بھارت کی امن دشمنی اور علاقائی استحکام 15

بھارتی امن دشمنی اور علاقائی استحکام

59 / 100

بھارتی امن دشمنی اور علاقائی استحکام
جنوبی ایشیا میں ایک طرف پاکستان افغان امن کے لئے تاریخی کردار ادا کرکے خطے میں پائیدار استحکام کے لئے کوشاں ہے‘ امریکہ طالبان معاہدے کے بعد بین الافغان امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لئے بھی حکومتِ پاکستان، افغان حکومت اور تحریکِ طالبان کی قیادت سے سرگرم رابطے میں ہے اور گزشتہ روز ہی وزیراعظم نے کلیدی طالبان رہنماؤں سے ملاقات میں خطے میں امن کیلئے پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے جبکہ دوسری طرف بھارت امن دشمنی میں تمام حدوں کو پھلانگتا چلا جارہا ہے۔ اِس کا ایک بدترین مظاہرہ گزشتہ روز کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی گاڑی پر حملے کی شکل میں پوری دنیا نے دیکھا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق بھارتی فوج نے چڑی کوٹ سیکٹر میں اقوامِ متحدہ کی گاڑی کو بلااشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا جس میں موجود دو فوجی مبصر فائر بندی کی خلاف ورزی کے شکار افراد سے ملاقات کرنے پولس گاؤں جا رہے تھے۔ بھارتی فوج کی گولیاں گاڑی کو لگیں لیکن خوش قسمتی سے مبصر محفوظ رہے۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی گاڑیاں دور ہی سے پہچانی جاتی ہیں لہٰذا یہ باور کیے جانے کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ کارروائی کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہوگی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اِس واقعے کو بجا طور پر اقوامِ
متحدہ کے چارٹر اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بھارتی فوج کنٹرول لائن پر شہری آبادی کو آئے دن جارحیت کا نشانہ بناتی رہتی ہے اور عالمی برادری اُسے روکنے میں کوئی مؤثر کردار ادا کرنے میں قطعی ناکام رہی ہے۔ اِسی کا نتیجہ ہے کہ اب اُس نے براہِ راست اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو نشانہ بنانے کی کوشش کرکے تنازع کشمیر کے حل کی برائے نام کوششوں کو بھی برملا چیلنج کیا ہے۔ مودی حکومت کا امن دشمنی میں اِس حد تک آگے بڑھ جانا پوری عالمی برادری کے لئے کھلا انتباہ ہے کہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا گیا تو کسی بھی وقت خطے اور نتیجتاً پوری دنیا کا امن تہ و بالا ہو سکتا ہے۔ مکروہ بھارتی عزائم سے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز ابو ظہبی میں کی گئی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کی تیاری کر رہا ہے۔ اُنہوں نے صراحت کی کہ پاکستان بھارت کی سازشوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور بھارت نے کوئی کارروائی کی تو اُسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ وزیر خارجہ نے اِس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک پر بھی تشویش کا اظہار کی۔ وزیراعظم کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے بھی بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے قابلِ اعتماد معلومات کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہوئے امن قائم رکھنے کو بالکل درست طور پر پوری دنیا کی اجتماعی ذمہ داری قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو خطے میں عدم استحکام کی کوششوں سے روکے۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے معتبر شواہد کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کیلئے بھارتی تیاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ اِس مقصد کے لئے مودی حکومت بعض بیرونی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ پاک فوج اور حکومت کے اِن سب نمائندوں نے یہ حقیقت بھی واضح کی ہے کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا گیا تو اِس کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔تاہم عالمی برادری کو بہرحال اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ جنوبی ایشیا کی ایٹمی طاقتوں میں تصادم پوری دنیا کے امن کے لئے آخری حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا مودی حکومت کو کسی تاخیر کے بغیر لگام دی جانی چاہئے۔ ایسا نہ کیا گیا تو افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور مستقبل کے لئے متفقہ نظام کی تشکیل کی کوششیں بھی یقیناً متاثر ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں