PM IK cabinet meeting 85

آٹا، چینی کے بعد پاور اسکینڈل رپورٹ بھی وزیر اعظم کو ارسال

چینی اور آٹا اسکینڈل کے بعد پاور سیکٹر اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ بھی وزیراعظم عمران خان کو پیش کردی گئی، رپورٹ میں قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر پر ملکی تاریخ کی پہلی 278 صفحات پر مشتمل رپورٹ 9 رکنی کمیٹی نے تیار کی ہے ، کمیٹی نے پاور پلانٹس کے ساتھ کیے جانے والوں معاہدوں کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1994ء کے بعد آئی پی پیزمالکان نے350ارب روپے غیر منصفانہ طور پر وصول کیے، ٹیرف، فیول کھپت میں خرد برد، ڈالرز میں گارنٹڈ منافع خزانے کو نقصان پہنچانے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 فیصد منافع حاصل کرنے کے برعکس پاورپلانٹس سالانہ 50 تا 70 فیصد منافع کمانے میں ملوث ہوئے، جبکہ ہر پاور پلانٹ کی قیمت میں 2 سے 15 ارب روپے اضافی ظاہر کرکے نیپرا سے بھاری ٹیرف لیا گیا۔

انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف کول پاور پلانٹس کی لاگت 30ارب روپے اضافی ظاہر کی گئی، کمیٹی نے رپورٹ میں آئی پی پیز مالکان کیساتھ ’’ٹیک اور پے‘‘کی بنیاد پر کپیسیٹی پے منٹ کا فارمولہ ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں