے گا تا کہ ورکشاپس میں کام کرنے والے بچے شام کو استفادہ کر سکیں۔
ان پروگرامز کو انٹرنیٹ اور موبائل ایپ کے ذریعے بھی سنا جا سکے گا۔ حکومت جلد ہی ”ای۔ تعلیم“ پورٹل بھی شروع کر رہی ہے ہے جس کے ذریعے ٹیلی سکولز اور ریڈیو اسکولز کے پروگرامز ایک کلک سے دیکھے جا سکیں گے۔ حکومت معیشت کی بحالی کے ساتھ ساتھ تعلیم کی بحالی کے لئے بھی کوشاں ہیں جس کے لئے ضروری ہے کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر آراستہ کرتے ہوئے آن لائن تعلیم کو فروغ دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں