ڈاکٹر مجاہد منصوری 0

بھارتی ریاستی دہشت گردی، پاکستان کیا کرے؟

54 / 100

بھارتی ریاستی دہشت گردی، پاکستان کیا کرے؟
ڈاکٹر مجاہد منصوری
بلاشبہ ﷲ تعالیٰ پاکستان پر بہت مہربان ہے۔ اِس پر انفرادی اور قومی شکر، جتنا کیا جائے اتنا کم۔ کتنے ہی بڑے بحرانوں سے نکلتے ہمیں یقین ہوا کہ واقعی ہم ’’مملکتِ خداداد‘‘ کی گمراہ قوم ہیں، پھر بھی ہم پر رب العالمین کی رحمتوں کی کمی نہیں اور ہر مشکل میں ہم قادرِ مطلق کی مدد سے نکل جاتے ہیں۔ ہماری تاریخ قومی کوتاہیوں سے بھری پڑی ہے لیکن قومی گمراہی اور قدرت کی دراز رسی کی حد بھی بڑا سبق ہے، کتنے ہی حوالوں سے واضح ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اُسے پڑھ کر سمجھ لیا جائے اور بمطابق اصلاح کرلی جائے۔

گزشتہ دو عشرے سے ہم اپنی جملہ قومی بداعمالیوں کے ساتھ اِس اذیت ناک کیفیت سے بھی دو چار ہیں کہ بھارت نے بغیر کسی روایتی جنگ کے ہماری سرحدی دفاعی صلاحیت اور طاقت کے توازن کا اندازہ کرتے ہوئے ہمارے خلاف ففتھ جنریشن وار کامیابی سے شروع اور جاری رکھ کر ہمیں موجودہ ملکی نازک صورتحال پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج ہماری قومی اقتصادی حالت الارمنگ حد تک تشویشناک، حکومتیں کرپٹ اور نااہل، عوامی خدمات کے ادارے روبہ زوال اور بالائی سطح پر پارلیمان، بیورو کریسی اور عدلیہ مطلوب درجے کے کردار ، معیار و اعتبار سے کہیں کم تر بس موجود ہی رہیں اور ہے۔

بدتر گورننس، گرتی معیشت، بڑھتی کرپشن اور غربت، دولت پرستی اور مسلسل اخلاقی گراوٹ نے ہمیں ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے برعکس ایک گمراہ اور بھٹکی قوم بنا دیا ہے۔ ہماری اِس موجود حیثیت و کیفیت کی بنیادی وجہ تو ہماری بلا کی ہوس گیر حکومتیں اور سادہ و بیمار سماجی و سیاسی رویہ بنا، دوسری بڑی وجہ وہ ’’جنگ‘‘ جو ہمارے دشمن نے آغاز پاکستان سے ہی کسی نہ کسی صورت میں ہمارے خلاف شروع کرکے جاری رکھی، صوبہ پرستی کا مسئلہ کھڑا کرکے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو رکوائے رکھنا اس کی بڑی مثال ہے، لیکن 20سال سے اسے بے حد منظم اور علمی معاونت کے ذریعے انتہا پر لے جا کر بھارت ہم پر اندر سے حملہ آور ہے۔ پروپیگنڈہ بھارت کا آغاز سے ہی کم نہ تھا، آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس، بہت کامیاب تھی، پھر سائیکلوجیکل وارفیئر میں پاکستان بھارت کے مقابل ایک اور پانچ کے تناسب سے کم نہیں شاید ایک اور دس کے تناسب سے بھی زیادہ ہو۔

اب پانچ سات سال سے دفاعی تجزیہ نگاروں اور سیکورٹی اسکالرز نے ففتھ جنریشن اور ہائی برڈ وار فیئر کابیانیہ عام کرنا شروع کیا ہے۔ قدرت ہم پر پھر مہربان ہوئی ہے، اس وقت جبکہ بھارت کی ڈیڑھ عشرے سے پاکستان کے خلاف ویل کورڈ ریاستی دہشت گردی بڑی کامیابی سے جاری ہے۔ اس (جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی) نے پاکستان کی مجموعی کمزور ترین موجود اقتصادی حیثیت، داخلی سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی کے روایتی سے یکسر مختلف چیلنجز پیدا کرنے میں بڑا اور انتہا کا مذموم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی اس موجود حیثیت کی وجہ ہماری اپنی کرپٹ ترین اور ہوس گیر حکومتوں کے بعد دوسری بڑی وجہ ہمارےخلاف بھارت کی 15 سال سے جاری یہ ہی ففتھ جنریشن وار ہے۔

اِس پس منظر میں ہمارے اپنے ہوش سنبھالنے اور کچھ سرگرم ہونے پر اللہ کی مدد فوری شامل ہوئی ہے۔ فقط اڑھائی ماہ میں ففتھ جنریشن وار میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے تین بڑے مورچے ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب ہوگئے۔ 28ستمبر کو انٹرنیشنل میڈیا میں امریکی ٹرثری ڈپارٹمنٹ کے فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک کی Revelatory Reportکے حوالے سے انکشاف ہوا کہ بھارت کے اسٹیٹ بینک سمیت 44ملکی بینک منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں اور دہشت گردی سمیت دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کے لئے 2011-17 کے عرصے میں ایک اعشاریہ 53بلین ڈالر کی انتہائی مشکوک ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ 14نومبر کو اسلام آباد میں وزیر خارجہ اور آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں غیر ملکی اور ملکی صحافیوں کو پاکستان کے خلاف بھارتی ریاستی دہشت گردی(خصوصاً افغان سرزمین سے) کے ناقابلِ تردید ثبوت دستاویز اور آڈیو ریکارڈنگ پر مشتمل اِس Dossierسے آگاہ کیا جو پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے حوالے کیا ہے۔ تین روز قبل برسلز میں یورپین یونین کے معاون ادارے ’’ای یو ڈی انفولیب‘‘ نے برسوں سے پاکستان کے بھارت پر ریاستی دہشت گردی کے مسلسل لگائے جانے والے الزامات کی مکمل تصدیق کرنے والی رپورٹ جاری کی۔

اسلام آباد کے موافق یورپی یونین کی اس چونکا دینے والی رپورٹ سے انکشاف ہوا کہ بھارت پندرہ سال سے حیران کن حد تک ایک انتہائی منظم سسٹم کے تحت دنیا بھر خصوصاً امریکی انتظامیہ اور یورپی یونین میں پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے اور اندرون پاکستان دہشت گردی، سیاسی اور فرقہ وارانہ انتشار پھیلانے اور انتہا پسندی کو بڑھانے جیسے جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، رپورٹ کے مطابق اس کے اس نیٹ ورک کا دائرہ 116ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ’’لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا‘‘ ففتھ جنریشن وار کو قومی سطح پر سمجھنے، سیکھنے اور بھارت کے پاکستان مخالف مذموم عزائم سے آگاہی کا سنہری موقع ہمارے ہاتھ لگا ہے لیکن اصل، بڑی اور فوری ضرورت تو یہ ہے کہ پاکستان خود کو FATFکے دبائو سے نکالنے اور بھارت کو ریاستی دہشت گردی کا مجرم ثابت کرکے سزا دلوانے کے لئے کیا کرے؟یہ بڑی حساس قومی ضرورت فوری کیسے پوری ہو؟(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں