ایرانیوں کا سخت انتقام یا اندھا انتقام 297

ایرانیوں کا سخت انتقام یا اندھا انتقام

ساری دنیا جانتی ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے، چھپائے بھی اب کچھ نہیں چھپتا، قاسم سلیمانی کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو ہم ایران کے 52 مقامات کو نشانہ بنائیں گے، اس اعلان کے بعد دنیا لرز رہی تھی کہ اب ایران کا کیا بنے گا، پھر دنیا نے دیکھا کہ ایران نے جب جوابی کارروائی کی تو مسٹر ٹرمپ اپنی دھمکی سے فوراً دستبردار ہوگئے۔ صرف یہی نہیں ہوا! حملے کے بعد مسٹر ٹرمپ All is well پر ڈٹ گئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی میزائل حملوں میں ایک آدمی بھی نہیں مارا گیا، لیکن اب آپ خود جاکر انٹر نیٹ پر آزاد ذرائع سے تحقیق کر لیجئے اور امریکی و مغربی میڈیا پر ہی نقصان اور ہلاکتوں کی تفصیلات دیکھ لیجئے۔ کیا ہم نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے کہ امریکی صدر جارحیت کے بعد عقب نشینی اور پسپائی کیوں اختیار کر لی!؟ بہرحال ہم سوچیں یا نہ سوچیں ایرانی قیادت نے امریکہ کے بارے میں بہت کچھ سوچ رکھا ہے۔ جیسا کہ پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں کہ اصل جنگ نفسیات کی جنگ ہوتی ہے، امریکی تھنک ٹینکس کوشش کرتے ہیں کہ دیگر اقوام کی نفسیاتی کمزوریوں کا مطالعہ کرکے ان سے فائدہ اٹھائیں، چنانچہ امریکیوں کے ایک فون سے ہمارے سمیت متعدد ممالک کی داخلہ و خارجہ پالیسیاں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

لیکن ایرانی قیادت اور تھنک ٹینکس یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر امریکیوں کے مقابلے میں ایک قدم پیچھے ہٹایا جائے تو وہ ہزار قدم آگے بڑھ جاتے ہیں اور ان کا ڈو مور کا تقاضا ختم ہی نہیں ہوتا۔ امریکیوں نے نفسیاتی جنگ کے طور پر قاسم سلیمانی کے قتل سے کئی ماہ پہلے یہ فضا بنانی شروع کر دی تھی کہ بس امریکہ اب ایران پر حملہ کرنے ہی والا ہے، لیکن ایران کے سپریم لیڈر نے ٹیلی ویژن پر دوٹوک الفاظ میں اپنی قوم سے کہا تھا کہ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے اور امریکہ ہم سے جنگ کی جرات نہیں رکھتا۔ وہ تقریر فارسی میں ابھی بھی انٹر نیٹ پر موجود ہے، محقیقین فارسی میں “مذاکره نخواهیم کرد۔۔۔” کو سرچ کرکے خود بھی سُن سکتے ہیں۔ اس سے ہم بخوبی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایرانی تھنک ٹینکس اور ایرانی قیادت کی پالیسیاں انتہائی شفاف، دوٹوک اور ٹھوس ہیں، جبکہ امریکی تھنک ٹینکس ڈراو اور کام چلاو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جو ڈر جائے اُسے دبوچ لیتے ہیں اور جو جواب دینے لگے، اس کیلئے نئی دھمکیاں تلاش کرنی شروع کر دیتے ہیں۔

قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ایران نے جو ان گنت فوائد حاصل کئے ہیں، ان میں سے اس وقت ہم اپنے قارئین کیلئے بطورِ نمونہ صرف چند ایک کا ذکر کر رہے ہیں:۔
1۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے دارالحکومت کہلانے والے امریکی اڈے کو نشانہ بنا کر ایران نے اپنے ارد گرد ساری عربی و عجمی ریاستوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایران کسی اندھے انتقام کا ارادہ نہیں رکھتا اور خطے میں جو ریاست ایران کو نہیں چھیڑے گی، ایران بھی اس پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی میزائلوں نے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ایران اتنا کمزور نہیں ہے کہ وہ سُپر پاور کہلوانے والے اپنے حقیقی دشمن کو چھوڑ کر کسی اور ملک پر حملہ کر دے۔ ان میزائلوں نے ایک پیغام امریکہ و اسرائیل کو دیا ہے، جو سخت انتقام اور نہ ختم ہونے والی جنگ کا ہے اور دوسرا پیغام عرب ریاستوں کو دیا ہے، جو صلح، دوستی، بھائی چارے اور محبت و اخوت پر مبنی ہے۔ یہ وہی پیغام ہے جو قاسم سلیمانی نے عراقی وزیراعظم کی وساطت سے سعودی عرب کو پہنچانا تھا، قاسم سلیمانی کو شہید کرنے کی ایک اہم وجہ یہ پیغام بھی تھا۔ استعماری طاقتیں یہ نہیں چاہتیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت ہو۔ چنانچہ قاسم سلیمانی کو شہید کیا گیا اور یوں جو پیغام قاسم سلیمانی کی زبانی سعودی عرب تک نہیں پہنچ سکا تھا، وہ پیغام قاسم سلیمانی کی شہادت نے پہنچا دیا۔ عرب ریاستوں کو اب تو یہ سمجھ جانا چاہیئے کہ انہیں ایران سے کوئی خطرہ نہیں اور یہ ساری غلط فہمیاں امریکہ و اسرائیل کی پھیلائی ہوئی ہیں۔

2۔ مسٹر ٹرمپ کے احمقانہ اعلانات، پھر بزدلانہ پسپائی اور میدانِ جنگ سے فرار نے ایرانی عوام کا اپنی قیادت پر اعتماد اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔
3۔ قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد امریکی صدر نے ایران کے 52 مقامات (جن میں حضرت امام رضاؑ کا مزار بھی شامل ہے) کو نشانہ بنانے کی جس آرزو کا اظہار کیا تھا اور جو دھمکی دی تھی، اس سے امریکہ اور ٹرمپ کے چہرے سے نقاب اتر گیا ہے اور ایک مرتبہ پھر ساری دنیا کو پتہ چلا کہ داعش اور دیگر دہشت گرد ٹولوں کے پیکر میں دراصل یہی امریکی تھنک ٹینکس کی فکر گردش کر رہی ہے۔ مسلمانوں کو ان کے ثقافتی اور تمدنی سرمائے سے محروم کرنا، یہ استعمار کی دیرینہ آرزو ہے۔ امریکہ کے چہرے سے نقاب ہٹانا بھی ایران کا ایک مقصد تھا، جس میں ایران اچھی طرح کامیاب ہوا ہے۔

4۔ مسلمانوں کی ہمتوں کو پسپا کرنے کیلئے دنیا بھر میں امریکہ، یورپ اور اسرائیل نے یہ تاثر دے رکھا تھا کہ مسلمان شیعہ اور سنی میں تقسیم ہیں، یہ کبھی بھی متحد نہیں ہوسکتے، لیکن قاسم سلیمانی کے عظیم الشان جنازے میں شرکت اور دنیا بھر میں سارے مسلمانوں کی طرف سے ہونے والے احتجاجی جلوسوں، تعزیتی بیانات اور غم و غصے کے اظہار نے اس پروپیگنڈے کا بھانڈا پھوڑ دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان آپ میں تقسیم نہیں بلکہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے فروغ سے ایران اپنے دشمنوں امریکہ و اسرائیل کے مقابلے میں مزید مضبوط ہوا ہے۔

5۔ قاسم سلیمانی کے واقعے کے بعد امریکہ سے نفرت میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ اب کسی کو اسرائیل، ٹرمپ، امریکہ یا امریکہ و ٹرمپ اور اسرائیل کا دوست کہنا گالی بن گیا ہے۔ یہ بھی ایران کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ ایران کے دشمنوں کو ہر جگہ انسانیت کا دشمن سمجھا جانے لگا ہے اور انہیں دنیا بھر میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔
6۔ ایران کا یہ کہنا کہ سارے اسلامی ممالک کے ذخائر ان کے عوام کی امانت ہیں، اس لئے امریکہ اسلامی دنیا کے ذخائر سے اپنا قبضہ ختم کرکے واپس چلا جائے۔ ایران کا یہ مطالبہ اب دنیا کے ہر مسلمان کا مطالبہ ہے ،جو کہ ایران کی تقویت اور مضبوطی کا باعث ہے۔
7۔ اب دنیا کو منہ دکھانے کیلئے امریکہ کے پاس جنگ اور مزید پابندیوں کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے، جبکہ ایرانیوں نے ان دونوں آپشنز کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا میں امریکہ کی عسکری حیثیت اور پابندیوں کے رعب و دبدبے کو شدید دھچکا لگا ہے، جبکہ ایران کو اپنی عسکری اور دفاعی طاقت کے اظہار کا ایک اچھا اور مناسب موقع ملا ہے۔

8۔ قاسم سلیمانی کی شہادت کی برکت سے امریکی و یورپی میڈیا اور اس کی کاپی پیسٹ کرنے والے دیگر ممالک کے ذرائع ابلاغ سرعام بے نقاب ہوگئے ہیں۔ جب ساری دنیا قاسم سلیمانی کے جنازے کے مناظر دکھا رہی تھی تو اس کے مقابلے میں ان ذرائع ابلاغ پر کہیں سے ایک تصویر لاکر لوگوں کو دکھائی جا رہی تھی کہ یہ دیکھ لیجئے کہ ایران میں کسی نے قاسم سلیمانی کی تصویر پھاڑ دی ہے۔ اسی طرح جب ساری امت مسلمہ اور خصوصاً ایرانی قوم امریکہ کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی تھی تو اس وقت یہ میڈیا ایران میں ایرانی قیادت کے خلاف خبریں گھڑ رہا تھا اور مسٹر ٹرمپ کہہ رہے تھے کہ ہم ایران میں حکومت کے مخالف مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ گویا ان کا میڈیا جو خبریں گھڑ رہا تھا، مسٹر ٹرمپ اپنے ٹویٹس کے ذریعے ان خبروں پر مہریں ثبت کر رہے تھے۔

حقیقتِ حال یہ ہے کہ آج بھی تہران میں کہیں پر مسٹر ٹرمپ کے ٹویٹس اور امریکی و یورپی ذرائع ابلاغ کے حکومت مخالف مظاہرین تو نظر نہیں آتے، لیکن اپنے ملک سے محبت کرنے والے اور اپنے سپریم لیڈر کے ایک اشارے کے منتظر اور سربکف بچے و بوڑھے ہر گلی کوچے میں نظر آتے ہیں۔ یہ ایران کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس نے قاسم سلیمانی کی شہادت سے استفادہ کرکے دفاع و سیاست، سائنس و ٹیکنالوجی اور علم و ہنر سمیت سارے میدانوں میں اپنی قوم کو از سرِ نو متحد اور منسجم کر دیا ہے۔ اگلی قسط میں ہم ان شاء اللہ ایرانیوں کے سخت انتقام کے تناظر میں اوریا مقبول جان اور ان کے افکار کے بارے میں بھی منصفانہ گفتگو کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں