تحفظ ِحقوقِ والدین آرڈیننس 22

تحفظ ِحقوقِ والدین آرڈیننس

59 / 100

تحفظ ِحقوقِ والدین آرڈیننس

وفاقی حکومت کی جانب سے والدین کی گھروں سے بےدخلی روکنے کے لئے آرڈیننس لانے پر غور ایک ایسی بات ہے جس کا ماضی قریب تک وہم و گمان میں آنا بھی محال تھا۔ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے اور باپ جنت میں داخلے کا دروازہ ہے جیسے ارشاداتِ نبویؐ سن سن کر بڑے ہونے والے بچے والدین کو گھروں سے بےدخل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پاکستان سمیت دنیا کے تمام مسلم معاشروں میں اسلامی تعلیمات کے باعث والدین کے حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے صورتحال مغرب کی مادّہ پرست تہذیب کے مقابلے میں اگرچہ آج بھی بہت بہتر ہے لیکن وقت کی غالب تہذیب کے اثرات کے نتیجے میں اِس میں بتدریج خرابی بڑھ رہی ہے۔ کچھ مدت پہلے تک ہمارے ملک میں مغرب جیسے اولڈ ہاؤسز کا تصور بھی ممکن نہیں تھا جن میں لوگ اپنے بوڑھے والدین کو چھوڑ جاتے ہیں اور پھر بالعموم اُن سے بس نام ہی کا رابطہ رکھتے ہیں‘ لیکن اب ایسے ادارے ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں قائم اور عمر رسیدہ مرد و زن سے آباد ہیں کیونکہ اُن کے بچے اُنہیں اپنے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں۔ ہماری سماجی اقدار میں یہ انحطاط کم آمدنی والے عوام الناس کی نسبت دولت مند بالائی طبقوں میں زیادہ نظر آتا ہے کیونکہ عموماً وہ نہ صرف دینی اقدار سے زیادہ دور ہوتے ہیں بلکہ دُنیوی مفادات کی ہوس بھی ان ہی میں زیادہ

پائی جاتی ہے۔ اِن طبقات کی اصلاح کے لئے قرآن اور حدیث میں بتائے گئے والدین کے حقوق کے حوالوں کا مؤثر ہونا مشکل نظر آتا ہے لہٰذا انہیں پیرانہ سالی میں گھروں سے بےدخل کئے جانے اور در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچانے کے لئے وفاقی حکومت کا باقاعدہ قانون نافذ کرنے کا فیصلہ ایک مستحسن اقدام نظر آتا ہے۔ وفاقی وزیر قانون کی اِس تجویز پر وزیراعظم نے فوری پیش رفت کی ہدایت دے کر یقیناً ایک بھلا کام کیا ہے اور اُسے جتنی جلد مؤثر بنایا جا سکے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں