اپنی زندگی میں توازن قائم کریں 10

اپنی زندگی میں توازن قائم کریں

61 / 100

اپنی زندگی میں توازن قائم کریں
حنا شہزادی
آج کل ہمیں چیزوں کو مینج کرنا نہیں آتا ہمیں اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ہم نے توازن کیسے قائم کرنا ہے جس کی بناء پر ہم اپنی زندگی میں ہونے والے واقعات سے مایوس ہو جاتے ہیں اگر کسی سے محبت کریں گے تو بے انتہاء۔۔۔ نفرت کریں گے تو بے انتہاء غصّہ بھی بے حد کریں گے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا ہمارے جذبات پہ بالکل بھی قابو نہیں ہے اور ان وجوہات کی بِنا پہ انسان ہمشہ خسارے میں رہتا ہے۔
اور سب سے بڑا خسارہ پتا ہے کیا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اور اس ڈر کی وجہ سے ہم اپنی زندگی میں کچھ کر نہیں پاتے ڈر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک فیزیکل دوسرا سائیکولوجیکل اگر آپ کچھ غلط کر رہے ہیں تو لوگ آپ کو ماریں گے۔۔۔ہر گز نہیں یہ ڈر نہیں ہونا چاہیے اب دوسرے ڈر کی بات کرتے ہیں ہمیں لوگوں کے رویوں سے ڈر لگتا ہے کیونکہ بیچینی کی وجہ سے ہی ہمارا دماغ ڈیفالٹ پر ہوتا ہے جس طرح موبائل کی تھیم ڈیفالٹ پر ہوتی ہے۔۔۔
انسان کو ڈر چیزوں سے نہیں نتائج سے لگتا ہے تو جب بھی کچھ کرنا ہو یا پریشانی ہو تو سوچئے کہ اس کا نتیجہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا تو ڈر ختم ہو جائے گا ہمشہ میکسیمم سوچئے ۔ ہمیں زندگی میں ہمیشہ لوگوں کہ اپروول کی ضرورت ہوتی ہے جس سے ہم اپنی پہچان کھونا شروع کر دیتے ہیں
ہر چیز اپنی جگہ پہ اچھی لگتی ہے ہر ایک کام اپنی حد میں رہ کے کرنا چاہیے نہ خود کو اتنا گراؤ کہ کبھی اٹھ نہ سکو نہ اتنی لمبی اڑان اڑو کہ تم ہر کسی کو اپنے سے کم تر سمجھو اور آج کل جو سب سے بڑا خسارہ ہے وہ محبت کی لت ہے۔
لوگوں سے محبت کرنے میں اور انکی ذات کا عادی ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ جب آپ محبت کرتے ہیں یہ اتنا نقصان دہ نہیں ہے جتنا عادی ہونا ہے۔ عادی ہونا ایک لت ہے ۔ اور لت ہمیشہ آپکو تکلیف دیتی ہے۔ کسی بھی طرح کا نشہ سب سے پہلے آپ سے آپکی ذات چھین لیتا ہے۔ ایسے ہی کسی انسان کا نشہ بھی آپ سے آپکا اپنا آپ چھین لیتا ہے۔اور سگریٹ نوشی اور باقی سب سے بھی زیادہ بڑا نشہ کسی انسان کا ہے۔ آپ اس پر انجانے میں اعتبار کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اس عام انسان کا ہونا بھی اتنا اہم ہو جاتا ہے کہ آپ اپنا خاص تباہ کردیتے ہیں۔ یہ چیز بہت نقصان دہ ہے آپکی صلاحیتیں سلب ہو جاتی ہیں۔ آپ سب میں ہوکر بھی تنہا ہوجاتے ہیں۔ آپ ایک منفی انسان بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ آپ خود پر یقین کھو دیتے ہیں۔ یہاں غلط کون ہے ؟ یہاں غلط آپ ہیں ۔
آپ کے غلط طرز عمل نے آپکو تکلیف دی ہے۔ دین ہمیں اعتدال کیوں سیکھاتا ہے ؟ کیونکہ اعتدال ہمیں یہ سب نہیں کرنے دیتا وہ ہمیں ضرورت کے تحت سلوک کرنا سکھاتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیشہ تمہارا من پسند انسان نہیں ہوگا اسکی برعکس بھی تمہیں پرسکون رہنا ہے۔ کیا آپکو سمجھ آتا ہے ؟ یہ جو ایمان والوں کی صفت ہے۔ والذین امنو اشد حبا للہ۔ یہ کیوں بتائی گئی ؟ جب آپ اللہ کو اپنی لسٹ میں حقیقتاً اوپر لے جاتے ہیں ۔ اور باقی ساری لسٹ نیچے رہ جاتی ہے پر اللہ اوپر آجاتے ہیں تو آپ کو کسی کی بھی لت نہیں لگتی۔ آپ ٹوٹتے نہیں۔ آپ انسانوں میں ذلیل نہیں ہوتے۔ اللہ کی محبت دیکھٔے وہ ہماری عزت نفس محفوظ کرتے ہیں اور ہم خود کو مجروح کرتے ہیں۔ اللہ نے آدم کی اولاد کو عزت دی۔ پر اولاد آدم خود پستی پر مائل ہو جائے تو اس میں کیا ہوسکتا ہے ؟تعلقات نبھائیں پر انکے تابع نہ ہوجائیں
خود کو دین کا تابع کریں اللہ کا تابع کریں اور کے رسول کا تابع کریں۔یہ آپکی تجارت ہے یہ آپکا سودا ہے اس سے کم تر کوئی تجارت نہیں ہوسکتی ہے۔
جب آپ حقیقتاً اللہ کے ہو جائیں گے یہ سارا جہاں آپکا ہو جائے گا۔ تعلق سوچ سمجھ کربنائیں کہیں یہ آپ کی ساری سوچ سمجھ ہی نہ خرید لیں ۔خود کو عادی کرنا ہے تو رب سے گفتگو کریں۔ تلاوتِ قرآن کریں۔ رسولﷺ کی سیرت کو اپنائیں نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریںہم اپنی عادتیں خود خراب کرتے ہیں انکو ٹھیک بھی ہم نے خود کرنا ہےمحبتوں میں حدیں اچھی لگتی ہیں ۔بس اللہ سے محبت بےحد اچھی لگتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں