Turkish government announcement on the Kashmir matter 14

’بحیثیت ترک قوم مظلوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے‘ ترکی کا واضح پیغام

7 / 100

’بحیثیت ترک قوم مظلوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے‘ ترکی کا واضح پیغام
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں پاکستان کے سفارتخانے کے زیر اہتمام مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجتی کے لئے ایک پروگرام منعقد ہوا، ترک پارلیمنٹ میں ترکی پاکستان دوستی گروپ کے چیئرمین علی شاہین اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
ڈپٹی ہیڈ آف مشن ارشد جان پٹھان نے صدر مملکت اور وزیر اعظم پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔ پاکستانی قیادت نے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کے حل ہونے تک کشمیری عوام کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔
ترک پارلیمنٹیرین علی شاہین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کو ایک جہنم بنا دیا گیا ہے اور یہ عالمی برادری کے لئے سوچنے کی بات ہے۔ علی شاہین نے مغربی دنیا سے اپیل کی کہ وہ اپنی خاموشی توڑے اور بھارتی مظالم کی چکی میں پس رہے کشمیری عوام کیلئے آواز اٹھائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحیثیت ترک قوم ہم مظلوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور جب تک مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے تحت پر امن طریقے سے حل نہیں ہوتا ترکی کی حمایت جاری رہے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکی میں پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی نے کہا کہ 27 اکتوبر کو “یوم سیاہ” کے طور پر منایا جاتا ہے ، 1947 میں اس دن بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر ظلم کی ایک لمبی رات کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔
سفیر نے کہا کہ مقبوضہہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کو ہندوستانی حکومت کی غیر قانونی کارروائیوں کے بعد ، بی جے پی حکومت کا مقصد متناسب خطے کی آبادکاری میں تبدیلی لانا ہے تاکہ آبادیاتی حملے کی شکل میں اپنے ’ہندوتوا‘ کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جاسکے۔ ہندوستان بین الاقوامی تنظیموں کو اپنے مقبوضہ علاقے تک رسائی کی اجازت نہیں دے رہا ہے اور اس نے حال ہی میں انگریزی زبان کے روزناموں ، ’’ کشمیر ٹائمز ‘‘ اور ’’ کشمیر نیوز سروس ‘‘ کے دفاتر کو سیل کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں