ایران امریکہ کشیدگی 305

ایران امریکہ کشیدگی

1979ء میں جب روس نے حماقت کرتے ہوئے افغانستان پر حملہ کیا اس وقت ہم نے امریکہ کے پروپیگنڈے میں آکر تاریخ کی سنگین ترین غلطی کرکے امریکہ کا ساتھ دیااور روس کو افغانستان کی جنگ میں اس قدر کمزور کردیا کہ وہ ایک طرف تو پسپا ہوکر واپس چلاگیا تو دوسری طرف افغان جنگ کے اخراجات کے باعث معاشی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہوا۔ اس طرح دنیا سے ایک سپر پاور کا خاتمہ ہوگیا۔ اس سے قبل دنیا میں 2سپر پاورز امریکہ اور روس تھیں جو باہم دست و گریباں رہتی تھیں اور مسلمان ممالک کی جان چھوٹی ہوئی تھی لیکن روس کے ٹکڑے ہوجانے کے بعد سے امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور اور عالمی تھانیداربن چکا ہے۔ یہ منہ زور مسلمان دشمنی میں اندھا ہوکر ایک ایک کرکے مسلمان ممالک کا خاتمہ کرتا چلا جارہا ہے۔

حضور پاکﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ مسلمان ممالک کفار کے سامنے ایسے ترنوالا بنے ہوں گے جیسے دسترخوان پر سجا ہوا کھانا ۔ آپ جس چیز کو چاہیں کھالیں‘‘۔ صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا کہ یارسول اﷲﷺ کیا اس وقت مسلمان بہت کم ہوں گے؟ حضور پاک ﷺ نے فرمایا نہیں مسلمان تعداد میں بہت زیادہ ہوں گے لیکن آپس میں متحد نہیں ہوں گے‘‘۔

میرے خیال میں حضور پاکﷺ کی حدیث پاک میں جس وقت کی جانب اشارہ کیا گیا ہے وہ وقت آچکا ہے۔ مسلمان ممالک کفار کے سامنے دسترخوان میں سجا کھانا بن چکے ہیں اور باری باری کفار انہیں ترنوالا بنارہے ہیں کیونکہ ہم شیعہ‘ سنی سمیت تفرقوں میں تقسیم ہیں۔ حضور پاکﷺ سے ایک صحابیؓ نے دریافت کیا، یارسول اﷲﷺ لوگ نماز مختلف طریقوں سے پڑھتے ہیں،ان میں سے کس کی نماز قبول ہوتی ہے؟ جواب میں حضور پاکﷺ نے دریافت کیا کہ نماز کے دوران ان کا رخ کس جانب ہوتا ہے؟ صحابیؓ نے جواب دیا ،خانہ کعبہ کی طرف۔ حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا ’’سب کی نماز قبول ہوتی ہے‘‘۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلکی تفریق سے باہر نکل کر امت مسلمہ بن جائیں۔ مسلمانوں کے زوال کو عروج میں بدلنے کے لئے سعودی عرب کو امریکی دباؤ کو پس پشت ڈال کر تمام اسلامی ممالک کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرکے باہمی اتحاد قائم کرنا ہوگا۔یہ اتحاد قائم کرکے طے کیا جانا چاہئے کہ تمام مسلمان ممالک اپنی دولت مسلمان ملکوں خصوصاً پاکستان میں ہی لگائیں گے تاکہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان معاشی قوت بھی بن جائے جو معاشی بدحالی کے باعث مسلمانوں کی مؤثر پشت پناہی سے اس وقت قاصر ہے۔ سعودی عرب اسی لئے مسلمان ممالک کی قیادت کرے کیونکہ اس سرزمین پر اﷲ اور ہمارے پیارے نبیﷺ کا گھر ہے۔ ایٹمی قوت تو روس بھی تھا جس کے پاس سینکڑوں ایٹم بم تھے لیکن جب وہ معاشی طور پر کمزور ہوگیا تو سپر پاور نہ رہ سکا۔ اسی لئے مسلمان ممالک کا اتحاد قائم کرکے پاکستان کو معاشی طور پر طاقتور بنادیا جائے تو یہ بات طے شدہ ہے کہ پاکستان کے ہوتے ہوئے پھر کوئی مسلمانوں کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا کیونکہ پاکستان کے پاس جدید ترین اسلحہ اور دنیا کی بہادر ترین افواج بھی ہیں اور پاکستان ایک دلیر قوم ہے جو اسلام کی خاطر مر مٹنے کے جذبہ ایمانی سے سرشار ہے۔

اس وقت مسلمان ممالک کے سربراہوں کے ذہنوں میں یہ بات نقش ہے کہ ہم ہر صورت امریکہ کو اگر خوش رکھیں گے تو ہمارے اقتدار کے دورانیئے میں اضافہ ہوگا اور اگر ہم نے امریکہ کو ناراض کردیا تو ہمیں اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑیں گے اسی لئے مسلمان ممالک کے سربراہ اپنی دولت بھی امریکہ‘ برطانیہ اور یورپی ممالک میں خرچ کرتے ہیں۔ اگر کسی مسلمان ملک میں اچھی قیادت اقتدار میں آجائے تو امریکہ کا اولین ہدف ہوتا ہے کہ وہ اسے عوام یا اسی ملک کی فوج کے ذریعے ہٹادے یا پھر حملہ کرکے اس سربراہ کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق بھی ایک دلیر حکمران تھے ۔ جب ضیاء الحق نے امریکہ کی یہ تجویز مسترد کردی کہ افغانستان کا وجود ختم کرکے 3ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جائے جس کا ایک حصہ پاکستان‘ دوسرا حصہ ایران اور تیسرا حصہ تاجکستان کو دے دیا جائے تو امریکہ نے اپنے سفیر کی قربانی دیکر ضیاء الحق کو راستے سے ہٹادیا۔ اب ایرانی جنرل قاسم سلیمانی یمن‘ عراق میں مثبت موثر کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ایران سے تعلقات میں بہتری لانے میں موثر کردار ادا کررہے تھے اسی لئے انہیں شہید کیا گیا۔

امریکہ کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے کیونکہ امریکہ کے تمام تر فیصلے اور پالیسیاں خالصتاً مذہبی منافرت کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہیں اور مسلم دشمنی میں امریکہ اندھا ہوچکا ہے۔ ایران میں جب انقلاب آیا اور امریکی ایجنٹ ذلیل ہوکر ایران سے نکلا تو امریکہ کو یہ قبول نہیں تھا اسی لئے امریکہ نے امام خمینی کو مارنے کے لئے 2طیارے ایران بھیجے جو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ہوا میں آگ کی نذر ہوگئے۔ ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جب مسلمانوں کو خدائی مدد حاصل ہوئی اور کفار کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔امریکہ ایران کشیدگی کا پاکستان پر براہ راست اثر ہوتا ہے کیونکہ ہم پڑوسی ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اسی لئے امریکہ ایران جنگ سے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی لئے وزیراعظم نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو فوری طور پر ایران‘ سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ امریکہ ایران کشیدگی کا خاتمہ کرکے حالات کو امن کی طرف لے جانے میں پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرسکے اور خطہ ایک بار پھر جنگ کی طرف جانے سے بچ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں