بابا جان کی نصیحت 100

بابا جان کی نصیحت

بابا جان کی نصیحت
اچھے بچے ایسا کام نہیں کرتے ہیں
سیدہ عروج فاطمہ․․․․ملتان
احسن کے امتحانات ختم ہو گئے تھے۔اس کے ابو اسے اپنے دوست کے گھر لے گئے،وہاں احسن نے ان لوگوں کی چیزوں کو چھیڑنا شروع کر دیا تھا۔
”محمود انکل!یہ گھر تو بہت خوبصورت ہے۔
یہ آپ نے کہاں سے لیا ہے؟“احسن نے شیشے کا بنا ہوا چھوٹا سا گھر اٹھانے کے بعد کہا۔
”بیٹا جب میں اٹلی گیا تھا،تب میں وہاں سے یہ لے کر آیا تھا۔“محمود صاحب نے احسن کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔کچھ دیر بعد احسن نے گھر میز پر رکھ دیا تھا اور پھر اس کا دھیان دوسری چیزوں کی جانب چلا گیا تھا۔

”یہ گلدان بھی بہت حسین ہے۔“احسن نے شیشے کا گھر میز پر رکھنے کے بعد گلدان اٹھا لیا تھا۔
”احسن بیٹا!چیزوں کو یوں اُٹھاتے نہیں ہیں۔

یہ کھیلنے کی چیز نہیں ہے،ٹوٹ جائے گا۔احسن کے ابو فارس صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

”بابا جان یہ مجھے بہت اچھا لگا ہے۔تھوڑی دیر بعد اسے اس جگہ پر رکھ دوں گا۔“
احسن کی بات سننے کے بعد اس کے ابو کو بہت افسوس ہوا کہ ان کے بیٹے نے ان کی بات نہیں مانی۔جب وہ دونوں گھر واپس آگئے ،تب احسن نے محسوس کیا کہ ابو اس سے زیادہ بات نہیں کر رہے ہیں۔

”بابا جان کیا آپ ناراض ہیں؟“
احسن نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
”بیٹا!جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو ان لوگوں کی چیزوں کو اٹھا کر دیکھنا اچھی بات نہیں ہوتی ہے۔سب یہی کہیں گے کہ احسن اچھا بچہ نہیں ہے،بہت شرارتی ہے۔
آپ کو میں نے ایسا کرنے سے منع بھی کیا لیکن آپ نے میرا کہنا نہیں مانا۔مجھے اس بات کا بے حد افسوس ہوا ہے۔“احسن کے بابا جان نے اسے وہ بات بتا دی تھی ،جس کی وجہ سے وہ خفا ہوئے تھے۔
”بابا جان آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔اس بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔
آپ نے مجھے بہت پیاری بات بتائی ہے۔پھر کبھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔“
احسن نے جو کہا تھا وہ کرکے بھی دکھایا۔اس کے بعد وہ جب بھی اپنے بابا جان کے ساتھ کسی کے گھر جاتا تو دوسروں کی چیزوں کو بس دور سے ہی دیکھ لیتا تھا۔

پیارے بچو!اس کہانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ کسی کی چیزوں کو اٹھانا اور پھر کھلونا بنا کر کھیلنا بری بات ہے۔چیزیں گر کر ٹوٹ سکتی ہیں اور اس طرح دوسروں کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔اچھے بچے ایسا کام نہیں کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں