بوڑھے آدمی نے محنت کا پھل کیسے پایا 16

بوڑھے آدمی نے محنت کا پھل کیسے پایا

57 / 100

بوڑھے آدمی نے محنت کا پھل کیسے پایا
ان کی جگہ کے قریب مسجد سے یہ اعلان ہوا کہ کسی ماں باپ کا بچہ گم ہو گیا ہے اور جو کوئی اسے ڈھونڈ کر لائے گا اسے پچاس ہزار بطور انعام دیا جائے گا
محمد علیم نظامی
کسی جگہ پر دو بوڑھے آدمی رہتے تھے۔یہ بے چارے دونوں ایک جھونپڑی میں اس لئے رہتے تھے کہ بہت غریب تھے ان کی بیگمات اور بچے ان سے دور شہر میں رہتے تھے،روز روز کی لڑائی جھگڑے سے تنگ آکر ان دونوں بوڑھے آدمیوں نے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا۔
یہ دونوں اس لئے گھر سے جھونپڑی میں منتقل ہو گئے تھے تاکہ ان کا بڑھاپا تو آرام و سکون سے گزرے اور انہیں عمر کے آخری حصے میں کچھ تو اطمینان نصیب ہو۔یہ دونوں بوڑھے آدمی اس لئے بھی کوئی کام نہیں کرتے تھے کہ اس بڑھاپے میں اتنی سکت اور ہمت نہیں رکھتے تھے۔

ایک دفعہ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان کی جگہ کے قریب مسجد سے یہ اعلان ہوا کہ کسی ماں باپ کا بچہ گم ہو گیا ہے اور جو کوئی اسے ڈھونڈ کر لائے گا اسے پچاس ہزار بطور انعام دیا جائے گا۔

جب ان دونوں بوڑھے آدمیوں کے کانوں تک یہ اعلان پہنچا تو ان میں سے ایک نے بچہ ڈھونڈنے سے انکار کر دیا جبکہ دوسرے بوڑھے نے سوچا کہ اگر وہ بچہ ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا تو اس کے وارے نیارے ہو جائیں گے اور اسے اتنا بڑا انعام ملے گا کہ وہ اپنی باقی ساری زندگی سکھ چین سے گزار سکے گا۔

چنانچہ اگلے روز بوڑھا آدمی خود ہی بچہ ڈھونڈنے میں شہر جانے کی جدوجہد کرنے لگا اور بچے کو جھونپڑی سے لے کر شہر تک ہر جگہ تلاش کرنے لگا۔اس دوران دوسرا بوڑھا آدمی جھونپڑی میں ہی رہا اور وہ سوچنے لگا کہ اگر اس کا دوست دوسرا بوڑھا آدمی اپنی کوشش میں کامیاب ہو گیا تو وہ اپنا نیا گھر بسا لے گا مگر اسے ناکامی سے دو چار ہونا پڑے گا۔
دوسرا آدمی صبح سے لے کر شام تک بچے کو ڈھونڈنے میں لگا رہا اور بالآخر وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوا اور بالآخر بچہ اسے مل گیا۔وہ خوشی سے سرشار ہوا اور اس نے بچے کو گود لیا اور واپس اپنی جونپڑی میں آکر بچہ ماں باپ کے حوالے کیا۔

بچے کے ماں باپ نے وعدہ کے مطابق 50 ہزار روپے کا چیک بوڑھے کو دیا۔ بوڑھے آدمی نے 50 ہزار روپے پا کر اتنی خوشی کا اظہار کیا کہ جس کا کوئی حساب نہیں تھا۔بوڑھا 50 ہزار روپے پا کر واپس جھونپڑی میں گیا جہاں اس نے دیکھا کہ بوڑھا آدمی لیٹا ہوا تھا اور غالباً اسے کوئی قتل کرکے چلا گیا۔
جس آدمی نے انعام جیتا تھا وہ جھونپڑی سے نکل کر شہر کی طرف چلا گیا اور اس نے وہاں ایک گھر خریدا اور خوشی سے رہنے لگا۔بچو!اس طرح اُس نے محنت کی وجہ سے اپنی زندگی آسان بنا لی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں