ایک نیا عزم 68

ایک نیا عزم

57 / 100

ایک نیا عزم
سب لوگ سو رہے تھے،لیکن وہ اب بھی ایک موم بتی کی روشنی میں بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا۔
لائبہ شکیل،لاہور
رات تین بجے کا وقت تھا۔سب لوگ سو رہے تھے،لیکن وہ اب بھی ایک موم بتی کی روشنی میں بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا۔دل میں بہت سے مقاصد لئے محنت کرنے میں مصروف تھا۔یہ سکندر تھا جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔
اس کی عمر تقریباً پندرہ سال تھی۔اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا ،مگر اس کے پاس فیس کے لئے پیسے نہ تھے۔وہ اپنے ابا کے ساتھ سردار صاحب کے گھر ملازمت کرتا تھا۔سردار کا بھی ایک بیٹا تھا۔جس کا نام حیدر تھا۔وہ حیدر سے اس کی پرانی کلاسوں کی کتابیں لے کر پڑھتا تھا۔
اس طرح پانچویں جماعت تک تو پڑھ لیا،مگر آگے پڑھائی مشکل تھی۔اب حیدر کی کتابوں سے پڑھنا ناممکن تھا۔انہی سوچوں میں کب رات گزری پتا ہی نہیں چلا۔
اگلی صبح سکندر اپنے باپ کے ساتھ کام پر جانے کے لئے تیار ہوا۔

آج وہ کچھ اُداس سا تھا۔

کام میں بھی کچھ دل نہ لگ رہا تھا۔تب ہی سردار صاحب کا ایک دوست گھر آیا۔جب اس نے سکندر کو پریشان دیکھا تو اس سے وجہ پوچھی۔پہلے تو سکندر کچھ ہچکچایا،لیکن پھر سب کچھ کہہ ڈالا۔سردارصاحب کے دوست بولے:”بیٹا!وقت بدلتے پتا نہیں چلتا۔
کب لاٹھی کس کے ہاتھ میں ہو۔ایک وقت تھا کہ میں تمہاری جگہ میں موجود تھا۔“
یہ سن کر سکندر حیران ہو گیا۔
”ہاں بیٹا! ٰیہی سچ ہے! لیکن اس وقت ایک ہمدرد آدمی نے میری مدد کی تھی اور مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں بھی کسی ضرورت مند طالب علم کی مدد کروں گا۔
تو بیٹا! آج مجھے تمہاری صورت میں وہ ضرورت مند طالب علم مل گیا ہے۔اب تمہیں بھی مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا کہ تم بھی کسی ضرورت مند طالب علم کی مدد کرو گے۔“
یہ کہہ کر وہ سکندر کو لئے ایک سکول کی طرف بڑھے۔وقت نے کیسے پہیے لگائے پتا ہی نہیں چلا۔
آخر دس سال گزر گئے۔ایک بہت عمدہ اور چمک دار لباس میں ملبوس ایک شخص ٹیبل پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔جب اس کی نظر ایک بچے پر پڑی جو کہ کاغذ کے ٹکڑے اکٹھے کر کے انھیں پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔اس کی آنکھوں کی چمک نے اسے اپنا بچپن یاد کرادیا۔وہ آدمی سکندر تھا۔جب اس نے بچے کو دیکھا تو اسے سردار صاحب کے دوست سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا۔وہ اپنی ٹیبل سے اُٹھ کر بچے کے قریب پہنچا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں