بجلی اور گھی 12

بجلی اور گھی: مزید مہنگے

57 / 100

بجلی اور گھی: مزید مہنگے
ادارتی نوٹ
گزشتہ دو برسوں کے دوران روزافزوں مہنگائی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اُس نے عوام کی زندگی میں بےشمار مشکلات پیدا کر دی ہیں جس سے اُس حکومتی نعرے کی نفی ہو رہی ہے جو پی ٹی آئی اقتدار میں آنے سے پہلے لگاتی تھی۔ اشیائے ضروریہ سمیت تمام اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ عوام کیلئے وبالِ جان بن چکا ہے۔ پہلے سے ہی مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کو اُس وقت مزید جھٹکا لگا جب یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے خوردنی تیل 19سے 27روپے فی لٹر اور گھی 20سے 22روپے فی کلو گرام مہنگا کردیا۔ اڑھائی ہفتے قبل بھی گھی، خوردنی تیل اور پام آئل کی قیمتیں بڑھائی گئی تھیں۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف برانڈز کے خوردنی تیل کی قیمت 296روپے سے بڑھ کر 323روپے اور 223روپے سے بڑھ کر 242روپے فی لٹر ہو گئی ہے، اسی طرح گھی کے مختلف برانڈز کی قیمت 230روپے سے بڑھ کر 252روپے فی کلو ہو گئی۔ پام آئل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گھی مل مالکان نے لاگت میں اضافے کو جواز بناکر کم ریٹ پر گھی اور کوکنگ آئل فراہم کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور خوردنی تیل کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ عوام ابھی اِسی صدمے سے نہیں نکل پائے تھے کہ نیپرا نے اکتوبر اور نومبر کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1روپے 6پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔ فی یونٹ اضافے کو رواں ماہ کے بلوں میں شامل کرکےوصول کیا جائے گا جس سے صارفین پر8 ارب روپے کا بوجھ پڑےگا۔حکومت کو جان لینا چاہئے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے غریب عوام کیلئے عرصۂ حیات مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ کم از کم اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو کم ترین سطح پر لائے ورنہ غریب عوام بھوک اور فاقوں کی نذر ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں