جماعت اہل حرم پاکستان 21

بنیاد پاکستان

57 / 100

بنیاد پاکستان
مفتی گلزار احمد نعیمی
پاکستان کی بنیاد دین اسلام ہے.اس ملک کا قیام کلمہ لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کےنعرہ پرعمل میں آیا.تحریک پاکستان میں بچہ بچہ کی زبان پر یہ نعرہ رواں تھا.اگر ہم تحریک پاکستان کا مطالعہ کریں تو ہم اس حقیقت تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں کہ برصغیر پاک وہند پر انگریزوں کی حکومت کے خلاف عملی جہاد جن لوگوں نے کیا وہی پاکستان کے بانیان تھے.انگریز حکومت کے خلاف جہاد کا پہلا فتوی جس شخصیت نے دیا تھا وہ اہل سنت عظیم عالم حضرت مولانا علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمہ تھے.انکے فتوی کی بعض علماء نے حمایت کی اور برصغیر کےہی بعض علماء نے ڈنکے کی چوٹ پر مخالفت بھی کی تھی.اس فتوی کی مخالفت کرنے والے علماء ہی دو قومی نظریہ کے مخالف تھے.ان لوگوں نے فضل حق خیر آبادی کے فتوی کی مخالفت میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا. وہ علماء جو دوقومی نظریہ کے قائل تھے انہوں نے انگریزوں کے ساتھ جہاد کیا اور اہلیان برصغیر پر واضح کیا کہ ہندو اور مسلم دو الگ الگ نظریات ہیں اور دو الگ الگ قومیں ہیں.اگر ہندو اور مسلم کا فرق مٹ جائے توجہاد کا تصور بھی ختم ہوجائے گا. جہاد کس کے خلاف ہوگا?.جن لوگوں نے علامہ فضل حق خیر آبادی کے فتوی کی مخالفت کی وہ انگریز کے ساتھ کھڑے تھے.برصغیر میں ہندو مسلم قومیت کی وحدت کے قائل تھے.انکا نعرہ تھا” ہندو مسلم بھائ بھائ”مجھے حیرانگی بھی ہوتی ہےاور ہنسی بھی آتی ہے کہ جن کے اکابر نے ہندو مسلم بھائی بھائی کا نعرہ لگایا تھا.وہ آج “شیعہ سنی بھائی بھائی” کے نعرے کی نہ صرف مخالفت کرتے ہیں بلکہ یہ نعرہ لگانے والا سنی انکے نزدیک مسلمان نہیں ہے.
خدا بھلا کرے ان علماء کا جنہوں نے تحریک پاکستان کی حمایت کی اور قیام پاکستان کا سلوگن لا الہ الا اللہ رکھا.وہ علماء ومشائخ خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے دو قومی نظریہ کی آبیاری کی.وہ لوگ جو متحدہ قومیت کے قائل تھے ان میں سے بعض مسلم لیگ میں شامل ہوگئے کہ اگر اس جدجہد کے ذریعے پاکستان بن گیا تو ہم بھی پاکستان کے بانیان میں شامل ہوجائیں گےاور اگر نہ بنا تو کانگریس کے ساتھی تو ہم پہلے سے ہی ہیں.یعنی “سوار گرے تو ایک مزا گھوڑا گرے تو دو مزے”لیکن سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا اور سیدی علامہ سیدنعیم الدین مرادآبادی جیسے جلیل القدر علماء و مشائخ نے اہلیان برصغیر کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کی اور قیام پاکستان کی جدوجہد میں آخر دم تک شامل رہے.حتی سنی بنارس کانفرنس(27 اپریل,1946) میں یہ جذبہ اپنے شباب پر تھا.شرکائے کانفرنس ایسے پر عزم تھے کہ علی اعلان یہ کہہ دیا کہ اگر بالفرض محال مسلم لیگ قیام پاکستان کے مطالبے سے پیچھے بھی ہٹ گئی تو سنی اس مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہونگے.
میں آج پاکستان کی نوجوان سنی نسل سے مخاطب ہوں. آپ اپنے آباء کی قربانیوں کا مطالعہ کریں,برصغیر میں قیام پاکستان کی جدوجہد کا مطالعہ علامہ فضل حق خیرآبادی سے شروع کریں. آپکو پاکستان کی پوری کہانی تب سمجھ آئے گی.پاکستان ہمارا ہے,اسکی بنیاد کلمہ طیبہ ہے.یہ عشق کی بستی ہے.یہ محبت کی ریاست ہے.یہ کسی اور کے جیالوں کی نہیں صرف اور صرف مصطفے کریم علیہ الصلوہ والتسیلم کے جیالوں کی بستی ہے.اور
بستی بننا کھیل نہیں,بستے بستے بستی ہے.
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں