مرزا اشتیاق بیگ 14

بھارتی آرمی چیف کے دورہ خلیجی ممالک کے مضمرات

54 / 100

بھارتی آرمی چیف کے دورہ خلیجی ممالک کے مضمرات
مرزا اشتیاق بیگ
مشرق وسطیٰ میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے پس منظر میں بھارتی آرمی چیف کے حالیہ دورہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو پاکستان میں تشویش کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ کسی بھی بھارتی آرمی چیف کا یو اے ای اور سعودی عرب کا یہ پہلا دورہ ہے جسے بھارتی حکومت تاریخی قرار دے رہی ہے۔ بھارتی آرمی چیف جنرل نرونے نے اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں یو اے ای اور بعد ازاں سعودی عرب میں دونوں ممالک کی اعلیٰ فوجی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں اور ان ممالک سے دفاعی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی۔ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا جب خطے میں ایک طرف اسرائیل کے حوالے سے سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان کے سعودی عرب اور یو اے ای سے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی شہریوں پر ورک اور وزٹ ویزے پر پابندی اور سعودی قرضوں کی واپسی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا شمار پاکستان کے دیرینہ دوست ممالک میں ہوتا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی اچھے برے وقت میں سفارتی اور مالی مدد کی ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای میں42 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں جو ہر سال 12ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر اپنے وطن بھیجتے ہیں اور یہ ترسیلاتِ زر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح پاکستانی افواج کی بڑی تعداد سعودی عرب میں تعینات ہے جو سعودی مسلح افواج کی تربیت میں اہم کردار ادا کررہی ہے جبکہ سعودی عرب کی انسدادِ دہشت گردی فورس کی سربراہی سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ 600سے زائد سعودی کیڈٹس پاکستان میں فوجی تربیت حاصل کررہے ہیں جس سے پاکستان کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہورہا ہے۔
سعودی عرب اور یو اے ای کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری اور غلط فہمیوں نے اُس وقت جنم لیا جب گزشتہ سال ترکی کے صدر طیب اردوان، ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان کوالالمپور میں اسلامی ممالک کے سربراہان کا اجلاس بلانے پر اتفاق ہوا جس پر سعودی عرب کا سخت ردعمل سامنے آیا۔ اسی طرح یواے ای نے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں پہلی بار بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کیا جس کے ردعمل میں پاکستان نے او آئی سی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر پر او آئی سی اجلاس طلب نہ کرنے پر سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنایا جس سے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی۔ ایسی صورتحال میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کشیدہ تعلقات میں کمی لانے کی کوشش کی لیکن اس میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی جبکہ حکومت کی طرف سے بھی ان تعلقات کو پہلے کی سطح پر بحال کرنے میں کوئی خاص پیشرفت نہیں کی گئی۔ بھارت نے پاک سعودیہ، یو اے ای کشیدہ صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مودی نے سعودی عرب اور یو اے ای کا دورہ کیا جہاں اُنہیں ’’اعلیٰ شہری اعزاز‘‘ سے نوازا گیا جس کے بعد بھارت اور ان خلیجی ممالک کے درمیان سفارتی، معاشی اور دفاعی شعبوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارتی آرمی چیف کے حالیہ دورے سے سعودی عرب اور بھارت کے مابین نہ صرف فوجی تعاون بڑھے گا بلکہ سعودی فوجیوں کو تربیت کیلئے بھارت بھیجا جائے گا اور بھارتی فوجی بھی سعودیہ میں فوجی تربیت حاصل کریں گے جبکہ یہ امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں ممالک کی افواج مشترکہ فوجی مشقوں کا بھی آغاز کریں۔بھارت کی پوری کوشش ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں پاکستان کا اثر و رسوخ ختم کرکے اپنی جگہ بنائے جو پاکستان کیلئے یقینا کسی دھچکے سے کم نہیں ہوگا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ ہمارے تعلقات پہلے کی طرح گرمجوش نہیں رہے اور سب کچھ ٹھیک نہیں لیکن اگر دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی گئی تو آنے والے وقت میں مزید دوریاں پیدا ہوں گی جس کا فائدہ یقیناً دشمن ملک اٹھائے گا۔پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی جو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور پاکستان کیلئے اپنے دل میں محبت اور درد رکھتے ہیں، نے ماضی میں پاکستان اور سعودی عرب کو قریب لانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ موجودہ صورتحال میں غلط فہمیاں دور کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن ایسی کشیدہ صورتحال میں حکومت کا مشیر برائے بین المذاہب ہم آہنگی مقرر کرنا اور مشیر کا یہ تاثر دینا کہ ’’اُن کے دوروں سے پاکستان، سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان غلط فہمیاں پیداہوگئی ہیں۔‘‘ قطعاً درست نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور سعودی عرب، یو اے ای کا دورہ کرکے ان ممالک کے تحفظات دور کریں۔ اگر وہ اس نازک صورتحال میں سعودی عرب اور یو اے ای کا دورہ کرتے ہیں تو اس سے بھارتی آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب اور یو اے ای کے اثرات زائل ہوں گے

بھارت کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کی تاریخ اِس قدر گہری ہے کہ وہ بھارتی آرمی چیف کے دورے سے ملیا میٹ نہیں ہوسکتی کیونکہ یو اے ای، سعودی عوام اور افواج کے دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں