Naseem Shahid 31

اے مرے چارہ گرو کچھ تو کرو

58 / 100

اے مرے چارہ گرو کچھ تو کرو
نسیم شاہد
حالات کس طرف جا رہے ہیں، کسی حکومتی شخصیت سے پوچھو تو وہ یہی کہے گی، یہ ڈاکو، لٹیرے، عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، سب جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے، لیکن زمینی حقائق تو کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ معاملہ رکنے والا نہیں،بلکہ اُس کی سمت اور شدت میں کچھ اور زاویے اور گہرائی کے آثار نمایاں ہیں، اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس میں جو سب سے بڑا دھماکہ کیا وہ یہ تھا کہ فروری میں جو لانگ مارچ ہو گا، وہ اسلام آباد جاتا ہے یا راولپنڈی اس کا فیصلہ ہم اُس وقت کریں گے۔ یہ شاید پاکستان کی سیاسی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی اتحاد نے یہ وارننگ دی ہے کہ ہم راولپنڈی بھی جا سکتے ہیں، آمروں کے ادوار میں بھی جو تحریکیں چلیں اُن میں جی ایچ کیو کی طرف جانے کی بات کبھی نہیں کی گئی۔ اُدھر وزیراعظم عمران خان یہ پوچھ رہے ہیں کہ اپوزیشن آرمی چیف سے یہ مطالبہ کس جمہوریت کے تحت کر رہی ہے کہ وہ ایک منتخب حکومت کو برطرف کر دیں۔اس کا جواب تو انہیں اپنے دھرنے میں تلاش کرنا چاہئے،مگر پی ڈی ایم کی طرف سے اب تازہ ترین بیانیہ یہ آیا ہے کہ ہم کٹھ پتلی وزیراعظم سے کوئی مطالبہ کرنے کی بجائے اُن قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں،جو اسے لائی ہیں اور اب پبلک میں جا کر اپنے اِس بیانے کو دہرائیں گے۔اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ حالات کی تلخی معاملے کو ایک تاریک راستے کی طرف لے جا رہی ہے۔یہ تو وہی بات ہے، جو نواز شریف نے گوجرانوالہ کے جلسے میں کہی تھی کہ ہمارا ہدف وزیراعظم ہے ہی نہیں، ہم تو اُن قوتوں کے خلاف ہیں، جو جمہوریت کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہیں، سارے فیصلے خود کرتی ہیں اور ایک ڈمی وزیراعظم کو آگے رکھا ہوا ہے۔

کسی کو یہ بات بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ جب اپوزیشن یہ مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کو لانے والی قوتیں پیچھے سے ہٹ جائیں تو اس سے ان کا مطلب کیا ہوتا ہے۔بالفرض محال وہ پیچھے ہٹ بھی جاتی ہیں تو کیا ہو گا؟ کیا وزیراعظم عمران خان اپنا بوریا بستر سمیٹ کر وزیراعظم ہاؤس سے باہر آ جائیں گے؟ یا اپوزیشن خود وزیراعظم ہاؤس کے اندر گھس کر انہیں باہر نکال دے گی۔ کیا ہم پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں یا پاکستان ایک سرزمین ِ بے آئین ہے کہ گڈے گڈی کی شادی جیسے عمل سے گزار کر حکومت ہٹائی اور بنائی جا سکے۔

اب یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ایک طرف اپوزیشن یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ اسٹیبشلمنٹ اور طاقتور حلقے جمہوری عمل میں مداخلت بند کر دیں۔ اپنے من پسند لوگوں کی سرپرستی چھوڑ دیں اور سیاست میں اپنا کردار ختم کریں۔ دوسری طرف انہی حلقوں سے یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ وہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو گھر بھیجیں، بیک وقت دوکام کیسے ممکن ہیں، آئین میں تو ایسی کسی صورت حال کی گنجائش نہیں، کہیں یہ نہیں لکھا کہ لانگ ماچ ہو گا تو حکومت ختم ہو جائے گی۔ کوئی مقتدر قوت کہے گی تو وزیراعظم مستعفی ہو جائے گا۔ فوج کے سربراہ سے توقع رکھی جا سکے گی کہ وہ جمہوری عمل کو اپنی چھڑی سے اِدھر اُدھر کر سکے۔ آئین تو واضح طور پر حکومت کی برطرفی کا ایک راستہ بتاتا ہے، تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم کی برخواستگی کی راہ دکھاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں اس کی طرف توجہ بھی دلائی گئی، لیکن لگتا یہی ہے کہ پی ڈی ایم کو ایسے کسی آئینی راستے سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ تحریک اس نکتے پر چلا رہی ہے کہ آئین کی بالادستی قائم کی جائے، مگر ریلیف ماورائے آئین مانگ رہی ہے۔ یہ تو بند گلی کا راستہ ہے اور بند گلی میں جب بھی یہ ملک پھنسا ہے کوئی نہ کوئی سانحہ ہوا ہے۔ آج خود اپوزیشن نے حالات اس نہج پر پہنچا دیئے ہیں کہ کل کلاں کسی غیر جمہوری عمل کے ذریعے جمہوریت ڈی ر یل ہوتی ہے تو وہ خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکے گی، مگر فی الوقت تو اس نکتے پر سوچنے کی کسی کے پاس فرصت تک نہیں ہے۔

اُدھر حکومت بھی لگتا ہے کہ معاملات کے آخری راؤنڈ تک جانے کا انتظار کر رہی ہے،اس بات سے بے خبر کہ اُس کی بے پروائی حکومت سے بڑھ کر جمہوریت کے لئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش بھی ایک پُر حجاب انداز میں کی جا رہی ہے۔ جیسے یہ کوئی شکست تسلیم کرنے جیسی صورت ہو،حالانکہ مذاکرات کے لئے پیش رفت کرنا ہمیشہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، کیونکہ اپوزیشن کبھی مذاکرات کی دعوت نہیں دیتی نہ ہی اُس کا اختیار ہوتا ہے۔ حکومت کا رویہ ٹھٹھہ مخول جیسا ہے۔ اُس کے وزیر و مشیر اپوزیشن کا مذاق اڑاتے ہیں اور ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے اس تحریک کا حکومت پر ذرہ بھر دباؤ نہیں، حالانکہ دن رات وہ اپوزیشن پر تنقید کرتے اور اُسی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ یہ حکومت کا غیر سیاسی اور غیر سنجیدہ رویہ ہی ہے جس کی وجہ سے اب پی ڈی ایم نے اپنے بیانیے میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا اور بات اسلام آباد سے راولپنڈی کی طرف موڑ دی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو لمحہ ئ موجود میں داخلی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔بھارت کی کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور وہ پاکستان کی سلامتی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایسے میں ملک کے اندر کوئی بھی سیاسی بحران ہمارے لئے بڑے سنگین مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔یہ موقع محمد علی درانی جیسے افراد کے ذریعے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا نہیں، بلکہ خود حکومت کو سامنے آ کر کھلے دِل سے مذاکرات کی پیشکش کرنی چاہئے۔اگرچہ پی ڈی ایم کہتی یہی ہے کہ مذاکرات کا وقت گذر چکا ہے، لیکن جب حکومت، بلکہ خود وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کو درپیش مسائل پر مذاکرات کی دعوت دیں گے تو برف ضرور پگھلے گی اور بڑے تصادم کی طرف بڑھتا ہوا ڈیڈ لاک بھی ختم ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں