Rehman Malik 17

بھارت کی سمندر پار سے سائبر سازشیں

59 / 100

بھارت کی سمندر پار سے سائبر سازشیں
رحمان ملک
ھارت ہمیشہ سے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں انجینئرنگ اور پاکستان مخالف اقدامات پر عمل پیرا رہاہے۔ بھارت نے ہمارے پانیوں کو روک کر آبی دہشت گردی کا ارتکاب کررہا ہے مزید براں ہمارا 90فیصد پانی بھی چوری کیا جا رہا ہے۔ میں نے 9 اگست ، 2018 کو دی نیشن میں شائع ہونے والے “واٹر بم شیل” کے عنوان سے مضمون میںآئندہ بھارت کے پاکستان مخالف منصوبے کے بارے میں لکھا تھا۔

بھارت بڑی چالاکی پاکستان آنے والا پانی روک رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے پاکستان کے لئے واٹر بم بنایا ہے اور ہماری جائز قدرتی آبی گزر کو روک کر پاکستان پر پہلا واٹر بم پھینکا گیا ہے۔ بھارت یہیں نہیں رکے گا۔ اس لئے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانا ہوگا۔ابھی حال ہی میں ، یورپی یونین کے آزاد ڈس انفلولیب کے نئے انکشاف نے بھارت کے پاکستان کے خلاف طویل مدتی اور قلیل مدتی منصوبوں کو پوری طرح سے بے نقاب کردیا ہے۔ بھارت نے ایک طرف ہماری زراعت کی نمو کو روکنے کے لئے ہماری سرزمین کو خشک کردیا اور دوسری طرف جعلی خبروں کو پھیلاتے ہوئے ہمارے بین الاقوامی وسائل اور سرمایہ کاری کو تباہ کررہا ہے۔

یہ ہماری خودمختاری پر ایک بہت سنگین حملہ ہے جس کو حکومت کے صرف ایک سادہ احتجاج نہیں چھوڑا جاسکتا۔ پاکستانی عوام کو بے حد پریشانی ہے لہذا پاکستان کو دستیاب بین الاقوامی قانونی اور عدالتی فورموں پر بھارت کے خلاف سنجیدہ کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔بھارتی انٹیلی جنس پاکستان کے خلاف ہائبرڈ اسٹریٹجک جنگوں کے ایک حصے کے طور پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے میڈیا کے تمام دستیاب ٹولز کا استعمال کرتی رہی ہے۔دستیاب ریکارز کے مطابق ، بھارت پاکستان کے خلاف انتہائی ضرر رساں ڈس انفارمیشن پھیلاتا رہا ہے۔اس کے تحت بلوچستان میں شورش کی حمایت کرتا رہا ہے۔بھارت نے کشمیر میں اپنے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں انسانیت کے خلاف اپنی غلط کاریوں اور جرائم کو خفیہ رکھنے کے لئے جعلی خبروں کا آغاز کیا۔

20 ستمبر ، 2019 کو اپنے مضمون “بھارتی ریاستی اسپانسر شدہ ہیکرز” ، سینٹ آف پاکستان اور بہت سارے فورمزپر اپنی تقریروں کے ذریعہ ، میں نے پاکستان کے خلاف سائبر کرائم اور سائبر دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے اور سازشوں کو واضح طور پر بے نقاب کیاتھا۔ مسلسل بھارتی ہیکنگ کو روکنے کے لئے کڑے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتا رہا ہوں۔یہاں تک کہ میں نے امریکہ میں رجسٹرڈ نجی کمپنیوں کے دو “بھارتی بدنام زمانہ ہیکروں” کو بھی بے نقاب کیا جو تیسری پارٹی کے توسط سے چھپ چھپ کر پاکستان میں کام کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں میری دستخط شدہ مکمل رپورٹ سینٹ سیکرٹریٹ میں موجود ہے۔ پلوامہ کے واقعے کے فوراً بعد ہیکرز نے مبینہ طور پر 200 سے زیادہ پاکستانی ویب سائٹوں کو ہیک کیا تھا۔ بھارت کی حیدرآباد میں رجسٹرڈ ایک انڈین کمپنی ای سی کونسل کے ذریعہ استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کی سکیورٹی جانچنے کے بہانے ہمارے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمارتک پہنچی ، جس کی تحقیقات ابھی باقی ہے۔

پاکستان کی خودمختاری کے خلاف یہ بھارتی سازش میری کتاب “مودی کا جنگی نظریہ: انڈین پاکستان مخالف سنڈروم” میں اور میری دوسری کتاب “داش-آئی ایس آئی ایس: رائزنگ مونسٹر ورلڈ وائیڈ” میں اچھی طرح سے بیان کی گئی ہے جس میں میں نے آر ایس ایس کے آئندہ سازشوں کے بارے میں دو سال قبل حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ جعلی کمپنیوں کے ذریعہ بھاری مالی اعانت کا استعمال کرکے بھارت یوروپی یونین کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرکے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔

میں نے ان فنڈز اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے سوشل میڈیا پر کام کرنے والے جعلی گروپوں کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ بطور چیئرمین سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ ، میں نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بھارتی سائبر کرائمز اور ہائبرڈ جنگوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

سائبروار میں بھارت کی شمولیت کی معلومات کا انکشاف میرے ذریعہ تین سال قبل 2017 میں ہوا تھا ، لیکن ہماری وزارت خارجہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پی ٹی اے جب تک برسلز میں قائم واچ ڈاگ کی رپورٹ نہیں آئی اس وقت تک بیدار نہیں ہوئے۔ اس رپورٹ کو ڈس انفلولیب نے مرتب کیا ہے جس میں اس نے اپنی تحقیقی رپورٹ میںجعلی صحافیوں کے ساتھ جعلی مقامی میڈیا گروپ بنانے کے طریقہ کے بارے بتایا گیا اورپاکستان کے خلاف جعلی خبروں کے بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کیاگیاہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ یہ کس طرح 750 جعلی میڈیا آئوٹ لیٹس اقوام متحدہ،یورپی یونین کے اداروں کو نشانہ بناتے رہے۔ دس سے زائد بلاک کی گئی این جی اوز بھارتی مفادات کا تحفظ اور پاکستان و چین کے مفادات کو نقصان پہنچاتی رہیں۔ یہ پاکستان اور چین کے خلاف میڈیا کی جنگی حکمت عملی کے ذریعے اب تک کی سب سے بڑی ہائبرڈ جنگ تھی۔

یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس معاملے پر کسی کا دھیان نہیں گیا۔ حکومتی وزرا صرف اس وقت آگے آئے جب بی بی سی نے اس کا انکشاف کیا لیکن میری سابقہ رپورٹس پر کارروائی نہیں کی۔بی بی سی کی رپورٹ اس رپورٹ کی مکمل نقل تھی جو سینٹ میں پیش کی گئی تھی۔ حکومتی وزرا نے ان خلاف ورزیوں پر صرف احتجاج کیا ، جو بہت مایوس کن ہے اور کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔بھارت کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں لانے کے لئے حکومت فوری قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ہماری خودمختاری پر انتہائی سنگین اور شدید حملہ ہے اور پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سائبر قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ (جاری)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں