بہانے باز 13

بہانے باز

61 / 100

بہانے باز
پتا کرکے بتائے کہ واقعی اس کا بچہ بیمار ہے یا بہانے بازی کرکے یہ پیسے لے گیا ہے
محمد طارق
”صاحب!میرے چھوٹے بیٹے کو کافی دنوں سے بخار تھا۔ٹیسٹ کرانے پر پتا چلا کہ ٹائیفائیڈ ہے۔اب کسی بڑے ڈاکٹر کو دکھانا ہے۔ ٹائیفائیڈ کا علاج بھی مہنگا ہے۔صاحب جی!مجھے تین ہزار روپے کی ضرورت ہے۔
“کرم دین نے سیٹھ ابرار کو اپنی فریاد سنائی اور ساتھ ہی مدد کی اپیل بھی کر دی۔
”اللہ پاک تمہارے بیٹے کو صحت عطا فرمائے۔“سیٹھ ابرار شفقت بھرے انداز میں بولے اور ہزار،ہزار کے تین نوٹ کرم دین کی جانب بڑھا دیے۔
کرم دین نے نوٹ جیب میں ڈالے اور دعائیں دیتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔بیگم ابرار بھی وہیں آگئیں اور انھوں نے کرم دین کو پیسے لیتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔کرم دین کے جانے کے بعد وہ بولیں:”میں کہتی ہوں اس کو اپنی اوقات میں رکھیں،اتنا سر پر نہ چڑھائیں۔

آئے دن کوئی نہ کوئی بہانہ تراش لیتا ہے،پیسے اینٹھنے کا۔کچھ عرصہ پہلے بھی پانچ ہزار روپے لے کر گیا تھا یہ کہہ کر کہ بڑے بیٹے کو چوٹ لگی ہے۔سر پر ٹانکے آئے ہیں۔اسپتال میں داخل ہے اور اس سے پہلے اپنی بیوی کے لئے آپ سے اچھی خاصی رقم لے گیا تھا کہ اس کے گردے میں پتھری ہے اور اس کا آپریشن کروانا ہے اور آپ ہیں کہ حاتم طائی بنے بیٹھے ہیں،جو آیا جھولی بھر دی۔
پیسے تو جیسے درختوں پہ اُگتے ہیں۔“بیگم صاحبہ ابرار صاحب کو جلی کٹی سنا رہی تھیں۔
”بیگم! ضرورت مند کی مدد کرنے سے مال کم نہیں ہوتا،بلکہ بڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوتے ہیں۔چلو اب غصہ تھوکو،کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔
“یہ کہہ کر سیٹھ ابرار ہاتھ دھونے کے لئے واش بیسن کی طرف بڑھ گئے۔کرم دین تیس سالہ محنتی ،لیکن باتونی نوجوان تھا اور چھ مہینے قبل ہی سیٹھ ابرار نے اس کو اپنے ہاں ملازمت پر رکھا تھا۔اس نے سیٹھ ابرار کو بتایا تھا کہ اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور کرائے کے مکان میں اپنے بوڑھے باپ کے ساتھ رہتا ہے۔
باپ بیمار رہتا ہے۔سیٹھ ابرار نے خفیہ طور پر چھان بین کرالی تھی۔اس میں سچ کے ساتھ ساتھ کچھ غلط بیانی بھی تھی۔
شام کو جب سیٹھ صاحب اپنی فیکٹری سے واپس آئے تو بیگم صاحبہ کو اپنا منتظر پایا۔سلام ،دعا کے بعد جب سیٹھ صاحب نے خیریت دریافت کی تو وہ پھٹ پڑیں اور زور زور سے کہنے لگیں:”میں نہ کہتی تھی کہ مجھے تو پہلے ہی یہ سب کچھ ڈراما لگتا ہے۔
آئے دن کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے رقم لے جاتا ہے۔“
”آخر ہوا کیا ہے؟“سیٹھ صاحب بیگم صاحبہ کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔
”یہ پوچھیں کہ کیا نہیں ہوا۔“وہ تنک کر بولیں۔
”اچھا تو بتاؤ کیا نہیں ہوا؟“سیٹھ صاحب نے اطمینان سے کہا۔

”جب کرم دین آپ سے پیسے لے کر گیا تو میں نے اپنے پرانے ملازم کو بھیجا کہ ذرا اُس کا پیچھا کرے اور پتا کرکے بتائے کہ واقعی اس کا بچہ بیمار ہے یا بہانے بازی کرکے یہ پیسے لے گیا ہے۔واپس آکر عبدالقیوم نے مجھے جو بات بتائی اسے سن کر تو میں حیران رہ گئی۔
اُس نے بتایا کہ کرم دین کی تو ابھی شادی ہی نہیں ہوئی۔“
بیگم صاحبہ نے بات مکمل کی اور سیٹھ ابرار کی طرف فاتحانہ انداز میں دیکھا جیسے اُس نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو،مگر اگلے ہی لمحے وہ چونک گئیں،کیوں کہ سیٹھ ابرار کی آنکھوں میں حیرت کے بجائے،لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

”شاید آپ کو میری بات پر یقین نہیں آیا۔“بیگم صاحبہ نے چڑ کر کہا۔
سیٹھ صاحب کچھ دیر تک مسکراتے رہے پھر بولے:”بیگم جو بات آپ کو آج پتا چلی ہے وہ مجھے جب ہی پتا چل گئی تھی جب میں نے کرم دین کو ملازمت پر رکھا تھا۔

”کک․․․․․کیا!“بیگم صاحبہ اُچھل پڑیں۔”اس کے باوجود بھی․․․․․“بیگم صاحبہ نے کچھ کہنا چاہا،مگر سیٹھ ابرار ان کی بات کاٹتے ہوئے بولے:”اس کے باوجود بھی کہ مجھے علم ہوتا تھا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے،پھر بھی میں اس کی مدد کر دیا کرتا تھا،کیوں کہ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ واقعی ضرورت مند ہے،مگر اپنی حقیقی ضرورت کو بیان کرنے کے بجائے وہ مختلف بہانے بناتا ہے تاکہ اُس کی بات میں وزن ہو اور میں انکار نہ کر سکوں۔
دراصل میں اس کے باپ کا مقروض ہوں۔یہ بہت پرانی بات ہے۔وہ میرا کلاس فیلو بھی رہ چکاہے۔ایک دفعہ میں نے اس سے کچھ پیسے ادھار مانگے تھے۔اُس کے پاس نقد رقم نہیں تھی۔اس نے مجھے پرائز بانڈ دے دیا تھا۔اتفاق سے وہ بانڈ کھل گیا اور مجھے لاکھوں روپے مل گئے ہیں ۔
یہ بات میں نے اُسے بتائی اور رقم بھی اُسے دینے کو تیار تھا،لیکن اُس نے کہا کہ اس رقم کے حق دار تم ہی ہو۔ میں نے اُسی رقم سے کاروبار شروع کیا تھا۔میں اس کا یہ قرض کبھی نہیں اُتار سکتا۔یہ بات اُس کے بیٹے احمد دین کو بھی معلوم ہے۔
آج کل اس کا باپ سخت بیمار ہے۔اس کے علاج کے لئے ہی کرم دین پیسے مانگتا ہے۔یہ سب کچھ جو تم دیکھ رہی ہو،یہ سب کریم دین کے باپ کی وجہ سے ہے۔اس کا یہ طریقہ غلط ہے اور میں خود مناسب موقع کی تلاش میں ہوں،تاکہ اس کی اصلاح کر سکوں۔
“سیٹھ صاحب اطمینان سے بولتے رہے اور بیگم حیرت سے سنتی رہیں۔اس کہانی سے جو سبق ملا ہے وہ یہی ہے کہ ہمیں بلا جانے بوجھے کسی پر الزام تراشی نہیں کرنی چاہئیے،بلکہ حالات و واقعات کو جان کر ہی کسی کے متعلق اچھی یا بُری رائے قائم کرنی چاہئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں