انصاف اور امن چولی دامن ہیں 0

انصاف اور امن چولی دامن ہیں

59 / 100

انصاف اور امن چولی دامن ہیں
جس معاشرے میں انصاف مہنگا، مشکل یا بالکل ہی مفقود ہو اس معاشرے میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انصاف کا امتیازی اور دوہرا معیار بھی بد امنی اور بے چینی کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ جہاں انصاف ملنے کی بجائے خریدا جاتا ہو اور جہاں قانون کی مو شگافیاں انصاف کو اسقدر دشوار تر کر دیتی ہوں کہ اپنا مدعا بیان کرنے کیلئے بھی کسی نہ کسی وکیل کا سہارا لینا لازمی ہو جائے، وہاں اس بات کی توقع رکھنا کہ معاشرے میں رہنے والے افراد سکون کی نیند سو رہے ہونگے، دیوانے کا خواب تو ہو سکتا ہے، ہوشمندانہ نظیر نہیں کہلا سکتی۔
ملزموں کو شک کی بنیاد پر پکڑنے کے بعد، اول تو انھیں کسی عدالت میں پیش ہی نہیں کیا جانا، ان میں سے اکثر کو دوسری دنیا کی سیر کیلئے روانہ کر دینا جیسے واقعات اتنے عام ہو گئے ہیں کہ کوئی بھی شہری اپنے آپ کو محفوظ ہی نہیں سمجھتا۔ دوئم یہ کہ اگر کوئی خوش قسمت عدالت میں پیش کر بھی دیا جاتا ہے تب بھی 14، 40 اور 90 روزہ جسمانی یا عدالتی ریمانڈ در ریمانڈ کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ زندگی بھر جیل کی سختیوں سے اس کی جان چھوٹ کر ہی نہیں دیتی، حتیٰ کہ کچھ غیرت مند صدمے سے اور کچھ حد سے زیاد تشدد کے سبب ہلاک ہو کر ملک عدم روانہ ہو جاتے ہیں۔
عدالتیں جو بھی ریمانڈ کا وقت دیتی ہیں اس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا کہ اس مقررہ مدت میں ملزموں سے متعلق ثبوت اور حقائق جمع کئے جا سکیں لیکن مہینوں گزر جانے کے باوجود عدالتوں میں گرفتار ملزموں کے خلاف تحقیقاتی ادارے ثبوت تو پیش نہیں کرپاتے البتہ ان میں سے اکثر کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ عدالتوں تک ضرور پہنچ جاتے ہیں۔
ان ہی سب بے انصافیوں کی وجہ سے جو بات نوٹس میں آ رہی ہے وہ یہی ہے کہ عوام کی اکثریت نے عدالتوں میں جاکر انصاف مانگنے کی بجائے عدالتوں سے باہر ہی ہر قسم کے معاملات نمٹانے شروع کر دیئے ہیں اور یوں پورے پاکستان میں چوری چکاری، ڈاکا زنی اور قتل و غارت گری سے لیکر بیسیوں اقسام کے جرائم کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی عدالتوں سمیت تمام کے تمام قانونی ادارے اپنی اصلاح کی جانب توجہ دینے کیلئے تیار نظر نہیں آتے۔
نا انصافیوں کی تعداد اب اس قدر بڑھتی چلی جا رہی ہے کہ ملک کی چھوٹی عدالتیں ہوں یا اعلیٰ، اس بات کا اعتراف کرتی نظر آنے لگی ہیں کہ ہمارا عدالتی نظام ہو یا مقدمات کی تحقیقات کرنے والے ادارے، اپنی اپنی قانونی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہے ہیں اور قانون کے نام پر افراد کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جا رہی ہے، لہٰذا وہ ادارے جن کا کام جرائم پیشہ افراد کے خلاف ثبوت و شواہد اکھٹا کرنا ہے، انھیں قانونی طور پر دیئے گئے ریمانڈ پیریڈ میں اپنی تحقیقات کو بہر صورت مکمل کر لینا چاہیے۔
نیب کے حوالے سے جسارت اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ “نیب ملزمان کو حراساں اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے، ہر ریفرنس میں 90 روز کا ریمانڈ ظلم ہے۔ عدالت عظمیٰ میں نیب ملزمان کے خلاف ایک سے زائد ریفرنسز دائر کرنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیے کہ فوجداری مقدمات میں 40 روز سے زیادہ ریمانڈ نہیں مل سکتا، کیا تحقیقات کے لیے نیب افسر تربیت یافتہ نہیں؟”۔ جسٹس مظاہر علی اکبر کی یہ بات کتنی ہی قانونی ہی کیوں نہ ہو، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں نوے نوے دنوں کے ریمانڈ اور 90 دن کی مدت ختم ہونے پر مزید 90 دن کا ریمانڈ حاصل کرنے کی روایت نئی ہے، جس پر عدالت بر ہمی کا اظہار کر رہی ہے۔ کیا کراچی کے آپریشن کے دوران ہر گرفتار فرد کو 90 دن کیلئے نہیں اٹھا لیا جاتا تھا۔ کیا عدالت کے علم میں یہ بات نہیں کہ ریمانڈ 90 دن کا ہو، 40 دن کا ہو یا 14 دن کا، اٹھائے جانے والے ہر فرد کو چودہ چودہ، چالیس چالیس اور نوے نوے دن کرتے کرتے مہینوں اور برسوں قید میں رکھا جاتا ہے۔ اس میں ظلم کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود بھی ان کے خلاف تحقیاتی ادارے عدالتوں میں ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ماضی کے آصف علی زرداری اور حال کے میر شکیل الرحمن اس کی سیاہ ترین مثالیں ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ریمانڈ کا ہر پیریڈ مکمل ہونے کے بعد مزید وقت آخر عدالتیں دیا ہی کیوں کرتی ہیں۔ کیا عدالتیں تحقیقاتی اداروں کو اس بات کا پابند نہیں کر سکتیں کہ ان کو جو بھی حقائق جمع کرنے ہوں وہ مقررہ مدت ہی میں مکمل کریں ورنہ عدالت ملزموں کو باعزت بری کرنے کی پابند ہوگی۔ کیا اداروں کی ناکامیوں کی سزا بھی مجرم ہی کو دی جانی چاہیے۔
اگر قانون نے ہر جرم کی نوعیت کے اعتبار سے 14، 40 یا 90 دن کے ریمانڈ کی مدت مقرر کی ہے تو یہ مدت یقیناً بڑی سوچ بچار کے بعد ہی مقرر کی ہوگی بلکہ دی گئی۔ جب قانون سازوں نے ہر جرم کی نوعیت کے اعتبار سے تحقیات کا وقت مقرر کر دیا ہے تو پھر لازمی ہے کہ مقررہ مدت میں تحقیقات مکمل نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان کی کوتاہیوں کی سزا ملزمان کو نہ دی جائے۔
یہ بات طے ہے کہ جب تک عدل و انصاف کی ترازو کے دونوں پلڑے ظلم و زیادتی کو انصاف سے نہیں تولیں گے، معاشرے میں امن و سکوں کبھی قائم نہیں ہو سکے گا لہٰذا نہ صرف عدالتیں بلکہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے اس بات پر خصوصی توجہ دیں ورنہ جو حالات کافی حد تک قابو میں آ چکے ہیں، دوبارہ بے قابو بھی ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں