sheikh jawad 16

برطانوی بریگزٹ کے پاکستان پر اثرات

59 / 100

برطانوی بریگزٹ کے پاکستان پر اثرات
شیخ جواد حسین
آخر47 سال بعد برطانیہ ایک مرتبہ پھر ”آزاد اور خود مختار“ ریاست بن کر دنیا کے نقشے پر نمودار ہو گیا، در حقیقت برطانیہ کی یورپ کے ساتھ ایک لمبی تاریخ ہے جو صدیوں پر محیط ہے جو کبھی جنگ تو کبھی عہدو پیماں، کبھی قربت و رفاقت تو کبھی نفرت و بیزاری کا مرکب ہے،ان تمام ادوار و لمحات میں برطانیہ بہت سے نشیب و فراز سے گزرا جس میں چرچل کے خون آلودہ برطانیہ سے لے کر بورس جانسن کے الگ تھلگ اور آزاد و تنہا برطانیہ تک کاسفرشامل ہے۔
2016ء میں ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد 52 فیصد برطانوی شہریوں نے یورپ سے علیحدگی اور 48 فیصد نے بریگزٹ کی مخالفت میں ووٹ دے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، مجھے ان سارے مراحل کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ میرے مشاہدے، تجزیے اور عوامی سرویز کے مطابق جن افراد نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا ان میں سے بڑی تعداد کو بریگزٹ کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں تھی۔کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ بریگزٹ کا مطلب غیر ملکی شہریوں کا برطانیہ سے مکمل انخلا ہے تو کچھ اس کو مسلمانوں کے برطانیہ سے نکالے جانے سے تعبیر کرتے رہے۔بہت سے پیچ و خم کے ساتھ یہ مرحلہ بھی مکمل ہو گیا اور اس معاملے کے مکمل ہوتے ہی برطانیہ و یورپ میں کہیں خوشیوں کے شادیانے بجائے گئے تو کہیں افسوس کا اظہار کیا گیا۔
برطانیہ کے یورپ سے علیحدگی اختیار کرنے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟یہ سوال بھی بہت اہم ہے چونکہ جس طرح اس کے اثرات باقی دنیا پر ہونگے اسی طرح پاکستان پر بھی بہت گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس وقت لاکھوں پاکستانی شہری برطانیہ میں مقیم ہیں اور پاکستان کی معاشی ترقی اور حالیہ کرنٹ اکاؤنٹ کے سر پلس ہونے کا انحصار بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم پر ہے اس لیے ان کے کاروبارو تجارت میں بہتری و تنزلی کے اثرات آنے والے چند سالوں میں پاکستان پر بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپ بھی پاکستان کے لئے بہت اہم تجارتی منڈی ہے، کیونکہ پاکستان کی برآمدات کا 21فیصد یورپی تجارت پر محیط ہے،پاکستان کے جی ڈی پی کا صرف7 فیصد ہی برآمدات سے حاصل ہوتا ہے جو پہلے ہی خوفناک حد تک کم ہے۔ حالانکہ پاکستان کو جی ایس پی سٹیٹس بھی2013ء میں مل چکا ہے، جس کے بعد پاکستان کی برآمدات 6.21 بلین سے بڑھ کر سال 2014ء تک 7.54 بلین تک بڑھ گئی تھیں، 2015ء میں برآمدات دوبارہ گر کر 6.67 بلین ڈالر تک جا پہنچیں۔ حال ہی میں ٹرینڈ اکا نومی کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی برآمدات 2019ء میں 117 بلین ڈالر تک بڑھ چکی ہیں جو گزشتہ سال کی 23 بلین ڈالر کے مقابلے میں بہت بڑی کامیابی ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ بریگزٹ کے بعد پاکستان اپنی برآمدات کو مزید بڑھا پائے گا؟ یا اس میں کمی واقع ہو گی جیسا کہ پہلے چند سالوں میں ہوتا آیا ہے۔
پاکستان کو معاشی معاملات میں خود انحصاری کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں، یہ سب کچھ تجارتی و سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔پاکستانی طلبہ جو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے برطانیہ سفر کرتے ہیں اُن کو اب برطانیہ کی نئی پالیسیوں کو مد نظر رکھنا ہو گا۔ اس کے بعد اسلاموفوبیا کے پیش نظر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں و مسلمانوں کی زندگیوں میں کسی حد تک تبدیلی آنے کی شنید ہے،کیونکہ یوروپین ہیومن رائیٹس قوانین کسی حد تک اس معاملے میں ڈھال کا کردار ادا کر رہے تھے، اُمید ہے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں گے، مگر بہت سے پاکستانیوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، کیونکہ یورپی اقوام کے برطانیہ میں کم ہونے کی وجہ سے برطانیہ کا مختلف اقوام کے ساتھ مل کر رہنے والا مزاج نئے قوانین کی وجہ سے تبدیل ہونے کا اندیشہ ہے، مگر ایسا ہوا بھی تو اس میں شاید کئی سال درکار ہوں مگر مسلمانوں کے لئے بہت بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کے مثبت پہلوؤں کی طرف دیکھا جائے تو پاکستان کو بھرپور فائدہ اْٹھانا چاہیے، کیونکہ اب برطانیہ کے ساتھ تجارت و دیگر معاملات میں تعلقات بڑھانے کے لیے یورپ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں رہی۔ پاکستان برطانیہ کے ساتھ بھرپور اعتماد سے معاہدے اور دیگر معاملات کر سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ، چین و روس کے بعد برطانیہ اور جرمنی انٹرنیشنل معاملات میں خاصی اہمیت کے حامل ملک ہیں۔اس وقت پاکستان برطانیہ کا اثرو رسوخ استعمال کرکے مسئلہ کشمیر کو حل کروا سکتا ہے۔برطانیہ کی حمایت اور برطانوی تجارتی منڈیوں تک رسائی پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتی ہے،اس ضمن میں پاکستان کو ترکی سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ابھی حال ہی میں برطانیہ نے ترکی کے ساتھ کئی ملین پاؤنڈز کے تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جو برطانیہ و ترکی کے تعلقات میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت برطانیہ نئے معاہدوں اور تجارتی ڈیل کا متلاشی ہے پاکستان کو اس وقت جب لوہا گرم ہے ضرب لگا کر برطانوی حکومت سے تجارت،عالمی مسائل، پاکستانی طلبہ کی تعلیم اور دیگر معاشی معاملات میں تعلقات کی بہتری پر گفتگو کا نئے سیٹ اپ میں نئے سِرے سے آغاز کرنا چاہیے، کیونکہ موجودہ حالات میں کیے گئے معاہدوں و تعلقات کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں