بڑی ناکامی سے بڑی کامیابی کیسے جنم لیتی ہے؟ 15

بڑی ناکامی سے بڑی کامیابی کیسے جنم لیتی ہے؟

59 / 100

بڑی ناکامی سے بڑی کامیابی کیسے جنم لیتی ہے؟
ڈاکٹر شائستہ جبیں
زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ انمول اور سب سے قیمتی نعمت ہے۔ اس کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونا انسان کا حق ہے۔
زندگی کے ہر ہر لمحے سے لطف کشید وہی کر سکتا ہے جو زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کی ہمت کرتا ہے، جو کولہو کے بیل کی مانند ایک ہی دائرے کے گرد نہیں گھومتا، بلکہ زندگی کی وسعتوں سے آگاہی حاصل کر کے نت نئے تجربات کرتا ہے اور خود کو قلبی و روحانی خوشی سے ہم کنار کرتا ہے۔ ایک ہی طرزِ زندگی اور یکسانیت انسان کو بوجھل اور رنجیدہ کر دیتا ہے۔
روزانہ ایک ہی گھر میں اْسی کمرے میں جاگنا، وہی کپڑے پہننا، اْسی سواری پر اسی ملازمت پر جانا ایک عام روزمرہ معمول ہے لیکن کبھی کبھی اپنے آرام دہ خول سے باہر نکل کر کچھ نیا اور اچھوتا کرنا آپ کو دلی اور روحانی خوشی سے ہم کنار کرتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ ایک ہی معمول کے تحت زندگی گزار دیتے ہیں اور اپنی بے زاری، سستی سے نجات کے لیے جرات مندانہ اقدام کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے۔
ملازمت چھوٹ جانا ، گھر سے بے گھر ہونا، خاوند سے علیحدگی ہو جانا، کسی حادثے کا شکار ہونا ان سب میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جسے آپ زندگی اور اس کی امنگوں کا اختتام قرار دے کر مایوس ہو کر بیٹھ جائیں ۔ مشکلات ہمیں مایوس کرنے کو نہیں بلکہ زندگی کے نئے اور اچھوتے پہلوؤں سے روشناس کرانے آتی ہیں۔ مشکل وقت زندگی کا اختتام نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات نیا آغاز ہوتا ہے۔
بس اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور ہر اندھیری رات کے بعد اجالا ہوتا ہے۔ خطرات سے کھیلنا اور زندگی کے دئیے گئے امتحانات کو قبول کرنا نہ تو ہر ایک کے بس کی بات ہوتی ہے اور نہ ہی ہر شخص اس امتحان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کامیابی انہی کے لیے ہے جو کامیاب ہونے کی ٹھان لیتے ہیں۔ ہمارے اردگرد دنیا میں مختلف لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات نے کیسے ان کی زندگیوں کا رخ بدلا، آئیے! چند مثالوں کے ذریعے جانتے ہیں:
فراز صاحب کو تریپن سال کی عمر میں ایک ریستوران کی بہترین انتظامی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ وہ جانتے تھے کہ اس عمر میں کوئی نئی اور اچھی ملازمت حاصل کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ سے اپنا ریستوران بنانے کے خواب دیکھتے تھے، ملازمت سے فارغ ہونے پر انہیں پھر اس دیرینہ خواب نے ستانا شروع کر دیا ۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ وہ کسی نمایاں جگہ پر کوئی چلتا ہوا ریستوران لینے کے خواہشمند تھے تا کہ انہیں اس عمر میں صفر سے آغاز نہ کرنا پڑے اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ تھی کہ اس سب کے لیے ان کے پاس کوئی سرمایہ نہ تھا۔
خوش قسمتی سے انہیں اپنے گھر سے ذرا سے فاصلے پر ایک ایسا ریستوران مل گیا، جس کا مالک اپنے معاشی بحران کی وجہ سے چلتا کاروبار بیچنے کا خواہش مند تھا۔ ہمیشہ سے اپنے ہوٹل کا خواب دیکھنے کے باوجود انہوں نے اس مقصد کیلئے کوئی سرمایہ محفوظ نہیں کیا تھا (آپ خواب دیکھتے ہیں تو ان کو پورا کرنے کی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ سرمایہ بھی محفوظ کریں، تاکہ زندگی اگر کبھی خواب کی تکمیل کا موقع دے تو سرمایہ کی کمی کی وجہ سے خواب ادھورا نہ رہے) ۔
فراز صاحب کے دوست احباب اور اہل خانہ اس موقع پر ان کے کام آئے اور انھیں سرمایہ فراہم کیا، یوں انھوں نے ریستوران خرید کر اسے ازسرنو ترتیب دینے میں اپنی ساری صلاحیتیں وقف کر دیں۔ انہوں نے نام سے لے کر کھانے کا مینیو، بیٹھنے کی ترتیب اور تزئین و آرائش نئے سرے سے کی، ہوٹل کی ظاہری وضع بدلنے میں ان کی بیوی نے اپنی حسِ آرائش کا بھرپور استعمال کیا۔ ان خوبصورت تبدیلیوں کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد ریستوران کی طرف متوجہ ہوئی ۔ دو سالوں میں انہوں نے نہ صرف سارا قرض چکا دیا بلکہ نفع بھی کمانا شروع ہو گئے۔ آج انہیں اس ریستوران کو کامیابی سے چلاتے اٹھارہ سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور وہ بڑی کامیابی اور خوش اسلوبی سے اپنے ذاتی من پسند کاروبار کا لطف لے رہے ہیں ۔ وہ ملازمت چھوٹ جانے کو اس حوالے سے نعمت قرار دیتے ہیں کہ اگر ان کی ملازمت ختم نہ ہوتی تو وہ کبھی اپنا خواب پورا نہیں کر سکتے تھے۔
٭٭٭
عباس چالیس سال کی عمر میں پانچ فٹ چھ انچ قد کے ساتھ تین سو ساٹھ پونڈ وزن کے حامل ایک بھاری بھر کم شخص تھے۔ انھوں نے ایک سو اسی پونڈ سے زیادہ وزن ’’ نیند لانے کے مصنوعی طریقوں ‘‘ کے ذریعے کم کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ورزش، خوراک اور مشاورت بھی باقاعدگی سے حاصل کرتے رہے۔
ان کے مطابق زیادہ وزن ہونا صحت کے حوالے سے مشکلات کے ساتھ بہت سی معاشرتی مشکلات کا بھی حامل تھا۔ اس لیے انہوں نے وزن کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کیں، کیوں کہ وہ تمام عمر اداس، پریشان اور لوگوں کی ہمدردی اور ترس بھری نگاہوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اس قدر زیادہ وزن کے ساتھ وہ زیادہ وقت تک زندگی اور صحت کی نعمت سے لطف اندوز نہیں ہو پائیں گے اس لیے انہوں نے وزن کم کرنے کی کوشش کی۔
جب وہ وزن کم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو انہوں نے رہائشی عمارتیں بنانے سے متعلق اپنا کام ترک کر کے زیادہ وزن رکھنے والوں کی مدد کرنے کو زندگی کا مقصد بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ انہیں بتا سکیں کہ اگر آپ اپنی قوت ارادی کو مضبوط کر لیں تو وزن کم کرنا اتنا بھی مشکل کام نہیں ہے ۔ انہوں نے مصنوعی نیند کے ذریعے وزن کم کرنے کے طریقے میں مہارت حاصل کی اور ترغیباتی مقرر بن کر زیادہ وزن رکھنے والوں کو کی زندگی بدلنے کا عظیم کام شروع کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ آپ جس تکلیف سے گزر چکے ہوں، دوسروں کو اْسی تکلیف سے نجات کی تحریک دینا اور معاونت کرنا بہت سکون دیتا ہے ۔ متوازن وزن نہ صرف آپ کی جسمانی صحت کو ٹھیک رکھتا ہے بلکہ ذہنی کارکردگی کو بھی کئی گنا بہتر کرتا ہے ۔ ان کے مطابق بظاہر وزن کم کرنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر آپ مستقل مزاجی سے خوراک، ورزش کے حوالے سے احتیاط کریں تو یہ اتنا بھی مشکل نہیں ہے ۔
٭٭٭
علی کی عمر چالیس سال تھی جب ان کی چونتیس سالہ اہلیہ جگر کی ایک کمیاب بیماری کا شکار ہو کر جان سے گئیں ۔ ان کی شادی کو بارہ سال ہو چکے تھے اور وہ ایک دس سالہ بیٹی کے والدین تھے ۔ علی نصف شراکت داری میں ایک کامیاب کاروبار کے مالک تھے ۔ زندگی ہر لحاظ سے پرسکون اور آرام دہ تھی کہ اہلیہ کی بے وقت موت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ۔
علی کی کاروبار میں دلچسپی ایک دم ختم ہوگئی اور انہیں احساس ہوا کہ وہ کوئی اور ایسا کام کریں جس سے وہ اپنا غم بھلا سکیں ۔ انہوں نے اپنے کاروبار میں حصہ بھی اپنے شراکت دار کو فروخت کر دیا اور کچھ نیا اور تعمیری کرنے کی دھن میں لگ گئے۔ ایک دن انہیں خیال آیا کہ ان کی اہلیہ کی حسِ مزاح بہت شان دار تھی اور ساتھ گزارے سالوں میں اپنی اس صلاحیت کی وجہ سے خود بھی بہت خوش رہتی تھیں اور اپنے گھر والوں کو بھی بہت خوش رکھتی تھیں ۔
اگرچہ ان کی بیماری والے آخری تین سال انہوں نے بہت تکلیف برداشت کی، لیکن اس کے باوجود ان کی حسِ مزاح ویسی ہی تھی۔ اس سوچ کے ساتھ انہوں نے ’’ مزاح کے ذریعے طریقہ علاج ‘‘ میں مہارت حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ اب وہ اس طریقہ علاج کے حوالے سے لیکچرز دیتے ہیں، رضاکارانہ طور پر ناقابلِ علاج بیماریوں کا شکار لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔ مزاح کے ذریعے علاج کے طریقہ کار کی افادیت پر انہوں نے اپنی پہلی کتاب تصنیف کی جو بہت مقبول ہوئی اور دنیا کی نو مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا گیا ۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر آپ اپنی تکلیف کو دوسروں کی تکلیف دور کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں تو آپ کی اپنی تکلیف کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ دوسروں کو خوش کرنے سے ہی آپ حقیقی خوشی حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔
٭٭٭
بیالیس سالہ فرح اپنے شوہر کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے علیحدہ ہو کر دو بچیوں کی ذمہ داری اکیلی نبھا رہی تھیں ۔ وہ بہت اچھی ملازمت پہ تھیں لیکن ان کا افسر بہت تند خو اور گرم مزاج شخص تھا۔ شوہر سے علیحدگی کے دھچکے، بچیوں کی ذمہ داری، افسر کا نامناسب رویہ ان سب چیزوں نے فرح کی ذہنی اور جذباتی حالت کو صفر کر دیا تھا ۔
اپنے تکیف دہ حالات سے فرار کے لیے انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دیا اور اپنی بچت کے سہارے جنگل میں دریا کنارے ایک جھونپڑا کرائے پر لے کر زندگی کے ہنگاموں سے دور قدرتی نظاروں کے سنگ وقت گزارنے چل پڑیں ۔ انہوں نے نو ماہ وہاں گزارے، پہاڑوں پر چڑھائی کا شوق پورا کیا، مچھلیوں کا شکار کیا، کتابیں پڑھیں، مضامین لکھے اور خود کو زندگی کی دوڑ میں تازہ دم ہو کر شامل ہونے کو تیار کیا ۔
نو ماہ بعد انہوں نے نئی ملازمت اختیار کی لیکن قدرت کے قریب ہونے اور خود کو تازہ دم کرنے کے لیے ہر ماہ دریا کنارے سفر کا ارادہ کیا، ایسے ہی ایک سفر میں ان کی ملاقات اپنے موجودہ شوہر سے ہوئی جو ہوابازی سکھانے کے ماہر تھے، انہوں نے ان کے بچپن کا خواب ہوابازی سیکھنے کا پورا کیا۔
خاوند کی حوصلہ افزائی پر ہی انہوں نے آرائش حسن کی مصنوعات کا اپنا کاروبار شروع کیا جو تین سال کے قلیل عرصہ میں ایک نمایاں پہچان حاصل کرنے کے قابل ہو گیا ۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر وہ اپنے ذاتی اور ملازمت کے حالات سے دل برداشتہ ہو کر دریا کنارے چھٹی منانے نہ جاتیں تو نہ وہ اپنے شوہر سے مل پاتیں، نہ کاروبار شروع کر پاتیں اور نہ ہی اپنا بچپن کا جہاز اڑانے کا خواب پورا کر پاتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صفر سے دوبارہ آغاز کرنا آسان نہیں ہے لیکن بعض اوقات اپنی ذہنی اور جذباتی حالت کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایسے دلیرانہ اقدام ضروری ہو جاتے ہیں ۔
٭٭٭
ثنا کو ایک حادثہ میں ریڑھ کی ہڈی میں لگنے والی چوٹوں کی وجہ سے کئی ماہ تک بستر تک محدود ہونا پڑا ۔ وہ اپنے تمام کاموں کے لیے اپنے شوہر اور گھر والوں پر انحصار کر رہی تھیں ۔ یہ صورت حال عاجز کر دینے والی اور بیزار کن تھی ۔ بستر پر لیٹ کر ٹی وی ڈرامے، فلمیں دیکھ دیکھ کر وہ بری طرح تھک گئی تھی ۔ اسی بیزاری اور تھکاوٹ نے اسے کپڑوں کی ڈیزائننگ کی طرف متوجہ کیا۔ سارا وقت بستر پر لیٹے رہنے کی وجہ سے اسے اپنا آرام دہ لباس بھی غیر آرام دہ محسوس ہوتا تھا۔
اس کے خیال میں آرام دہ لباس کا کپڑا اور سلائی کا ڈیزائن ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے لباس تیار کرنے والے مختلف ماہرین کے ملبوسات دیکھے تا کہ وہ اپنے مطلوبہ آرام دہ ملبوسات حاصل کر سکیں لیکن وہ ناکام رہیں۔ وہ معاشی طور پر قابلِ استطاعت اور آرام کے تقاضوں کو پورا کرنے والا لباس چاہتی تھیں لیکن مارکیٹ میں موجود برانڈ ز بیک وقت یہ دونوں آسائشیں پوری کرنے سے قاصر تھے۔
انہوں نے اپنے ذہن میں موجود ایک آرام دہ اور جیب پر بھاری نہ پڑنے والے ملبوس کے لیے نظریات جب اہل خانہ اور دوستوں کے سامنے پیش کیے تو سب نے بہت پسند کیے اور انہیں خود ایسے ملبوسات تیار کرنے پر اکسایا۔ اس حوصلہ افزائی کے سبب انہوں نے اپنی پسند کے کپڑے اور قابلِ پہنچ قیمتوں کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا۔ وہ کہتی ہیں انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس خوفناک حادثے کے نتیجے میں وہ بستر تک محدود ہوتے ہوئے اپنا ذاتی کام شروع کریں گی اور وہ اتنی مقبولیت حاصل کرے گا ۔
یہ سب لوگ مختلف علاقوں، ممالک اور رسم و رواج سے تعلق رکھنے والے ہیں ۔ ان سب میں جو چیز مشترک ہے وہ مشکلات اور تکالیف پیش آنے پر ان کا رویہ ہے۔ ان سب نے کسی بھی مشکل کو زندگی کے اختتام کے طور پر نہیں لیا اور ہمت ہار کر مایوس ہو کر بیٹھ نہیں رہے، بلکہ مشکل کو ایک چیلنج سمجھ کر اس سے نکلنے کے راستے تلاش کیے ہیں اور اسی تلاش نے انہیں کامیابی کی روشن منزلوں تک پہنچایا ہے۔
ان حقیقی کہانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے، اس کی دی ہوئی صلاحیتوں پر اعتماد کر کے قدم اٹھانے والے زندگی کی مشکلات میں ناکام قرار نہیں پاتے۔ ان کا عزم، ہمت اور مسقل مزاجی انہیں کامیاب انسان بناتی ہے، جن سے مایوس اور ناکام لوگوں کو مشکلات پر قابو پانے کی ترغیب ملتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں