انیق بٹ 10

” ایک خزانے کی تلاش میں “

17 / 100

” ایک خزانے کی تلاش میں “
انیق بٹ
دیکھا جائے تو آج دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے اور خوشی حاصل کرنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے، لیکن حقیقی خوشی حاصل کرنے سے اکثر محروم رہ جاتا ہے کیونکہ وہ خوشی پانے کے اصل اسباب کو نظر انداز کر دیتا ہے اور مسبب الاسباب کی بجائے مادی اسباب کے پیچھے بھاگتا ہے۔ دنیا میں ہر شخص کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ راتوں رات کامیاب ترین شخص بن جائے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ہر جائز وناجائز کام کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے، لیکن وہ یہ بنیادی بات بھول جاتا ہے کہ ہر انسان کی کامیابی کے پیچھے اس کی برسوں کی جہد مسلسل اور اللہ کی رحمت شامل ہوتی ہے اور ان دونوں کے بغیر کسی بھی شعبہ زندگی میں کامیابی ممکن نہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ بغیر محنت کے کبھی کوئی شخص راتوں رات کسی اعلیٰ مقام، مرتبہ یا عہدہ پر نہیں پہنچ سکا۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص رات کو سوئے اور صبح کامیاب ترین انسان بن جائے۔چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں گھر سے نکلا، تھوڑی ہی آگے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے سائیکل پر ایک غریب آدمی اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف جا رہا ہے۔ میں کافی دیر تک ان کا پیچھا کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ خوشی کا تعلق دولت سے بالکل نہیں۔ شہرت حاصل کر کے انسان عارضی خوشی تو حاصل کر سکتا ہے، لیکن مستقل خوشی نہیں۔ شہرت کی وجہ سے مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بالخصوص ان لوگوں کو جن کو شہرت اچانک زمیں سے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دے۔
انسانیت کی خدمت کرکے انسان دلی سکون، اطمینان اور خوشی حاصل کرسکتا ہے۔ مثلاً عبدالستار ایدھی (مرحوم) ساری زندگی انسانیت کی خدمت کرتے رہے اور خوشی حاصل کرتے رہے اور اب ان کا بیٹا فیصل ایدھی بھی اپنے والد کا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے انہیں پوری دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ مخیر حضرات لنگر خانے اور ٹرسٹ ہسپتال چلا رہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو حقیقی طور پر دلی سکون پاتے ہیں،کیونکہ وہ اپنا مال و دولت اللہ کی مخلوق کی بھلائی اور بہتری کے لیے خرچ کرتے ہیں کچھ لوگ مساجد اور دینی مدارس بنا کر،ان کا نظام چلا کر یتیموں، غریبوں اور بیواؤں کی دعائیں لے کر دلی سکون حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ غریب طالب علموں کے تعلیمی اخراجات اٹھا کر دلی سکون حاصل کر رہے ہیں۔
ہر انسان کا ضمیر اس سے اچھے کاموں کے لیے اکساتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے۔ جو شخص ضمیر کی آواز پر کان دھر لے، خوشی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اسی طرح والدین اور اپنے بزرگوں کی عزت کرنے سے دنیا و آخرت میں خوشیاں اور آسانیاں حاصل ہوتی ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کرنے سے ہم اپنے موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے خوش رہنے کا طریقہ سیکھ جاتے ہیں، کیونکہ وہ ہمیں دولت کے پیچھے بھاگنے سے منع کرتے ہیں اور جو بھی اور جتنی بھی نعمتیں ہمیں میسر ہیں ان میں ہی خوش رہنے کا درس دیتے ہیں۔ظلم کے خلاف ڈٹ جانے اور مظلوم کی حمایت کرنے سے بھی ایک خاص قسم کی خوشی محسوس ہوتی ہے۔اور اس عمل سے دکھی اور لاچار لوگوں کے دل میں آپ کے لئے عزت و وقار بھی بڑھ جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے غریب بچوں کو بھیجا جاتا ہے، لیکن یہی بچے جب دینی مدارس سے حافظ یا عالم دین بن کر نکلتے ہیں تو معاشرے میں خصوصی طور پر ادب و احترام کے مستحق ٹھہرتے ہیں، اور ہر طبقے سے زیادہ دلی سکون حاصل کرتے ہیں کیونکہ یہ دینی علم حاصل کرنے کے بعد اسے پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
والدین وہ ہستی ہیں جو اپنا آج اپنی اولاد کے کل کے لیے قربان کر دیتے ہیں۔ اگر ہم والدین کی سچے دل سے اور عزت سے بات مانے اور ان کی خدمت کریں تو ہمیں دلی اور روحانی سکون اور خوشی تو ملے گی ہی، اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی خوشنودی بھی حاصل ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیاوی تعلیم حاصل کرنا بہت زیادہ ضروری ہے، کیونکہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے“
اس حدیث مبارکہ کے مطابق دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم حاصل کرنا بھی ہم پر فرض ہے۔ دینی تعلیم کی بدولت ہمیں والدین، بہن بھائی، اولاد اور عزیزواقارب وغیرہ کے حقوق کا علم ہوتا ہے۔ اور یہ حقوق پورے کرکے ہم دلی سکون حاصل کرتے ہیں۔ دینی تعلیم ہی کی بدولت ہم اللہ کی عبادت کرکے دلی سکون حاصل کرتے ہیں۔ پس ثابت یہ ہوا کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا راستہ ہی ہمارے لئے دنیاوی اور دینی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہے۔ اسی راستے پر چل کر ہم معاشرے میں عزت، احترام اور مستقل ذہنی اور دلی سکون حاصل کر سکتے ہیں۔
”یہ ایک ایسا خرانہ ہے جو نہ تو پہاڑوں کی اونچائیوں اور نہ ہی سمندروں کی گہرائیوں سے ملتا ہے،بلکہ ہمارے اندر کہیں دفن ہوتا ہے، اور اکثر لوگ اسے باہر تلاش کرتے کرتے اپنی قیمتی زندگیاں ضایع کر دیتے ہیں“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں