برآمدات میں اضافہ 109

برآمدات میں اضافہ

56 / 100

برآمدات میں اضافہ
چوالیس ہزار ارب روپے کے غیرملکی قرضوں تلے دبی قومی معیشت کو اِس وقت جس قدر توجہ اور آبیاری کی ضرورت ہے بلاشبہ اُس کا بڑا دارومدار براہِ راست اور بالواسطہ طور پر قومی خزانے میں آنے والی ترسیلاتِ زر پر ہے۔ اِن حالات میں حکومت کی نظروں کا برآمدی اور سمندر پار پاکستانی شعبے پر مرتکز ہونا ایک منطقی بات ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی معاشی ٹیم نے اِس کا ادراک کرتے ہوئے رواں مالی سال کا آغاز نہایت فعال حکمت عملی سے کیا۔ اُس کے نتیجے میں گزشتہ تین ماہ کے دوران ترسیلاتِ زر میں بتدریج اضافے کے ساتھ ساتھ سست رفتار برآمدی شعبے میں حرکت تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ وزارتِ تجارت کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستمبر اکتوبر کے بعد ماہ نومبر میں ٹیکسٹائل اور دوا سازی کے شعبوں میں 20فیصد اضافہ ہوا جبکہ چاول میں14، جراحی کے سامان میں11، جرابوں اور موزوں میں41، سویٹر جرسیوں میں21، خواتین کے ملبوسات میں11 اور مردوں کے کپڑوں کی برآمد میں 4.3فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ بحیثیت مجموعی جولائی سے نومبر تک برآمدات گزشتہ سال اِنہی مہینوں کے دوران 9ارب 53کروڑ 60لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 9ارب 73کروڑ 70لاکھ ڈالر پر پہنچیں۔ اضافے کی یہ شرح اگرچہ محض 2.11فیصد ہے تاہم یہ گزشتہ برسوں سے طاری برآمدی شعبے کا جمود توڑنے کے تناظر میں
حوصلہ افزا ضرور ہے۔ اِس ضمن میں حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج معیشت پر ضروری اور غیرضروری درآمدات کا بوجھ ہے جسے بہر صورت کم سے کم کرنا ہے۔ پاکستان انتہائی زرخیزی کا حامل زرعی ملک ہی جہاں ایسی فصلوں کی پیدوار کے نہایت کامیاب تجربے کئے جا چکے ہیں جن کی درآمدات پر کثیر زر مبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ان میں خوردنی تیل اور چائے سر فہرست ہیں اگر سنجیدہ اور مناسب حال توجہ دی جائے تو پاکستان اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں