Haroon-ur-Rasheed 19

تضادات

59 / 100

تضادات
ہارون الرشید
مولانا فضل الرحمٰن اور میاں محمد نواز شریف کے پلّے کیا ہے کہ بیک وقت اسٹیبلشمنٹ اور کپتان کو للکاریں؟یہی بنیادی تضاد ہے،باقی تفصیلات۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے پر کوہستانِ نمک سے نیچے اتریں تو ایک بورڈ نمایاں نظر آتاہے “slippery when wet”۔ سڑک بھیگی ہو تو پھسلواں ہوجاتی ہے۔ پی ڈی ایم کی گاڑی پھسل گئی ہے۔بعض کا خیال تو یہ ہے کہ صرف تجہیز و تکفین باقی ہے۔ ناچیز کی رائے قدرے مختلف ہے۔ اب بھی ہوش مندی سے کام لیا جائے تو کامل تباہی سے بچا جا سکتاہے۔ پی ڈی ایم کی تباہی کا آغاز نواز شریف نے کیا۔ گوجرانوالہ کے جلسہ ء عام میں اپنے خطاب سے۔ صاحبزادی اور مولانا فضل الرحمٰن دل و جان سے اس عمل میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ محترمہ مریم نواز کو وزیرِ اعظم کی کرسی دکھائی دے رہی تھی۔ مولاناکے قلب و دماغ میں انتقام کی آگ۔ سب حیلے حربے جانتے ہیں لیکن بدلے کی تمنا غالب آجائے تو تجزیے کی صلاحیت کند ہو جاتی ہے۔ آپ کی آرزو تو یہ تھی کہ ارکانِ اسمبلی حلف ہی نہ اٹھائیں۔ مگر یہ کیسے ممکن تھا۔مہینوں گرد پھانکی تھی، کروڑوں خرچ کیے تھے۔ راولپنڈی کے ساتھ شہباز شریف رابطے میں تھے۔ ان کے بقول کابینہ پر بھی ان سے مشورہ کیا گیا۔ خیال ان کا یہ تھا کہ الیکشن جیت لیا جائے گا۔ ہار گئے تو عمران خان کو اکھاڑ پھینکنے کا سپنا دیکھنے لگے۔ اس کا جواز بھی تھا۔ فقط راولپنڈی سے رابطہ نہیں بلکہ سامنے کی یہ سچائی بھی کہ پنجاب میں نون کی نشستیں پی ٹی آئی سے زیادہ تھیں۔وسطی پنجاب میں آج بھی شریف خاندان کپتان سے زیادہ مقبول ہے۔ عمران خان کا پلڑا تو اس لیے بھاری ہوا کہ کراچی، بلوچستان اور جنوبی پنجاب ان کی گود میں آگرے۔ ایم کیو ایم کی عمر پوری ہو چکی تھی۔کراچی اس سے بے زار تھا۔ تشدد اور خوں ریزی کی ایک ربع صدی کے بعد روشنیوں کا شہر تبدیلی کے لیے بے تاب تھا۔ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں اہتمام و انصرام کیا گیا اور سب جانتے ہیں کہ کس طرح۔ عمران خان کا مسئلہ یہ نہیں کہ قبولیت کم ہے۔ ذاتی طور پر وہ نواز شریف سے زیادہ مقبول ہیں مگر سیاست کا فہم نہیں رکھتے، ذہنی ریاضت نہیں کرتے، مردم شناس اور معاملہ فہم نہیں۔ خوشامدیوں میں گھرے رہتے ہیں۔ بہت سا وقت دل کا بوجھ ہلکا کرنے (catharsis)میں بیت جاتا ہے۔ 2013ء کے انتخاب سے پہلے دو پہاڑ سی غلطیاں عالی جناب سے سرزد ہوئیں۔ کئی ماہ پارٹی انتخابات میں ضائع کر دیے، جب ایک ایک دن قیمتی تھا۔ جب ہر انتخابی حلقے کو کھوجنا چاہئیے تھا۔ ایک نظامِ کار کے بغیر یہ ممکن نہ تھا اور یہ نظام وہ کبھی وضع نہ کر سکے۔ 30اکتوبر2011ء کے فیصلہ کن جلسہ ء عام کے بعد عمران خان کی فتح اظہر من الشمس تھی۔ دو سرکاری سروے ہوئے، جن کا حاصل یہ تھا کہ 90سیٹیں ان کے حصے میں آئیں گی۔ماہرین کی مدد سے ایک سروے ہارون خواجہ نے کیا۔ اس کا حاصل یہ تھا کہ آسانی سے 91سیٹیں جیت لیں گے۔ سب سے قدیم اور بہترین ادارہ گیلپ ہے۔ ہر تین ماہ بعد جو سیاسی موسم کی خبر دیتا ہے۔ 2011ء کے موسمِ خزاں سے 2012ئ￿ کے موسمِ بہار کے اختتام تک تحریکِ انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت تھی۔ ان چھ مہینوں میں گیلپ نے کوئی سروے جاری نہ کیا۔ اس لیے کہ ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی نون لیگ سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ جھوٹ اور جعل سازی ان کا شعار نہیں۔مگر مصلحت سے گاہے کام لیتے ہیں۔ ایسے میں خاموشی روا رکھتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔ اس لیے کہ سیاسی سروے سے کوئی آمدن تو ہوتی نہیں۔ یہ ریاضت محض ان کے ذوق کا کرشمہ ہے۔ادارہ اس سے اجاگر تو ہوتا ہے۔ عمران خان کا کمال یہ ہے کہ جیتی جتائی 90سیٹوں کو کمال مہارت سے 34پر پہنچا دیا۔ منیر نیازی کا وہی شعر کج انج وی راہواں اوکھیاں سن، کج گل وچ غماں دا طوق وی سی کج شہر دے لوک وی ظالم سن، کج سانوں مرن دا شوق وی سی پی ٹی آئی کے ٹکٹ بٹ رہے تھے۔ دولت کی ریل پیل تھی۔ سمندر پار پاکستانی دھڑا دھڑ پیسے بھیج رہے تھے۔ پارٹی کے اجلاس اب اسلام آباد کے سب سے مہنگے ہوٹل میں منعقد ہوتے۔ معلوم ہوا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس برپا ہے۔ کھانے کا وقفہ تھا۔ فوراًبعد اجلاس شروع ہوا تو کن اکھیوں سے لیڈروں کو اشارے کر تے دیکھا۔ کسی ناموزوں نام پر بھی گاہے خاموشی اختیار کر لی جاتی۔ یا کوئی مصلحت کیش اثبات میں اشارہ کرتا۔ سیڑھیاں چڑ ھ رہا تھا تو ایک صاحب نے راستہ روکا۔ تعارف کرایا اور یہ کہا کہ میری مدد کیجیے۔ مظفر گڑھ میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے امیدوار تھے۔بوسکی کا کرتا پہنے، وہ ایک روایتی زمیندار تھے اور اس حلقہ ء انتخاب سے کوئی تعلق ان کا نہیں تھا۔ میں نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور کہا: خود پہ ظلم کرو اور نہ پارٹی پر۔جاوید ہاشمی اور شاہ محمود، دوسفارشی مگر انہیں میسر تھے۔ٹکٹ اسے دے دیا گیا اور وہ شخص محروم رہا جو پچھلی بار صرف دو سو ووٹوں سے ہارا تھا۔ایک لائق،شائستہ، شگفتہ، ایثار کیش اور صاحبِ وسائل امیدوار۔ عرض کیا کہ ٹکٹ جاری کرنے کا طریق درست نہیں۔ایک صاحب اپنی سیٹ سے اٹھے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ انداز ان کا دوستا نہ تھا مگر ان کے چہرے پہ لکھا تھا: ہمارے کاروبار میں دخل نہ دو۔شاید کسی ضروری کام سے عمران خان باہر نکلے تو ان کا تعاقب کیا۔ پہلو کے کمرے میں جا براجے۔گزارش کی کہ انتخاب میں فتح و شکست کا تمام تر انحصار ٹکٹوں کی تقسیم پر ہے۔ انہوں نے تائید کی لیکن فوراً ہی احساس ہوا کہ وہ بے بس و لاچار ہیں۔ایک گھنے جنگل میں سمت کے احساس سے بے خبر۔ سازشی اور خوشامدی جیت گئے، پی ٹی آئی ہار گئی۔ دو تین دن بعد محترمہ نسیم زہرہ کے پروگرام میں ساری بات کھول کر بیان کر دی۔ فوری تاثر یہ تھا کہ میں ناراض ہوں۔کون کم بخت ناراض تھا۔ کس بدبخت کو ذاتی مفاد عزیز تھا۔افسوس کہ مفاد پرستوں کے ہجوم میں پورا سچ کسی کو گوارا نہ تھا۔ ناکامی سے سبق سیکھنے اور ٹکٹوں کی تقسیم کا کوئی نظام وضع کرنے کی بجائے آخر کار کپتان نے دوسروں پہ انحصار کرنے کا فیصلہ کیا۔ الیکشن وہ جیت گئے مگر ان کی فتح بے داغ نہ تھی۔ یہی بنیادی تضاد ہے۔ اب یہ تضاد ہمیشہ انہیں پریشان کرتا رہے گا۔ پی ڈی ایم والی بات ادھوری رہ گئی۔ اپنی تازہ تصنیف “A promised land”میں صدر اوباما نے لکھا ہے کہ پینٹا گان والے مقدس گائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر باخبر آدمی جانتا ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں مستقل قوت اسٹیبلشمنٹ کی ہوتی ہے۔ہر باخبر جانتاہے کہ کسی بھی ملک میں مسلح افواج سیاستدانوں سے زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔ 294برس کاجمہوری تجربہ رکھنے والے امریکہ میں بھی۔اس پہ تنقید کی جاتی ہے، حتیٰ کہ کبھی للکارا بھی جاتا ہے۔ اس للکار کے لیے مگر اخلاقی قوت درکار ہوتی ہے۔ ایک مضبوط موقف اور مضبوط تنظیم۔ مولانا فضل الرحمٰن اور میاں محمد نواز شریف کے پلّے کیا ہے کہ بیک وقت اسٹیبلشمنٹ اور کپتان کو للکاریں؟یہی بنیادی تضاد ہے،باقی تفصیلات۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں