بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 13

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کی تفسیر

56 / 100

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کی تفسیر
بِ : سے اسْمِ : نام اللّٰهِ : اللہ ال : جو رَحْمٰنِ : بہت مہربان الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
بسم اللہ سورة نمل کی ایک آیت یا ؟
صحابہ نے اللہ کی کتاب کو اسی سے شروع کیا۔ علماء کا اتفاق ہے کہ آیت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سورة نمل کی ایک آیت ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ وہ ہر سورت کے شروع میں خود مستقل آیت ہے ؟ یا ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے جو اس کے شروع میں لکھی گئی ہے ؟ اور ہر سورت کی آیت کا جزو ہے ؟ یا صرف سورة فاتحہ ہی کی آیت ہے اور دوسری سورتوں کی نہیں ؟ صرف ایک سورت کو دوسری سورت سے علیحدہ کرنے کے لئے لکھی گئی ہے ؟ اور خود آیت نہیں ہے ؟ علماء سلف اور متاخرین کا ان آرا میں اختلاف چلا آتا ہے ان کی تفصیل اپنی جگہ پر موجود ہے۔ سنن ابو داؤد میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورتوں کی جدائی نہیں جانتے تھے جب تک آپ پر (بسم اللہ الرحمن الرحیم) نازل نہیں ہوتی تھی۔ یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے ایک مرسل حدیث میں یہ روایت حضرت سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے۔ چناچہ صحیح ابن خزیمہ میں حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بسم اللہ کو سورة فاتحہ کے شروع میں نماز میں پڑھا اور اسے ایک آیت شمار کیا لیکن اس کے ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ضعیف ہیں اسی مفہوم کی ایک روایت حضرت ابوہریرہ سے بھی مروی ہے۔ حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت ابوہریرہ ؓ ، حضرت عطا، حضرت طاؤس، حضرت سعید بن جبیر، حضرت مکحول اور حضرت زہری رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ بسم اللہ ہر سورت کے آغاز میں ایک مستقل آیت ہے سوائے سورة برات کے۔ ان صحابہ اور تابعین کے علاوہ حضرت عبداللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحاق بن راہو یہ اور ابوعبیدہ قاسم بن سلام رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ البتہ امام مالک امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں۔ کہ بسم اللہ نہ تو سورة فاتحہ کی آیت ہے نہ کسی اور سورت کی۔ امام شافعی کا ایک قول یہ بھی ہے کہ بسم اللہ سورة فاتحہ کی تو ایک آیت ہے لیکن کسی اور سورة کی نہیں۔ ان کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر سورت کے اول کی آیت کا حصہ ہے لیکن یہ دونوں قول غریب ہیں۔ داؤد کہتے ہیں کہ ہر سورت کے اول میں بسم اللہ ایک مستقل آیت ہے سورت میں داخل نہیں۔ امام احمد بن حنبل سے بھی یہی روایت ہے ابوبکر رازی نے ابو حسن کرخی کا بھی یہی مذہب بیان کیا ہے جو امام ابوحنیفہ کے بڑے پایہ کے ساتھی تھے۔ یہ تو تھی بحث بسم اللہ کے سورة فاتحہ کی آیت ہونے یا نہ ہونے کی۔ (صحیح مذہب یہی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کہیں قرآن پاک میں یہ آیت شریفہ ہے وہاں مستقل آیت ہے واللہ اعلم۔ مترجم)
بسم اللہ با آواز بلند یا دبی آواز سے ؟
اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ آیا اسے با آواز بلند پڑھنا چاہیے یا پست آواز سے ؟ جو لوگ اسے سورة فاتحہ کی آیت نہیں کہتے وہ تو اسے بلند آواز سے پڑھنے کے بھی قائل نہیں۔ اسی طرح جو لوگ اسے سورة فاتحہ سے الگ ایک آیت مانتے ہیں وہ بھی اس کے پست آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں۔ رہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ ہر سورت کے اول سے ہے۔ ان میں اختلاف ہے۔ شافعی رحمۃ اللہ کا مذہب ہے کہ سورة فاتحہ اور ہر سورت سے پہلے اسے اونچی آواز سے پڑھنا چاہیے۔ صحابہ، تابعین اور مسلمانوں کے مقدم و موخر امامین کی جماعتوں کا یہی مذہب ہے صحابہ میں سے اسے اونچی آواز سے پڑھنے والے حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عمر، ابن عباس، حضرت معاویہ ؓ ہیں۔ بیہقی، ابن عبدالبر نے حضرت عمر اور حضرت علی سے بھی روایت کیا اور امام خطیب بغدادی نے چاروں خلیفوں سے بھی روایت کیا لیکن سند غریب بیان کیا ہے۔ تابعین میں سے حضرت سعید بن جبیر، حضرت عکرمہ حضرت ابوقلابہ، حضرت زہری، حضرت علی بن حسن ان کے لڑکے محمد، سعید بن مسیب، عطا، طاؤس، مجاہد، سالم، محمد بن کعب قرظی، عبید، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، ابو وائل ابن سیرین کے مولیٰ زید بن اسلم، عمر بن عبدالعزیز، ارزق بن قیس، حبیب بن ابی ثابت، ابو شعثا، مکحول، عبداللہ بن معقل بن مقرن اور بروایت بیہقی، عبداللہ بن صفوان، محمد بن حنفیہ اور بروایت ابن عبدالبر عمرو بن دینار رحمہم اللہ سب کے سب ان نمازوں میں جن میں قرأت اونچی آواز سے پڑھی جاتی ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ ایک دلیل تو اس کی یہ ہے کہ جب یہ آیت سورة فاتحہ میں سے ہے تو پھر پوری سورت کی طرح یہ بھی اونچی آواز سے ہی پڑھنی چاہیے۔ علاوہ ازیں سنن نسائی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نماز پڑھائی اور قرأت میں اونچی آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں مشابہ ہوں۔ اس حدیث کو دار قطنی خطیب اور بیہقی وغیرہ نے صحیح کہا ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی میں ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا کرتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ایسی زیادہ صحیح نہیں۔ مستدرک حاکم میں انہی سے روایت ہے کہ حضور ﷺ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے۔ امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں