ایک نئے انقلاب کا آغاز 410

ایک نئے انقلاب کا آغاز

ان دنوں ملی یکجہتی کونسل کے وفد کے ساتھ ایران میں ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ گویا اک نئے انقلاب کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس کی بنیادیں تو وہی ہیں، لیکن تیور کچھ بدلے ہوئے ہیں۔ رفتار کچھ تیز ہوگئی ہے۔ اثرات کا پھیلائو وسعت اختیار کر رہا ہے۔ چشمۂ زمزم جو امام خمینیؒ کے دور میں پھوٹا اور اب اس کا آب مصفیٰ زیادہ قوت اور زیادہ دبائو سے نکل رہا ہے۔ وفد جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں آیا ہے۔ اس میں پاکستان کے تمام مکاتب فکر کی نمائندگی موجود ہے۔ شیعہ ہیں، سنی (بریلوی) ہیں، سنی دیوبندی ہیں، اہل حدیث ہیں لیکن لگتا نہیں کہ مختلف ہیں۔ سب ایک ہیں اور ایک مکتب فکر اسلامی و انقلابی رکھتے ہیں اور وہ ہے نبی اعظمؐ کے نام کی دنیا بھر میں سربلندی اور قرآن و رسولؐ کے دشمنوں کے مقابل مل کر جدوجہد کرنے کا عزم۔

نیا انقلاب جنرل قاسم سلیمانی، ابو مہدی مہندس اور ان کے ساتھیوں کی شہادت سے شروع ہے۔ پہلا موقع ہے کہ کسی کے قتل ناحق کی ذمہ داری بلاواسطہ امریکی صدر نے قبول کی ہے۔ طاغوتی قوتوں کا سرغنہ جب خود کسی کے قتل کو اپنے ذمے لے تو پھر مقتول کی عظمت کا اندازہ تو لگایا ہی جاسکتا ہے۔ اگر عوامی ردعمل جو عراق، ایران اور دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے، رونما نہ ہوتا تو “اندازہ” کا لفظ مناسب ہوتا، لیکن امریکی استبداد اور ظلم کے خلاف عوامی سیلاب تو چشم فلک نے دیکھا اور ساری دنیا کو اس کی خبروں سے بھر دیا۔ ہمارے ساتھیوں میں اسلامی تحریک کے سیکرٹری جنرل عارف حسین واحدی، جمعیت علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل پیر سید محمد صفدر گیلانی، مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی، ہدیۃ الہادی کے نائب رہبر جناب رضیت باللہ، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے چیف آرگنائزر مولانا جناب مقصود احمد سلفی اور جمعیت علماء اسلام(سینیئر) کے جناب طاہر حبیب بھی ہیں۔ سب بدلی ہوئی دنیا کا تماشا کر رہے ہیں۔ حیرت خیز اور تعجب انگیز مناظر ہیں کہ آنکھوں میں ٹھہرتے جا رہے ہیں۔ انقلابی قائدین کی باتیں ہیں کہ حقائق کے پرت کھول رہی ہیں۔ قوم کا عزم ہے کہ سیل رواں کی شکل اختیار کرتے جا رہا ہے۔

تاریخ نے اتنا بڑا جنازہ پہلے کبھی نہ دیکھا تھا، جتنا بڑا جنازہ امام خمینیؒ کا تھا۔ ایک کروڑ انسان، ہاں ایک کروڑ یعنی دس ملین انسان تہران کی سڑکوں پر امنڈ آئے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ تاریخ پھر ایسے مناظر رقت بار، محلواز عشق اور تلاطم زانہ دیکھ پائے گی، لیکن شہید سردار قاسم سلیمانی اور ان کے ہم رزم دلاور ابو مہدی المہندس کے جنازوں نے ایک اور عظیم الشان تاریخ رقم کر دی۔ کاظمین، بغداد، کربلا، نجف، اہواز، مشہد، تہران، قم اور کرمان میں اڑھائی کروڑ انسانوں نے ان کے جنازوں میں شرکت کی۔ ہمارے ہاں جو لوگ “ملین مارچ” کا اعلان کرکے “ہزاروں کا جلوس” نکالتے ہیں، خدا جانے وہ کیا سوچ رہے ہوں گے اور کیا دیکھ رہے ہوں گے، لیکن حقیقت وہی ہے، جو کھلی آنکھوں نے دیکھی ہے اور شنوا کانوں نے سنی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا ملجا و ماویٰ سمجھنے والے دو ہزار یا اس سے کم تعداد میں جو ایرانی ان جنازوں کے بعد تہران میں باہر نکلے، انھیں مسٹر ٹرمپ نے “ایرانی عوام” قرار دیا۔ انسان دھوکہ کیسے کھاتا اور کیسے دھوکہ دیتا ہے، یہ حقیقت ٹرمپ کی اس فارسی ٹویٹ سے آشکار ہوگئی۔ پہلی دفعہ فارسی میں ٹویٹ اور فریب دہی اور فریب خوری کا بے مثال شاخسانہ۔ جواب… ہاں ٹرمپ کا جواب ایرانی عوام نے پھر دیا۔ ہم مشہد مقدس میں تھے کہ جمعہ کا دن آگیا اور معلوم ہوا کہ ایران کے روحانی پیشوا آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای آٹھ برس بعد تہران میں خود نماز جمعہ پڑھائیں گے۔ ایران کی فضائوں میں اس اعلان سے عجیب ارتعاش پیدا ہوا۔ ہمیں کئی مرتبہ تہران کی نماز جمعہ میں شرکت کا شرف حاصل ہوچکا ہے اور ہمیشہ لاکھوں خواتین و حضرات کو اس نماز میں حاضر پایا ہے، لیکن اب کے تو فضا ہی اور تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دسیوں لاکھ افراد اس نماز میں شریک تھے۔ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ اسلام کا عظیم الشان اجتماع جمعہ تھا۔

اس اجتماع کی خصوصیت یہ تھی کہ دنیا کے بہت سے خبر رساں ادارے بلاواسطہ خطبہ جمعہ کو نشر کر رہے تھے۔ ایران کے باہر بھی اس خطبے کو ڈائریکٹ سننے والے لاکھوں افراد تھے۔ ایران کے اندر بھی ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے لاکھوں لوگ ان خطبوں کو سن رہے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ ہم مشہد مقدس میں نماز جمعہ میں شریک تھے اور ہمارے بعض ساتھی اپنے موبائل کے ذریعے تہران کے خطبوں اور اپنے سامنے آیۃ اللہ سید احمد علم الہدیٰ کے خطبوں کو بیک وقت سن رہے تھے۔ اگر امام خمینیؒ کے دور میں ہونے والے عظیم اجتماعات جمعہ سے یہ اجتماع عظیم تر تھا تو ہماری یہ بات درست ثابت ہوتی ہے کہ ایک نئے انقلاب کا آغاز ہوگیا ہے۔ تیز رفتار انقلاب… اس لیے کہ ابھی چند روز پہلے ہی اہل تہران شہیدوں کے جنازوں میں شرکت کے لیے بے مثال طریقے سے باہر نکل چکے تھے۔ یہ انقلاب در انقلاب ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ایک دن آئے گا کہ دنیا کے سب بڑے طاغوت کی کوئی آنکھ پھوڑ دے گا۔ ہاں “عین الاسد” میں یہ آنکھ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت نے پھوڑ دی ہے۔ اب دجّالِ یک چشم پوری دنیا پر نمایاں ہوگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں