PM-Imran-Khan 104

ایوانِ بالا کا قبل از وقت الیکشن

58 / 100

ایوانِ بالا کا قبل از وقت الیکشن
منگل کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پارلیمینٹ کے ایوانِ بالا (سینیٹ) کی نصف نشستوں کے انتخابات کے حوالے سے جو دو فیصلے سامنے آئے، اُنہیں حتمی فیصلہ کہا جانا شاید درست نہ ہو۔ اِس باب میں حکومت کو ابھی الیکشن کمیشن سے رجوع کرنا اور سپریم کورٹ سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ سینیٹ کی 52نشستیں 12مارچ کو خالی ہونے والی ہیں اور سینیٹ الیکشن کے ذریعے جو نئے اراکین منتخب ہوں گے وہ اِن نشستوں کو پر کریں گے۔ اِس بار سینیٹ کے انتخابات اس اعتبار سے خاص اہمیت کے حامل ہیں کہ موجودہ ایوانِ بالا میں اپوزیشن کی نشستیں سرکاری بنچوں سے زیادہ ہونے کے باعث پی ٹی آئی حکومت کو کئی مواقع پر قوانین کی منظوری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت میں شامل پارٹیاں بڑی شدت سے 2021کے سینٹ الیکشن کا انتظار کر رہی ہیں کیونکہ پی ٹی آئی اور اتحادی پارٹیوں کو سندھ کی صوبائی اسمبلی کے سوا تمام ایوانوں میں اتنی نشستیں حاصل ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں عددی اکثریت ملنے کی قوی امید ہے۔ خیال ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد موجودہ حکومت کے لئے قانون سازی کا کام نسبتاً آسان ہو جائے گا ۔ اس کیفیت میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں شامل پارلیمانی پارٹیاں سینیٹ الیکشن سے قبل اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے ارادے ظاہر کر رہی ہیں جبکہ حکومتی حلقوں
کا دعویٰ ہے کہ مختلف اسمبلیوں سے دیئے جانے والے استعفوں کو منظور کر کے خالی نشستوں کو ضمنی انتخابات کے ذریعے پر کیا جائے گا۔ اِس کے جواب میں صوبہ سندھ کے ووٹروں کی عدم موجودگی میں آئینی بحران جیسی صورت کے اشارے دیے گئے۔ دونوں جانب سے قانونی موشگافیاں بھی جاری ہیں۔ اِس منظر نامے میں منگل کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دو فیصلے کئے گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کی بریفنگ اور باخبر ذرائع کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک فیصلہ سینٹ الیکشن فروری میں کرانے کا ہے جس کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا جائے گا۔ دوسرا فیصلہ سینٹ الیکشن میں سیکرٹ بیلٹ کی بجائے اوپن ووٹنگ کا طریقہ اختیار کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے ریفرنس کی صورت میں رہنمائی حاصل کرنے کا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اِس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ سینٹ انتخاب خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈز کے ذریعے کرائے جائیں۔ وزیر اطلاعات سینٹر شبلی فراز نے بھی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگتے ہیں،پی ٹی آئی نے اس معاملے میں 20ارکان صوبائی اسمبلی کو اپنی صفوں سے خارج کر دیا تھا۔ بریفنگ کے بموجب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انتخابات کے لئے قانونی اصلاحات کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ پورے انتخابی عمل کو شفاف بنانا ہے کابینہ کے اجلاس میں اٹارنی جنرل آ ف پاکستان خالد جاوید خان نے سینٹ انتخابات کے قانون پر بریفنگ میں آگاہ کیا کہ آئین پاکستان میں اوپن بیلٹ کی بظاہر کوئی ممانعت نہیں،تاہم ان کی سفارش تھی کہ معاملے کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر آرٹیکل 186 (مشاورتی دائرہ اختیار) کے تحت سپریم کورٹ کی رائے لینا مفید ہو سکتا ہے۔ سینٹر شبلی فراز کے مطابق اگر سندھ اسمبلی نہ بھی ہو تو سینٹ کے الیکشن ہو جائیں گے اِس باب میں جہاں تک قانونی پہلوئوں کا تعلق ہے ان پر بحث بھی ضروری ہے مگر کیا ہی اچھا ہو کہ کھنچائو اور تنائو کی کیفیت سے باہر آنے کی سعی کی جائے اور اپوزیشن سے مذاکرات کر کے سینیٹ الیکشن کی تاریخ اور طریق کار کا تعین کیا جائے۔ ملک کو درپیش چیلنج متقاضی ہیں کہ تمام حلقے قومی مفادات کو اپنی انائوں سمیت ہر چیز پر مقدم رکھیں۔ انتخابی اصلاحات اور شفافیت حکومت کی ہی نہیں، اپوزیشن کی بھی ضرورت ہے۔ اِس باب میں مل جل کر جو پیش رفت ہو گی وہ زیادہ بہتر نتائج کی حامل ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں