جمیل اطہر قاضی 107

بھارت کی پاکستان مخالف سائبر وار

59 / 100

بھارت کی پاکستان مخالف سائبر وار

دفتر خارجہ نے وطن عزیز کے خلاف چلائی گئی بھارتی ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈا مہم کی پْر زور مذمت کی ہے۔ یورپی یونین کے تحت ڈس انفارمیشن کی منظم کوششوں کا سراغ لگانے اور انہیں بے نقاب کرنے والے خود مختار ادارے ’ای یو ڈس انفو لیب ‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین پر اثر انداز ہونے کے لیے گذشتہ پندرہ برس سے ’’انڈین کرانیکلز ‘‘ کے نام سے جعلی میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ اس نیٹ ورک میں 750 جعلی اور فرضی ادارے شامل ہیں۔ ای یو ڈس انفو لیب کے مطابق اس بڑے پیمانے کی ڈس انفارمیشن مہم کا بنیادی ہدف پاکستان ہے ۔ اس کے لیے بھارت نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی شناخت کو بھی استعمال کیا ہے۔
گزشتہ برس نومبر میں اس ادارے نے بھارتی ڈس انفارمیشن نیٹ ورکس پر پہلی تحقیقی رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے 65 سے زائد ممالک میں 265 سے زائد مقامی ویب سائٹس چلائی جا رہی ہیں جن کے ذریعے بھارت پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرتا ہے۔ رواں برس کی رپورٹ اسی تحقیق کا دوسرا حصہ ہے۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق گزشتہ برس کی تحقیقات کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بعض ویب سائٹس‘ ڈومین نیمز اور ای میلز‘ جن پر مزید تحقیق کی ضرورت تھی‘ انہیں چھوڑ دیا جائے‘ رواں برس کی رپورٹ میں اس تحقیق کو آگے بڑھایا گیا ہے جو پہلی تحقیق کو مزیدتقویت دیتی ہیں۔اس جعل سازی میں بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اداروں اور اہم شخصیات کے نام اور شہرت کو بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیاگیا ہے ‘ یہاں تک کہ ایسے افراد جو انتقال کر چکے تھے یا اداروں کو چھوڑ چکے تھے ‘ ان کے نام بھی اس پروپیگنڈا مہم میں استعمال کئے گئے ‘ جیسا کہ معروف امریکی ماہر قانون لوئس بی سوہن ‘ جو 2006 ء میں انتقا ل کر گئے تھے مگر بھارت کے ڈس انفارمیشن نیٹ ورک کی ویب سائٹس نے انہیں 2007ء میں یو این ہیومن رائٹس کونسل کے ایک اجلاس میں شریک قرار دیا ہے۔ یہی نہیں ‘2011 ء میں واشنگٹن ڈی سی میں گلگت بلتستان کے موضوع پر ہونے والے ایک اجلاس میں بھی انہیں شریک بتایا گیا ۔ماضی میں ایسے منظم جھوٹ میں ہٹلر کے وزیر جوزف گوئبلز کی مثال دی جاتی تھی مگر بھارت کے خفیہ اداروں اور ان سے جڑے افراد نے اس دور میں گوئبلز کو بھی مات دے دی ہے اور جس منظم انداز سے جھوٹ بولا ہے اس کی مثال عصر حاضر میں ملنا مشکل ہے۔انفارمیشن کے اس دور میں ڈس انفارمیشن کی یہ مہم نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔اس پروپیگنڈا مہم کا بنیادی ہدف پاکستان ہے مگر وہ ممالک ‘ ادارے اور تنظیمیں جن کی ساکھ کو بھارتی نیٹ ورک نے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ‘ وہ بھی اس مہم کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہے چنانچہ بڑے پیمانے کی اس مہم کو وہ اہمیت نہ دینا جس کی فی الواقع ضرورت ہے یا بھارتی حکومت اور اداروں کو اس جعل سازی کی مہم میں شک کا فائدہ دینا‘ عالمی امن اور عالمی اداروں کی نیک نامی کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔ دورجدید میں‘ جب دنیا گلوبل ویلیج کا روپ دھار چکی ہے ‘ انفارمیشن کے برق رفتار وسائل دنیا کے فیصلوں ‘ ایکشنز اور نتائج پر اثر انداز ہونے میں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ اہلیت رکھتے ہیں‘اس لیے دنیا کو ڈس انفارمیشن کے معاملے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اس مقصد سے اگرچہ کئی ادارے کام کر رہے ہیں ‘ مگر ذمہ داروں کا تعین اور ان رپورٹوں پر ایکشن کا کوئی مؤثر نظام تاحال سامنے نہیں آیا۔بھارت اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اداروں کا نام استعمال کرکے تاریخ کی ایک بڑی ڈس انفارمیشن اورپروپیگنڈا مہم چلا رہا ہے‘ یورپی یونین کے ادارے نے اپنی دوسری رپورٹ میں ان حقائق سے پردہ اٹھادیا ہے مگر اس سے آگے کیا ہو گا ؟ فی الحال کوئی نہیں جانتا۔ ای یو انفو لیب نے اپنی رپورٹ میں جو سفارشات پیش کی ہیں ‘ ان میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہم انڈین کرانیکل کی سرگرمیاں دیکھ کر حیرت زدہ ہیں ‘ جس نے ہماری پہلی رپورٹ اور ذرائع ابلاغ میں اس کی وسیع اشاعت کے باوجود نہ صرف پندرہ سال سے جاری اپنا آپریشن جاری رکھا بلکہ حال ہی میں’’ ای یو کرانیکل‘‘ کے نام سے ایک جعلی یورپی ادارہ بھی قائم کیا ہے۔ یہ صورت حال پالیسی ساز حلقوں کے لیے ایک تحریک ثابت ہونی چاہیے کہ وہ ہمارے اداروں کی ساکھ خراب کرنے والی ان حرکتوں کے خلاف مناسب تعزیرات کے فریم ورک پر خلوص نیت سے غورشروع کریں یہاںاہم سوال یہ ہے کہ اس سلسلے میں بارش کا پہلا قطرہ کب اور کیسے گرے گا؟ اگر ایک برس قبل کی رپورٹ پر عالمی برادری اور بااثر اداروں نے کوئی ایکشن لیا ہوتا تو ممکن تھا بھارت کا یہ ڈارک ویب توڑا جاچکا ہوتا‘ مگر ایسا نہ ہونا افسوس ناک ہے ‘ پروپیگنڈا اور عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی یہ بھارتی کوششیں جاری رہیں اور ایک سال بعد بھی آج ہمیں انہی حالات کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ حالات بڑی تشویش کا موجب ہیں اور یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر عالمی برادری اور بااثر ادارے بھارت کی جانب سے معلومات کے شعبے میں اس کھلی جارحیت کو مزید برداشت کرتے رہے تو نقصان بنیادی طور پر پاکستان کا ہو گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان’’ ای یو ڈی انفولیب‘‘ کی رپورٹ پر توجہ دیتے ہوئے حالات کی سنگینی کا فوراً ادراک کرے اور جس طرح پہلے پاکستان کی سلامتی کے مطابق موثر شواہد اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے سامنے پیش کئے گئے ہیں اسی جذبہ سے یہ معاملہ بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا جائے اور ایک منظم سفارتی مہم کے ذریعے عالمی برادری کو دعوت فکر دی جائے کہ وہ بھارت کی پاکستان کے خلاف اس غلط پراپیگنڈہ مہم کو ختم کرے تاکہ دونوں ممالک میں بڑھتی کشیدگی ختم ہو سکے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت یہ بات سمجھ چکا ہے کہ وہ حربی قوت سے پاکستان کو میدان جنگ میں شکست نہیں دے سکتا چنانچہ قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کے باعث دنیا میںپاکستان کا جو سافٹ امیج بلند ہوا ہے بھارت اسے سائبر وار کی صورت میں زائل کرنے میں مصروف ہے اگر بھارت کی اس منفی پراپیگنڈہ مہم کے خلاف فوری بند نہ باندھا گیا تو بھارت کو مزید کھل کھیلنے کا موقع ملتا رہے گا۔ لازم ہے کہ پاکستان کی حکمران جماعت اور اپوزیشن اس سنگین صورت حال پر چشم پوشی سے کام نہ لیں بلکہ ای یو ڈس انفولیب کی رپورٹ کی روشنی میں موثر حکمت عملی اختیار کریں تاکہ قومی سلامتی یقینی ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں