Suadia Arabia and Pakistan 17

ایف اے ٹی ایف: دفتر خارجہ نے سعودی عرب کے پاکستان کے خلاف ووٹ دینے کی خبروں کی تردید کر دی

46 / 100

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ سعودی عرب نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کی مخالفت کی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز (21 اکتوبر) انسدادِ منی لانڈرنگ کے عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف کے تین روزہ اجلاس کا آغاز ہوا ہے جو 23 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کیونکہ اس نشست کے دوران پاکستان کی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے شعبوں میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہو گا کہ آیا پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھا جائے یا نہیں؟
اگرچہ اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کوئی باقاعدہ اعلان تو اب تک سامنے نہیں آیا تاہم پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آج صبح سے یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ پاکستان کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششوں کو سعودی عرب کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس حوالے سے سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
جمعرات کو پاکستان میں ٹوئٹر پر اس حوالے سے چلایا جانے والا ٹرینڈ سرفہرست تھا اور صارفین اس پر اپنے اپنے تبصرے کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ٹوئٹر پر اس نوعیت کی اطلاعات سامنے آنے کے چند ہی گھنٹوں بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے ان خبروں کی ’پُرزور تردید‘ کی ہے۔
دفتر خارجہ نے اپنے ایک اعلامیے میں ان اطلاعات کو ’بے بنیاد اور غلط‘ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اجلاس کے اختتام پر (23 اکتوبر کو) ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ سامنے آئے گا۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب میں گہرے باہمی تعلقات ہیں اور اہم معاملات پر ہمیشہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو سپورٹ کیا ہے اور پاکستان کو برادر اسلامی ملک سے اپنے اس رشتے کی بہت قدر ہے۔
پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ ایسا اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان سے دہشتگردی میں ملوث گروہوں اور دہشتگردوں کی مالی اعانت ہو رہی تھی۔
ایف اے ٹی ایف کے ایک ذیلی ادارے اے پی جی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات پوری کرنے میں مصروفِ عمل ہے اور ٹیرر فننانسنگ کی روک تھام کے لیے 15 معاملات پر قانون سازی بھی کر چکا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چند سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ ادارہ پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں کیے جانے والے اقدامات سے زیادہ مطمئن نہیں۔
اگرچہ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے اس امر کی تردید کر دی گئی ہے تاہم ایف اے ٹی ایف یا سعودی حکومت نے اس پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
صحافی مبشر زیدی نے ٹویٹ میں سوال کیا کہ معلوم نہیں آج ایف اے ٹی ایف کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے، ووٹنگ تو کل ہونی ہے جس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب نے ہمارے خلاف ووٹ نہیں ڈالا۔
ٹوئٹر صارفین پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ’برادرانہ تعلقات، بھائی چارے اور دوستی‘ پر سوال اٹھاتے دکھائی دیے اور کچھ نے تو یہ تک کہہ ڈالا کہ کیا سابق آرمی چیف راحیل شریف کو سعودی ملٹری اتحاد کی سربراہی کی ذمہ داری چھوڑ کر ملک واپس نہیں آ جانا چاہیے۔
صارف حمزہ گیلانی کے لیے یہ ’خبر‘ بہت تکلیف دہ تھی کہ سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’ہم نے نصاب میں یہی پڑھا ہے کہ سعودی عرب ہمارا برادر ملک ہے لیکن ایسا نہیں ہے یہ بہت بڑا دھوکہ ہے۔‘
حرا نے لکھا کہ انھیں اس خبر پر صدمہ نہیں ہوا کیونکہ حالات ہمارے (پاکستان) لیے سازگار نہیں تھے۔ صارف عثمان ملک کو یہ تو معلوم ہے کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی جانب سے ووٹنگ کل ہی ہونی ہے تاہم انھوں نے جذباتی انداز میں ٹویٹ ضرور کی کہ ملائشیا اور سعودی عرب کا ووٹ پاکستان کے حق میں ہی ہو گا دوسری صورت میں وہ اسے پاکستانیوں اور مسلمانوں کے ساتھ ’دھوکہ‘ قرار دیتے ہیں۔
ٹرینڈ تو پاکستان میں چل رہا ہے لیکن ترکی کے ایک اکاؤنٹ نے بھی اس خبر کو درست سمجھ کر ایک ٹویٹ کر ڈالی اور کہا کہ سعودی عرب اپنے دوست ملک (پاکستان) کے ساتھ گیم کھیل رہا ہے۔ انھوں نے رائے دی کہ پاکستان کو اب سمجھ جانا چاہیے کہ اس کا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے۔
یاد رہے کہ اب تک پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات میں سے صرف 14 پر عمل کیا ہے۔ باقی رہ جانے والی 13 سفارشات کو پورا کرنے کے لیے رواں سال فروری میں ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو چار ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔
ان سفارشات پر عملدرآمد کی بنیاد پر ہی ایف اے ٹی ایف کسی ملک کو گرے یا بلیک لسٹ میں شامل رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں