برکات نور محمدی ﷺ 25

برکات نور محمدیﷺ

7 / 100

برکات نور محمدیﷺ
حافظ محمد رحمان علی
(متعلم جامعہ نعیمیہ اسلام آباد)
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے بالواسطہ اپنے حبیب محمد ﷺ کا نور پیدا کیا۔ پھر اسی نور کو خلق عالم کا واسطہ ٹھہرایا اور عالم ارواح میں اس نور سراپا نور کو وصف نبوت سے سرفراز فرمایا۔ایک روز صحابہ کرام نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ کی نبوت کب ثابت ہوئی؟ آپ نے فرمایا
وآدم بین الروح والجسد
یعنی میں اس وقت نبی تھا جب آدم کی روح نے جسم سے تعلق نہ پکڑا تھا۔
اسی عالم میں اللہ تعالیٰ نے دیگر انبیاء کرام کی روحوں سے وہ عہد لیا جو واذ اخذا للہ میثاق النبین میں مذکور ہے ۔جس وقت ان پیغمبروں کی روحوں نے عہد مذکورہ کے مطابق حضور ﷺ کی نبوت و امداد کا اقرار کرلیا تو نور محمدی کے فیضان سے ان روحوں میں وہ قابلیتیں آگئی کہ دنیا میں اپنے اپنے وقت میں ان کو منصب نبوت عطا ہوا۔ پھر ان سے معجزات ظہور میں آئے اور اسی عہد کے سبب حضرات انبیاء کرام علیہ السلام اپنی اپنی امتوں کو حضور آخری الزمان ﷺ کی آمد و بشارت اور ان کی اتباع و امدا د کی تاکید فرماتے رہے۔اگر حضور ﷺ کی نبوت دنیا میں ظاہر نہ ہوتی تو تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی نبوتیں باطل ہو جاتیں اور تمام بشارتیں نا تمام رہ جاتیں۔ پس دنیا میں حضور اقدس ﷺ کی تشریف آوری نے تمام انبیاء کرام علیہ السلام کی نبوتوں کی تصدیق فرما دی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اپنے حبیب کے نور کو ان کی پشت مبارک میں بطور ودیعت رکھا۔اسی واسطے جب وہ حضرت حوا علیہا السلام سے مقاربت کا ارادے کرتے تو انہیں پاک و پاکیزہ ہونے کی تاکید فرماتے یہاں تک کہ وہ نور حضرت حوا علیہا السلام کے رحم پاک میں منتقل ہو گیا۔ایام حمل میں حضرت آدم علیہ السلام نے بپاس ادب و تعظیم حضرت حوا سے مقاربت ترک کر دی۔ یہاں تک کہ حضر ت شیث علیہ السلام پیدا ہوئے تو وہ نور ان کی پشت میں منتقل ہو گیا۔ یہ حضور کا معجزہ تھا کہ حضرت شیث علیہ السلام اکیلے پیدا ہوئے پھر آپ کے بعد جوڑا جوڑا پیدا ہوتا رہا۔اس طرح یہ نور پاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل ہوتا ہوا حضور ﷺ کےوالد ماجد حضرت عبد اللہ تک جا پہنچا اور ان سے بناء برقول اصح ایام تشریق میں جمعہ کی رات کو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کے رحم پاک میں متنقل ہوا ۔ اسی نور کے ذریعے حضرت محمد ﷺ کے تمام آباء و اجداد نہایت ہی حسین اور مرجع خلائق تھے۔اسی نور کی برکت سے حضرت آدم علیہ السلام ملائکہ کے مسجود بنے اور اسی نور کی برکت سے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان میں غرق ہونے سے بچی اور اسی نور کی برکت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آتش نمرود گلزار ہو گئی اور اسی نور کے طفیل سے حضرات انبیاء کرام علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی عنایات بے غائب ہوئیں۔
(سیرت رسول عربی )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں